تازہ ترین
حالت حیض میں طلاق => مسائل طلاق طلاق کی عدت => مسائل طلاق بدعی طلاق => مسائل طلاق حالت نفاس میں طلاق => مسائل طلاق بیک وقت تین طلاقیں => مسائل طلاق مباشرت کے بعد طلاق => مسائل طلاق اللہ تعالیٰ کی معیت => مسائل عقیدہ ایک مجلس کی تین طلاقیں => مسائل طلاق مفاہیم عشق => مقالات علم سے دوری کیوں؟ => مقالات

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

باقاعدہ وزٹرز : 63231
موجود زائرین : 14

اعداد وشمار

47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
272
فتاوى
56
مقالات
187
خطبات

تلاش کریں

البحث

مادہ

سلف کی درایت تفسیری

سوال:

فہم صحابہ یا فہم سلف کسی آیت یا حدیث کا مفہوم متعین کرنے میں حجت ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

یہ نہایت دقیق مسئلہ ہے، جس میں اکثر متاخرین الجھ کے رہ گئے ہیں، وہ صحابہ وتابعین کے مطلق قول وعمل کو احادیث و آیات کا فہم سمجھ لیتے ہیں، اور یہی سنگین غلطی ہے!
اصل یہ ہے کہ صحابی کسی آیت یا حدیث کے بارے میں یہ کہے کہ اسکا یہ معنی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سمجھتے تھے، یا رسول اللہ صلی اللہ کا یہ فرمان اس خاص معنی میں تھا، تو یہ مرفوع ہی ہے۔
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی کا آیت یا حدیث کے بارے میں کہنا کہ اس کا یہ معنی ہے، یہ موقوف ہے اور اس صحابی کا ذاتی فہم ہے۔
اور صحابی کا کوئی عمل کرنا یا فتوی دینا جس میں وہ اپنا مستدل کسی آیت یا حدیث کو قرار نہیں دے رہے، وہ کسی بھی خاص آیت یا حدیث کا فہم نہیں قرار دیا جاسکتا۔
اسے مثال سے سمجھیں:
پہلی قسم کی مثال
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ، وَصَنِيعَةَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنَ النِّيَاحَةِ.
یہاں ان مذکورہ افعال کو نوحہ کے معنی میں شامل کیا جا رہا ہے اور واضح کیا جارہا ہے کہ ہم ایسا سمجھا کرتے تھے، یہ مرفوع ہی ہے! یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ معنی ہے.

دوسری مثال
زمین ٹھیکے پہ دینے کی ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اس کے بارے میں سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی ہے
إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا ؛ فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ.
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نھی عن کراء الأرض وہ اس خاص قسم سے متعلق تھی. تو یہ مفہوم مرفوع ہی ہے.

دوسری قسم کی مثال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خوارج سے مناظرہ ہے.
اس میں سید الفقہاء نے خوارج کے استدلال کی غلطی واضح فرمائی اور نصوص کا درست مفہوم اپنی فہم ثاقب سے واضح فرمایا۔ یہ صحابی کا خاص نص کا فہم ہے، جسے صحابہ کی درایت تفسیری بھی کہا جاتا ہے،اور اس کی مخالفت جائز نہیں، الا کہ مضبوط دلیل اس کے برخلاف ہو۔


تیسری قسم کی مثال
ابن عمر رضی اللہ عنہ کا واعفوا اللحی روایت کرنا اور داڑھی کٹوانا ہے۔
اس مثال میں عمل صحابی کا روایت سے کوئی تعلق نہیں نہیں ہے، سو اسے واعفوا کا مفہوم قرار دینا غلط ہے!

هذا، والله تعالى أعلم،وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم،والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وأصحابه وأتباعه، وبارك وسلم


وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

  • الخميس AM 07:14
    2022-12-08
  • 499

تعلیقات

    = 8 + 9

    /500
    Powered by: GateGold