اعداد وشمار
مادہ
حملہ آور کافر ممالک کی عوام کو قتل کرنا؟
سوال
کیا امریکی یا فرانسیسی افواج مسلمان ملکوں کے ساتھ اگر جنگ میں ہو تو کیا انکی عام عوام کے ساتھ جہاد اور دشمنی رکھی جائے گی، یہ مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہاں جمہوری نظام ہے اور انہی لوگوں کے ووٹ سے ایسی پالیسی وجود میں آئیں؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
حربی کفار کے ساتھ بغض اور دشمنی رکھنا روا ہے ، لیکن اس دشمنی کا یہ مطلب نہیں کہ حربی کافر ملک کے تمام تر افراد کو قتل کرنے کی بھی اجازت ہے ۔ بلکہ اسلام نے تو میدان جنگ میں بھی حربی ملک کے کافر عوام کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ اور صرف ان لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت دی ہے جو ہتھیار اٹھاتے اور مقابلہ میں اترتے ہیں ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اسے اللہ سے ڈرتے رہنے اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی نصیحت فرماتے اور پھر کہتے :
اغْزُوا بِاسْمِ اللهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا
اللہ کا نام کے ساتھ اللہ کے راستے میں لڑو، اور جو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے اسکے خلاف لڑو، جہاد کرو اور خیانت نہ کرو، اور عہد شکنی نہ کرو، اور مثلہ نہ کرو، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو۔
صحیح مسلم : 1731 ، سنن أبی داود: 2613
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب شام کے طرف لشکر بھیجا تو سیدنا یزید بن سفیان رضی اللہ عنہ کو دس نصیحتیں فرمائیں :
لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلاَ صَبِيًّا، وَلاَ كَبِيرًا هَرِمًا، وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاةً، وَلاَ بَعِيرًا، إِلاَّ لِمَأْكَلَةٍ، وَلاَ تُغَرِّقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تَحْرِقَنَّه، وَلاَ تَغْلُلْ ، وَلاَ تَجْبُنْ.
کسی عورت ،بچہ، انتہائی بوڑھے، کو قتل نہ کرنا ، اور پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد جگہ کو خراب نہ کرنا، کسی بکری یا اونٹ کو نہ مارنا ، ہاں کھانے کے لیے ذبح کرسکتے ہو، کھجوروں ضائع نہ کرنا اور نہ ہی جلانا، اور خیانت نہ کرنا ، اور بزدلی نہ دکھانا۔
مؤطا مالك : 918
اور پھر اگر کسی حربی کافر کو کوئی بھی مسلمان پناہ دے دے تو اسے قتل کرنا کبیرہ گناہ بن جاتا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
وَذِمَّةُ المُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ
مسلمانوں کا ذمہ (امان) ایک ہی ہے ۔ ان میں سے ادنى بھی کسی کو امان دے سکتا ہے۔ اور جس نے بھی کسی مسلمان کی امان کو توڑا ، تو اس پر اللہ تعالى کی، فرشتوں کی، اور تمام تر لوگوں کی لعنت ہو، اس سے کوئی فرضی یا نفلی عبادت قبول نہ کی جائے گی۔
صحیح البخاری: 3179
اور جس کافر کو مسلمانوں کا ادنى شخص نہیں بلکہ مسلمانوں کا ذمہ دار شخص ، کوئی مسلمان حاکم وغیرہ امان دے دے اور پھر اسے کوئی قتل کر دے تو قاتل کو اپنے انجام کار کی فکر کرنا چاہیے۔
اسی طرح کفار کے سفیر کو بھی قتل نہیں کیا جاسکتا ۔ جب مسیلمہ کذاب نے اپنے دو قاصد نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجے ، آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسکا خط پڑھا تو ان سے پوچھا تم دونوں کیا کہتے ہو؟ تو انہوں نے کہا ہم بھی وہی کہتے ہیں جو وہ کہتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا»
اللہ کی قسم اگر یہ اصول نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا ، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا ۔
سنن أبی داود : 2761
یعنی ان کافروں کے خلاف غیض وغضب کتنا شدید تھا ، لیکن اسکے باوجود رسول اللہ صلى ا للہ علیہ وسلم نے اصولوں کی پاسداری فرمائی کہ سفیر کو قتل کرنا درست نہیں ، سو انہیں قتل نہیں کیا گیا ۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاربعاء PM 07:33
2022-01-12 - 919





