اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

بدعتی کے پیچھے نماز

سوال

  معلوم یہ کرنا تھا کہ علماء اھلحدیث میں کوئی عالم بدعتی کے پیچھے نماز کا قائل ہے کیاخصوصا جماعۃالدعوہ سے منسلک علماء اور اس پر آپکی رائے کیا ہے؟  

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

بدعت دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک کو بدعت صغرى کہا جاتا ہے اور دوسری کو بدعت کبرى۔ ہیں دونوں ہی گمراہی ، لیکن ایک چھوٹی گمراہی ہے اور  ایک بڑی گمراہی۔ بدعت کبرى کو بدعت مکفرہ  بھی کہتے ہیں یعنی ایسی بدعت جو انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے اور دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔اور جو بدعت صغرى ہے وہ کبیرہ گناہ ہوتی ہے۔ الغرض دونوں قسم کی بدعتیں دین میں حرام ہیں ، خواہ بدعت کبرى ہو یا صغرى۔

کسی بھی بدعتی کو امام بنانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہ کے مرتکب  کو امام بنانے سے منع فرمایا ہے:

سیدنا ابو سہلہ سائب  بن خلّاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا، فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: «لَا يُصَلِّي لَكُمْ»، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «نَعَمْ»، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

ایک شخص نے قوم کی امامت کروائی ، تو اس نے قبلہ کی طرف تھوک دیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔  جب وہ فارغ ہوا  تو رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ اسکے بعد اس نے انہیں نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان اسے سنایا۔ تو اس نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا"ہاں!" (راوی کہتے ہیں کہ)  میرا گمان ہے آپ ﷺ نے یہ فرمایا " تو نے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو تکلیف دی ہے۔

سنن ابی داود: 481

۞لہذا جب یہ ممکن ہو کہ آپ کسی بدعتی کو امام نہ بنائیں ، کسی بدعتی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا آپ کے لیے ممکن ہو، تو اس صورت میں اسکے پیچھے نماز ادا نہ کریں۔

۞اور جب یہ ممکن ہی نہ ہو، یعنی کسی بدعتی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ ہو تو اس صورت میں :

  • اگر وہ بدعتی بدعت کبرى کا مرتکب ہے، یعنی اسکی بدعت کفریہ و شرکیہ ہے اور اس کی تکفیر کی جا چکی ہے تو ایسی صورت میں اسکے پیچھے ادا کی گئی نماز دہرانی ہوگی۔
  • اور اگر وہ بدعتی بدعت صغرى کا مرتکب ہے، یعنی اسکی بدعت ایسی نہیں ہے جو اسے دین اسلام سے خارج کرنے والی ہو، تو اسکی اقتداء میں پڑھی گئی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنے والوں کو اپنی نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ صرف آئندہ اسکی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع فرما دیا۔

 

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الاحد AM 11:23
    2022-01-23
  • 1891

تعلیقات

    = 7 + 2

    /500
    Powered by: GateGold