أبو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

نماز توبہ

مقالہ
Separator
مضمون دوسروں تک پہنچائیں
نماز توبہ

نماز توبہ

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

اللہ سبحانہ وتعالى کا فرمان ذی شان ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، قریب ہے کہ تمہارا رب تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسے باغوں مین داخل کرے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں۔

سورة التحريم: 8

سچے دل توبہ کرکے ایمان کی حالت میں صالح اعمال کرنے سے سابقہ گناہ بھی نیکیاں بھی بن جاتے ہیں:

مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

جس نے توبہ کی ، اور ایمان لے آیا، اور عمل کیے نیک عمل، تویہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جنکی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا، اور اللہ تعالى خوب بخشنے والا ، نہایت مہربان ہے۔

سورة الفرقان: 70

سچے دل سے توبہ کا عمل اللہ تعالى کو اس قدر محبوب ہے کہ نہ صرف اسکے سابقہ گناہ نیکیاں بن جاتے ہیں، بلکہ اگر اخلاص نیت ہو تو اسکی مسلسل توبہ آئندہ گناہوں کا بھی کفارہ بن جاتی ہے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:

إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا - وَرُبَّمَا قَالَ أَذْنَبَ ذَنْبًا - فَقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ - وَرُبَّمَا قَالَ: أَصَبْتُ - فَاغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَبُّهُ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا، أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَقَالَ: رَبِّ أَذْنَبْتُ - أَوْ أَصَبْتُ - آخَرَ، فَاغْفِرْهُ؟ فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا، وَرُبَّمَا قَالَ: أَصَابَ ذَنْبًا، قَالَ: قَالَ: رَبِّ أَصَبْتُ - أَوْ قَالَ أَذْنَبْتُ - آخَرَ، فَاغْفِرْهُ لِي، فَقَالَ: أَعَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ؟ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثَلاَثًا، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ

یقینا بندہ جب کوئی گناہ کر لیتا ہے، پھر کہتا ہے اے میرے رب! میں نے گناہ کیا ہے، سو تو مجھے معاف فرما دے، تو اسکا رب فرماتا ہے’’کیا میرے بندے یہ جان لیا کہ اسکا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے، اور اسکی وجہ سے گرفت بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا‘‘۔ پھر جب تک اللہ تعالى چاہتا ہے وہ بندہ گناہ سے بچا رہتا ہے، پھر اس سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے ، تو وہ کہتا ہےاے میرے رب! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے، سو تو وہ گناہ بخش دے، تو اللہ تعالى فرماتا ہے’’کیا میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اسکا ایک رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے، اور اس پہ گرفت بھی کرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا۔ پھر جب تک اللہ چاہے وہ گناہ سے محفوظ رہتا ہےپھر گناہ میں گرفتار ہو جاتا ہےتو کہتا ہے اے میرے رب! مجھ سے ایک اور گناہ ہوگیا ہے، تو وہ گناہ مجھے بخش دے! تو اللہ تعالى فرماتا ہے’’ کیا میرے بندے جان لیا ہے کہ اسکا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے ، تین بار (یہ جملہ فرماتا ہے) ، تو وہ جو چاہے عمل کرے!‘‘۔

صحيح البخاري: 7507

یوں تو مؤمن کے نیک اعمال اسکے بہت سے گناہوں کی بخشش کا باعث بن جاتے ہیں:

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ

یقینا نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔

سورة هود: 114

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ

تو جہاں کہیں بھی ہو، اللہ سے ڈر، اور گناہ ہو جانے کے بعد نیکی کر، وہ اسے دھو ڈالے گی، اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ۔

جامع الترمذي: 1987

اسی طرح کچھ بڑی بڑی نیکیاں صغیرہ وکبیرہ ہر طرح کے گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔ سیدنا عَمْرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ تو جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اے عَمرو! تجھے کیا ہے؟میں نے عرض کیا میں (بیعت کے لیے) ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو کیا شرط رکھتا ہے؟ میں نے عرض کیا ( میری شرط ) یہ کہ مجھے معاف کر دیا جائے! ۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟

کیا تجھے معلوم نہیں کہ بلا شبہ اسلام (قبول کرنا) اپنے سے پہلے والے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور بے شک ہجرت اپنے سے قبل کی تمام برائیوں کو ختم کردیتی ہے، اور یقینا حج پہلی والی تمام خطائیں دھو ڈالتا ہے؟

صحيح مسلم: 121

کبیرہ گناہوں سے بچنے والے کی چھوٹی خطائیں تو انکے اعمال صالحہ کی وجہ سے ویسے ہی معاف ہو جاتی ہیں:

إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا

اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو، جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے ، تو ہم تم سے تمہاری خطائیں مٹا دیں گے، اور تمہیں داخل ہونے کی باعزت جگہ میں داخل کریں گے۔

سورۃ النساء: 31

لیکن مؤمن اپنی حقیر سے حقیر لغزش کو بھی بہت بڑا جرم سمجھتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

