اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

التحیات کا پس منظر

سوال

آج کل سوشل میڈیا پہ ایک میسج گردش کر رہا ہےجس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ التحیات میں پڑھے جانے والے الفاظ معراج کی رات اللہ تعالى اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے مابین ہونے والا مکالمہ ہے۔ اسکی کیا حقیقت ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

التحیات کا تعلق معراج سے جوڑنا بالکل بے بنیاد ہے، اور اس قصہ کی کوئی اصل نہیں، کیونکہ معراج پہ نماز فرض ہوئی، اور التحیات نماز کے فرض ہونے کے بعد فرض ہوا، لوگ نماز میں التحیات کی جگہ اپنی مرضی کے الفاظ پڑھا کرتے تھے، پھر انہیں نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے التحیات کے کلمات سکھائے ۔ جیسا کہ اس روایت سے واضح ہے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاَةِ، قُلْنَا: السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لاَ تَقُولُوا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ، فَيَدْعُو "
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ نے فرمایا کہ ہم جب نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھا کرتے تھے تو ہم کہتے تھے السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ (اللہ پر اسکے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو، اور فلاں فلاں پر سلامتی ہو ) تو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ نہ کہو، کیونکہ اللہ تعالى ہی "سلام" ہے بلکہ تم کہو: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، (ہمہ قسم قولی، فعلی، اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر بھی اور تمام تر نیک پر بندوں پر بھی سلامتی ہو) جب تم یہ کہہ لو گے تو (سلام) زمین وآسمان میں یا زمین وآسمان کے درمیان موجود ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گا, (پھر کہو) أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں ) پھر اسکے بعد جو دعاء تمہیں پسند ہو وہ کر لو۔

صحيح البخاري : 835

 

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الاحد AM 10:47
    2022-01-23
  • 4111

تعلیقات

    = 6 + 8

    /500
    Powered by: GateGold