تلاش کریں

البحث

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

وزٹر نمبر : 22178
موجود زائرین : 6

اعداد وشمار

12
قرآن
9
تعارف
13
کتب
255
فتاوى
10
مقالات
35
خطابات

مادہ

الصلاۃ خیر من النوم کا اذان میں اضافہ

سوال:

فجر کی اذان میں الصلاۃ خیر من النوم کا اضافہ کس نے کیا؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا پہلے یہ موجود نہیں تھا۔ اس بارہ میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ الفاظ اذان میں کب اور کہاں سے آئے ؟  

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اذان فجر میں الصلاۃ خیر من النوم کے الفاظ خود رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو کہنے کا حکم دیا تھا ۔

سیدنا  ابو محذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ؟، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي، وَقَالَ: " تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "

میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اذان دینے کا طریقہ سکھائیے تو آپ ﷺ نے میرے سر کے اگلے حصہ پہ ہاتھ پھیرا ، ا ور فرمایا تو کہہ:

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، بآواز بلند ، پھر تو کہہ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ آہستہ آواز سے ، اسکے بعد پھر اونچی آواز سے  شہادتین کہہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اور جب فجر کی اذان ہو تو کہا کر الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

سنن ابی داود: 500

رہی موطا مالک کی روایت کہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَاءَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُؤْذِنُهُ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَهُ نَائِمَاً. فَقَالَ: الصَّلاَةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ. فَأَمَرَهُ عُمَرُ يَجْعَلُهَا فِي نِدَاءِ الصُّبْحِ.

انہیں یہ بات پہنچی کہ مؤذن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس فجر کی نماز کا بتانے آیا تو اس نے  انہیں نیند  کی حالت میں پایا تو کہنے لگا "الصلاۃ خیر من النوم" تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اسے فجر کی اذان میں رکھے۔

موطا مالک:232

اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا  کہ اسکا اضافہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا، کیونکہ یہ کلمات رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں۔ انکے کہنے کا مقصد تھا کہ یہ آذان فجر کے کلمات ہیں لہذا انہیں اذان میں ہی رہنے دو، کیونکہ شریعت نے تثویب سے منع کیا ہے۔

 

هذا، والله تعالى أعلم،وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم،والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وأصحابه وأتباعه، وبارك وسلم


وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

  • الاحد AM 11:07
    2022-01-23
  • 794

تعلیقات

    = 4 + 1

    /500
    Powered by: GateGold