اعداد وشمار
مادہ
جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا
سوال
جنازے کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنے کی کیا دلیل ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
تکبیرات جنازہ پر رفع الیدین کرنے کےبارہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
"أن النبی صلى الله عليه وسلم کان إذا صلی علی جنازة رفع يديه فی کل تکبيرة وإذا انصرف سلم"
علل الدارقطني13/22 (2908)
"یقیناً رسول اللہ ﷺ جب نماز جنازہ پڑھتے تو ہر تکبیر پر رفع الیدین فرماتے اور جب مکمل کرلیتے تو سلام پھیرتے ۔"
اس صحیح روایت سے ثابت ہوا کہ نماز جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا سنت ہے۔
بعض لوگوں کا اسے مرفوع نہ ماننا درست نہیں، کیونکہ عمر بن شبہ ثقہ راوی ہے، اور ثقہ کی زیادت مقبول ہوتی ہے بشرطیکہ اوثق یا ثقات کے منافی نہ ہو۔
اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سنن أبی داود میں ہے فرماتے ہیں:
وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم رکوع سے قبل ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے حتى کہ نماز مکمل ہو جاتی۔
سنن أبی داود: 722
یہ حدیث بھی تکبیرات جنازہ کے ساتھ رفع الیدین پہ دلالت کرتی ہے، کیونکہ نماز جنازہ میں صرف قیام ہی ہے، رکوع وسجود نہیں ہیں۔ اور اس حدیث میں قیام کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا واضح ہے۔ سو اس روایت سے جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کا مسنون ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ تمام تر نمازوں کے احکام برابر ہیں، خواہ نماز فرض ہویا نفل، عید کی ہو جنازہ، ایک حکم جب کسی نماز کے لیے ثابت ہو تو وہ تمام نمازوں کے لیے اپنے عموم واطلاق کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے، الا کہ فرق کی کوئی دلیل ہو۔ اور جنازہ میں رکوع و سجود وغیرہ کے نہ ہونے پہ دلیل موجود ہے جبکہ حالت قیام میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین نہ کرنے پہ کوئی دلیل نہیں ہے!۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
السبت AM 10:01
2022-01-22 - 1895





