تازہ ترین
حالت حیض میں طلاق => مسائل طلاق طلاق کی عدت => مسائل طلاق بدعی طلاق => مسائل طلاق حالت نفاس میں طلاق => مسائل طلاق بیک وقت تین طلاقیں => مسائل طلاق مباشرت کے بعد طلاق => مسائل طلاق اللہ تعالیٰ کی معیت => مسائل عقیدہ ایک مجلس کی تین طلاقیں => مسائل طلاق مفاہیم عشق => مقالات علم سے دوری کیوں؟ => مقالات

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 63229
موجود زائرین : 16

اعداد وشمار

47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
272
فتاوى
56
مقالات
187
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

وقت مغرب

درس کا خلاصہ

مغرب کی نماز کے وقت کی وضاحت



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

وقتِ مغرب

 

                صحیح مسلم میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص﷜ کی روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:  «وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ» ([1])

’’مغرب کی نماز کا وقت تب تک رہتا ہے جب تک شفق غائب نہ ہوجائے۔‘‘

یعنی مغرب کا وقت سورج غروب سے لے کر شفق غائب ہونے تک رہتا ہے۔ افق میں نظر آنے والی سرخی کو شفق کہتے ہیں۔ امام دارقطنی ﷫ نے اپنی سنن میں ایک روایت نقل کی ہے: «الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ» ([2])

’’شفق سرخی کو کہتے ہیں۔‘‘

اس روایت کی سند اگرچہ کمزور ہے، لیکن یہ بات درست ہے کہ شفق سرخی کو ہی کہا جاتا ہے۔ اردو زبان میں بھی شفق کا لفظ سرخی کےلیے ہی بولا جاتا ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بھی شفق سرخی کے معنیٰ میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض فقہاء کے مطابق اس حدیث میں شفق سے مراد سفیدی ہے۔ سورج کے غروب ہونے کے بعد کچھ دیر تک افق میں سرخی رہتی ہے جو سوا سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد غائب ہوجاتی ہے۔ لیکن افق پر کچھ سفیدی باقی رہتی ہے اور اسے غائب ہوتے ہوتے تقریباً ایک گھنٹہ مزید لگ جاتا ہے۔ اس اعتبار سے مغرب کا وقت تقریباً اڑھائی گھنٹے بنتا ہے۔ لیکن حیرانی اور پریشانی کی بات یہ ہے جو فقہاء شفق سے سفیدی مراد لیتے ہیں اور یوں مغرب کا وقت تقریباً اڑھائی گھنٹے قرار دیتے ہیں، وہ مغرب کی جماعت سے پہلے دو رکعت نفل اس لیے پڑھنے نہیں دیتے  کہ مغرب کا وقت بہت تھوڑا ہوتا ہے!! حالانکہ شفق سے سرخی مراد لیں تب بھی ڈیڑھ گھنٹہ مغرب کا وقت بنتا ہے۔ فجر اور مغرب کی نماز کا وقت تقریباً برابر ہوتا ہے۔ چار پانچ منٹ کی کمی بیشی ہوجائے تو الگ بات ہے۔ وگرنہ جتنا وقت فجر کا ہوتا ہے، اسی موسم میں مغرب کا وقت بھی اتنا ہی ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ نبی کریمﷺ ہر نماز اول وقت میں پڑھتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود﷜ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ افضل ترین اعمال کون سے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: «الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا» ([3])

’’افضل ترین اعمال میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ ہر نماز اول وقت میں پڑھے۔‘‘

مغرب کی نماز کے حوالہ سے خصوصاً ایک روایت سیدنا رافع بن خدیج﷜ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: «كُنَّا نُصَلِّي المَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ» ([4])

’’ہم مغرب کی نماز نبی کریمﷺ کی اقتداء میں ادا کرکے جب واپس جاتے تو اگر ہم میں سے کوئی آدمی تیر چلاتا تو تیر کے گرنے کی جگہ وہ دیکھ لیتا تھا۔‘‘

یعنی مغرب کی نماز ادا کرلینے کے بعد بھی اتنی روشنی ہوتی تھی کہ تیر کے گرنے کی جگہ نظر آجاتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ سورج غروب ہونے کے فوراً بعد مغرب کی اذان دلواتے اور اذان کے چند لمحوں بعد ہی جماعت کروا دیا کرتے تھے۔ مغرب کی نماز میں آپﷺ کی قراءت بہت مختصر ہوا کرتی تھی۔ آپ نمازِ مغرب میں عموماً قصار مفصل یعنی آخری پارے کے آخری پاؤ جو سورۃ البینہ سے شروع ہوتا ہے، کی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی لمبی سورتیں بھی پڑھ لیتے تھے۔ مثلاً سورۃ الطور، سورۃ المرسلات۔ لیکن عام طور پر چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے تھے۔ مغرب کی اذان اور جماعت میں بس اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ آدمی دو رکعت ادا کرسکتا تھا۔ جلد ہی مغرب کی نماز آپﷺ ادا کرلیتے تھے۔ ایسے ہی فجر کی نماز بھی آپﷺ جلد ہی ادا کرلیتے تھے۔ کیونکہ فجر اور مغرب کا وقت تقریباً برابر ہوتا ہے جو باقی نمازوں کی نسبت کم ہے۔ باقی نمازوں کا وقت کم از کم دو گھنٹے اور گرمیوں کے موسم میں اس سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ لیکن فجر اور مغرب کا وقت کم ہوتا ہے۔ اس لیے آپﷺ جلدی مغرب کی نماز اد اکرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ لیکن اس جلدی کا یہ مطلب نہیں کہ اذان اور جماعت کے درمیان میں دو رکعت پڑھنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ نبی کریمﷺ نے ان دو رکعتوں کی بڑی ترغیب دی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: «صَلُّوا قَبْلَ صَلاَةِ المَغْرِبِ»، قَالَ: «فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً» ([5])

’’مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ مغرب کی جماعت سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ اور تیسری مرتبہ فرمایا کہ جو چاہتا ہے، پڑھ لے۔ ‘‘

مطلب یہ ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا فرض نہیں ہے ، لیکن ان کی اہمیت ہے۔ یہ مستحب ہیں۔

_____________________________

([1])           مسلم (612)

([2])           الدارقطني (1056)

([3])           المستدرك للحاکم (674)

([4])           البخاري (559)، ومسلم (637)

([5])           البخاري (1183)

  • الجمعة AM 02:42
    2022-04-22
  • 1344

تعلیقات

    = 1 + 8

    /500
    Powered by: GateGold