إِنَّ المُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ

یقینا مؤمن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے گویا وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے، وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس اوپر نہ آگرے، اور یقینا فاجر اپنے گناہوں کو اس مکھی کی طرح سمجھتا ہے جو اسکی ناک پر سے گزرتی ہے۔

صحيح البخاري: 6308

اسی لیے مؤمن اپنے گناہوں کی اللہ تعالى سے باقاعدہ معافی مانگنے کا اہتمام کرتا ہے۔ اور شب کی تاریکیوں میں خلوت نشیں ہوکر اللہ تعالى کو مناتا ہے۔ جنتی مؤمنوں کی یہ صفت قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے:

كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ 17 وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ 18

وہ راتوں کو تھوڑی دیر ہی سویا کرتے تھے، اور سحریوں کے وقت وہ گناہوں کی بخشش طلب کیا کرتے تھے۔

سورة الذاريات : 17,18

نماز توبہ کا طریقہ:

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے ایک بہترین طریقہ کار سکھایا ہے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ

جو بندہ ، کوئی بھی گناہ کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضوء کرتا ہے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعتیں ادا کرتا ہے، پھر اللہ تعالى سے بخشش طلب کرتا ہے ، تو اللہ تعالى اسے ضرور معاف فرما دیتا ہے۔

سنن أبي داود : 1521

یہ مختصر سا طریقہ ہے نماز توبہ کا، یعنی کبھی بھی کم از کم دو رکعت نماز خواہ نفل ہویا فرض ادا کرنے کے بعد اللہ تعالى سے اپنے گناہ کی معافی مانگ لی جائے۔ بہتر ہے کہ یہ عمل نفل نماز کے بعد تنہائی میں کیا جائے۔ البتہ فرض کے بعد بھی ہو سکتا ہے ۔ مثلا فجر کی فرض نماز ادا کرکے بھی اللہ تعالى سے توبہ کی جائے تو یہ فجر کے فرض ہی اسکے لیے نماز توبہ بھی بن جائیں گے۔ کیونکہ اس میں نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ قید نہیں لگا ئی کہ یہ دو رکعت فرض کے علاوہ ہو ، جیسا کہ استخارہ کے لیے قید لگائی گئی ہے۔ تو جب شریعت نے پابندی نہیں لگائی تو مخلوق میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں کہ وہ شریعت کے مطلق کو مقید کردے۔ اسی طرح فرمانِ نبوی میں وقت اور جگہ کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔

کچھ لوگ خود ساختہ قیدیں لگا کر نماز توبہ ادا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں کہ فلاں وقت میں فلاں فلاں سورتیں اتنی اتنی مرتبہ ہر رکعت میں پڑھ کر یہ نماز ادا کی جائے اور اسکے بعد توبہ کی جائے، تو یہ سب بے بنیاد اور بلا دلیل ہیں۔

اسی طرح اس کے لیے اکٹھے ہونا اور باجماعت یہ نماز ادا کرنا بھی بدعت ہے۔ جیسا کہ مثلا فجر کی سنتوں کی بہت بڑی فضیلت کے باوجود انہیں با جماعت ادا کرنا بدعت ہے۔ لہذا اگر تو فرض نماز کے بعد توبہ واستغفار کی جائے تو وہ فرض نماز باجماعت ہی ہوگی، اسی طرح وہ نوافل جن کی جماعت کروانا ثابت ہے مثلا قیام اللیل یا تراویح وغیرہ ۔ لیکن محض اس غرض سے کہ توبہ کرنی ہے اور اسکے لیے الگ سے باقاعدہ جماعت کروائی جائے تو یہ ایک بدعی عمل ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ مثلا اگر کوئی باجماعت تہجد پڑھتا ہے اور اسکے بعد اس حدیث پہ عمل کرتے ہوئے توبہ کرنا چاہے تو وہ تو واستغفار کا عمل انفرادی کرے گا، کیونکہ تہجد کی جماعت تو ثابت ہے لیکن یہ توبہ اس طرح اجتماعی طور پہ کرنا ثابت نہیں!

1078 زائرین
مؤرخہ3-08-1441ھ بمطابق: 28-03-2020ء
4 صوت
اضافی لنکس
لنک کا عنوانسماعت/مشاہدہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ
تازہ ترین مقالات
Separator
متعلقہ لنکس
Separator
مقالہ گزشتہ
مقالات متشابہہ مقالہ آئندہ
زیارات
Separator
اَعداد و شمار
آج: 1772
کل: 2289
موجودہ ہفتہ: 6106
ماہ رواں : 35538
امسال : 213874
آغاز سے: 832693
آغاز کی تاریخ: 12-10-2011
اعداد وشمار
Separator
کل مواد : 461
دروس : 316
مقالات : 41
الكتب : 0
فتاوى : 7
تفاسیر : 80
شمارہ جات : 0
اسباق : 17
تعلیقات : 1
آراء : 1
حاضرین
Separator
آپ :431010 ویں زائر ہیں
فی الحال 24حاضرین ہیں
اراکین :0 مہمان :24
حاضرین کی تفصیل
ویب سائیٹ میں تلاش کریں
Separator