اعداد وشمار

14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

سیاہ خضاب (داڑھی کالی کرنے) کا حکم

سوال

کیا سیا خضاب جائز ہے؟  جیسا کہ علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب کا جواز کا فتوی ہے پھر وہ لکھتے ہیں کہ  أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَقَدْ سَوَّدَ شَيْبَهُ، فَهُوَ مِثْلُ جَنَاحِ الْغُرَابِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟» فَقَالَ: أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُحِبُّ أَنْ تَرَى فِيَّ بَقِيَّةً، فَلَمْ يَنْهَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ، وَلَمْ يَعِبْهُ عَلَيْهِ سیدناعمربن خطاب نے سیدنا عمرو بن عاص کو دیکھا کہ انہوں نے سیاہ خضاب لگا رکھا ہے ،جیسا کہ کوے کے پر،سیدنا عمر بن خطاب فرمانے لگے: ابو عبداللہ ! یہ کیا؟ تو سیدنا عمروبن عاص نے کہا امیر المؤمنین میں چاہتا ہوں آپ مجھے جوان دیکھیں ۔سیدنا عمر خاموش ہوگئے انہیں منع کیا نہ معیوب سمجھا۔  (المستدرك على الصحيحين:5914)  دیکھیں ایک عمل سیدنا عمر جیسے متبع سنت کے سامنے آتا ہے وہ اس پر متعجب ہوکر سوال تو کرتے ہیں مگر عمرو بن عاص کی وضاحت کے بعد خاموشی اختیار کرتے ہیں،انکار نہ تردید اور وضاحت بھی کیا ہے ؟ بوڑھا نظر نہ آؤں ،سیدنا عمر کی خاموشی اسی بات کا پتہ دیتی ہے کہ آپ بھی سیاہ خضاب جائز سمجھتے تھے۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیجئے کہ دین صرف اور صرف وحی الہی کا نام ہے، اس کے سوا کچھ بھی دین نہیں ہے۔ اور ہمیں صرف وحی الہی ہی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے:

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اسکے سوا دیگر اولیاء کی پیروی نہ کرو‘ تم بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔

سورۃ الأعراف: 3

اور وحی الہی کتاب اللہ اور سنت رسو ل اللہ صلى اللہ علیہ وسلم میں محصور مقصور ہے۔ کتاب وسنت کے سوا کچھ بھی  نہ تو دین ہے اور نہ ہی حجت شرعی۔ لہذا جب کوئی حکم قرآن مجید فرقان حمید میں یا حدیث نبوی میں موجود ہو تو امت میں سے کسی کا بھی اس کی مخالفت کرنا یا اس کے خلاف عمل کرنا یا فتوى دینا  شرعی طور پہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہاں ایک حکم کتاب وسنت میں مذکور ہو اور اس کے لیے وحی الہی (کتاب وسنت) میں ہی کوئی قرینہ صارفہ ہو تو اس میں تطبیق دی جاتی ہے کہ یہ  حکم وجوب یا حرمت کے لیے نہیں بلکہ کراہت یا استحباب کے لیے ہے۔امت میں سے کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ اللہ تعالى کے نازل کردہ دین کے واجب کو مستحب یا حرام کو مکروہ تنزیہی بنا دے۔ کیونکہ شارع صرف اللہ تعالى ہے، اور نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم شارع حکیم کے اوامر ونواہی امت کو بتانے  اور سمجھانے کا فرض ادا کرتے ہیں، اور امت کے ذمہ اللہ تعالى کے احکام کو نبوی تشریح کے مطابق ماننا ہے۔

داڑھی کے خضاب کے مسئلے میں بھی نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا واضح حکم موجود ہے:

‌وَاجْتَنِبُوا ‌السَّوَادَ

سیاہ رنگ سے بچو

صحيح مسلم: 2102

جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سیاہ رنگ سے پرہیز کرنے کا  حکم صادر فرمایا ہے تو سیاہ خضاب سے بچنا فرض یعنی سیاہ خضاب لگانا حرام ٹھہرا۔ اب اس حرمت کو کراہت پہ محمول کرنے کے لیے وحی الہی یعنی کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ صلى اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے دلیل ڈھونڈنی پڑے گی، جو تا حال ان باحثین کو نہیں مل سکی، اور نہ ہی کبھی مل سکے گی۔  جب ایسی کوئی دلیل معرض استدلال میں موجود ہی نہیں ہے تو سیاہ خضاب کا جواز ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ حرام ہی ٹھہرتا ہے۔

رہا سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا عمل اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا استفسار اور اس  کی وضاحت ملنے پہ خاموشی تو یہ سیاہ خضاب کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ

اولا:

دین نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں مکمل ہو چکا، اس کے بعد کوئی چیز بھی دین نہیں بن سکتی:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پہ اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے۔

سورۃ المائدۃ: 3

ثانیا:

احکام شریعت میں حجت و دلیل صرف نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی خاموشی ہے، آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی بھی خاموشی شرعی دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا نطق و سکوت وحی الہی ہوتا تھا، آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو بھی یہ شرف حاصل نہیں ہے۔ لہذا کسی صحابی کی خاموشی بھی کسی حکم کی دلیل نہیں بن سکتی۔

ثالثا:

اگر ایسے ہی واقعات کو دلیل بنانا ہے تو پھر رمضان کا فرض روزہ رکھ کر برف کے گولے کھانے کو بھی فتوى جواز بخشیں کیونکہ:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ صَائِمٌ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قِيلَ لَهُ: أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ قَالَ: " إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ "

 ایک مرتبہ اولے پڑے،  سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ  نے روزہ رکھا ہوا تھا، وہ روزے کا باوجود اولے کھانے لگ گئے ۔ کسی نے کہا آپ روزہ کی حالت میں یہ کھا رہے ہیں؟ فرمانے لگے یہ تو برکت ہے!

 مسند أحمد : 13971، وسندہ صحیح !

کیا اس سے روزہ دار کے لیے اولے کھانے کا جواز کشید کرنا درست ہوگا؟ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا فعل ہے ! اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہے اور انس رضی اللہ عنہ سمیت کسی بھی صحابی سے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پہ نکیر بھی ثابت نہیں ہے!۔

 پھر امام طحاوی نے  ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی تو جیہ بھی جید سند سے نقل کی ہے  کہ وہ فرماتے تھے :

لَيْسَ هُوَ بِطَعَامٍ وَلَا بِشَرَابٍ

 یعنی نہ تو یہ کھانا اور نہ ہی مشروب ! ۔

شرح مشكل الآثار: 5/115 

تو کیا سیاہ خضاب کے فتوائے جواز کی طرح روزہ دار کے لیے اولے کھانے کا فتوى صادر  فرمائیں گے ؟؟؟

 کہ قرآن میں روزہ دار کو کھانے پینے سے منع کیا گیا ہے اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے فہم کے مطابق جس پہ کسی صحابی نے تنقید نہیں فرمائی ، برف کھانے کو استثناء حاصل ہے۔ بلکہ ہر وہ چیز جو معروف طور پہ کھانا یا مشروب نہیں،  نگلی جاسکتی ہے ... حا شا و کلا...!

 

 

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الثلاثاء PM 06:21
    2025-12-09
  • 181

تعلیقات

    = 4 + 7

    /500
    Powered by: GateGold