اعداد وشمار
مادہ
تراویح سے متعلق مقلدین کے 21 سوالات
سوال
آل تقلید کی طرف سے یہ ایک سوال نامہ موصول ہوا ہے جسے وہ لاجواب سمجھے بیٹھے ہیں، ان سوالات کے جوابات عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
تراویح کے متعلق فتنہ اہل حدث سے اکیس سوالات ، جسکا جواب دینے سے قاصر ہیں سارے اہل حدث!
سوال نمبر 1 ۔ کیا واقعی تراویح بدعت ضلالۃ ہے ؟؟ العیاذ باللہ ۔ اگر نہیں تو نواب صدیق حسن کے بارے میں کیا فتویٰ ہے ؟؟؟
سوال نمبر 2 ، کیا واقعی تراویح سنت نہیں ،بدعت حسنہ ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو مولوی عبد القادر حصاروی کے بارے میں کتابچہ کب شائع ہوگا ؟؟؟
سوال نمبر 3 ۔ کیا واقعی تراویح نفلی و اختیاری عبادت ہے ؟؟؟ جسے بلا عذر ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں ؟؟؟
سوال نمبر 4 ۔ کیا واقعی سنت کے مطابق تہجد و تراویح ایک ہی نماز ہے ؟؟؟ اگر ایک ہی ہے تو نواب صدیق حسن خان نواب وحید الزمان اور مولانا امرتسری مولانا نزیر حسین دہلوی کے خلاف اشتہار کب شائع ہوگا ۔ جو دونوں کو الگ الگ قرار دیتے تھے ؟؟؟
سوال نمبر 5 ۔ کیا واقعی قیام رمضان تراویح سے الگ کوئی نماز ہے ؟؟ اگر الگ نماز ہے تو اس رکعات کتنی ہیں ؟؟
سوال نمبر 6 ۔ کیا واقعی نماز تراویح جماعت بغیر جائز نہیں ؟؟؟ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کا حکم کیا ہوگا ؟؟ تراویح ادا ہوگی یا نہیں ؟
سوال نمبر 7 ۔ کیا واقعی تہجد اور تراویح کی الگ الگ گیارہ رکعات ہیں ؟؟ اگر ہیں تو سنت کی روشنی میں ان کی ترتیب کیا ہوگی ؟؟
سوال نمبر 8 ۔ نماز تراویح اول شب پڑھنی افضل ہے یا آخر شب ؟؟ سنت نبوی کی روشنی میں وضاحت فرمایئے ۔
سوال نمبر 9 ۔ تراویح گھر میں پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں ؟؟؟ اور جو گھر میں پڑھنے کو افضل قرار دیتے ہیں ، ان پر کیا فتوی ہوگا ؟؟؟
سوال نمبر 10 ۔ کیا واقعی تراویح کی رکعات متعین نہیں ؟؟ اگر متعین ہیں تو 9 - 11 - 13 - 20 - 40 تراویح پڑھنے کی اجازت دینے والوں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟ اگر رکعات متعین نہیں ہیں تو 8 اور 20 کا جھگڑا کرنے کے مقاصد کیا ہیں ؟؟؟
سوال نمبر 11 ۔۔ کیا واقعی تراویح کی 11 رکعات مسنون اور باقی بدعت ہیں ؟؟ اگر بدعت ہیں تو پڑھنے والوں کا کیا حکم ہے ؟؟ فتوی دینے سے قبل ان کی فہرست ضرور ملاحظہ فرمالیجئے ۔ اور اگر بدعت نہیں تو انہیں بدعت قرار دینے والوں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟؟
سوال نمبر 12 ۔ کیا واقعی تراویح کی 11 مسنون اور باقی مستحسن ہیں ؟؟ اگر مستحسن ہیں تو پڑھنے والوں کے خلاف مناظرہ بازی اور اشتہار بازی کا سلسلہ کیوں ؟؟ کیا مستحسن عمل سے روکنا جائز ہے ؟؟
سوال نمبر 13 ۔ کیا واقعی 20 رکعات سنت خلفاء راشدین نہیں ؟؟؟ اگر نہیں تو امام حرم شیخ ابن باز پر کیوں فتویٰ جاری نہیں ہوتا جو 20 رکعات کو سنت خلفاء راشدین قرار دیتے ہیں ؟؟
سوال نمبر 14 ۔ کیا واقعی غیر مقلدین کی مساجد میں احناف کو اپنی 20 رکعات تراویح اپنے امام کی اقتدا میں پوری کرنے سے روکنا گناہ ہے ؟؟ اگر نہیں تو سردار اہلحدیث مولانا ثناء اللہ امرتسری کے بارے میں کیا رائے ہے ؟؟
سوال نمبر 15 ۔ کیا واقعی غیر مقلدین کو اہل سنت کی مساجد میں سنی امام کے پیچھے 20 رکعات پوری کرنا ضروری ہیں ؟؟ اگر نہیں تو امام خانہ کعبہ پر کب فتویٰ جاری ہوگا جو اسے سنت قرار دیتے ہیں ؟؟
سوال نمبر 16 ۔ کیا آپ ﷺ نے پورا رمضان تراویح پڑھی ہے ؟؟؟
سوال نمبر 17 ۔ کیا آپ ﷺ نے ہمیشہ باجماعت تراویح پڑھائی ہے ؟؟؟
سوال نمبر 18 ۔ کیا آپ ﷺ نے پورا رمضان مسجد میں تراویح پڑھائی ہے ؟؟
سوال نمبر 19 ۔ کیا آپ ﷺ نے تراویح میں پورا قرآن ختم کیا یا حکم دیا ؟؟؟
سوال نمبر 20 ۔ کیا آپ ﷺ نے باجماعت تراویح کا حکم دیا ہے ؟؟
سوال نمبر 21 ۔ کیا آپ ﷺ نے دو دو رکعت تراویح کا حکم دیا ہے ؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
سوال نمبر 1 ۔ کیا واقعی تراویح بدعت ضلالۃ ہے ؟؟ العیاذ باللہ ۔ اگر نہیں تو نواب صدیق حسن کے بارے میں کیا فتویٰ ہے ؟؟؟
نماز تراویح بدعت نہیں بلکہ سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سارا سال یہ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ کبھی اکیلے اور کبھی با جماعت۔ نماز تراویح، نماز تہجد، قیام اللیل ، قیام رمضان، نماز وتر،ایک ہی نماز کے مختلف اعتبارات سے مختلف نام ہیں۔ چونکہ یہ نماز رات کی نیند ترک کرکے ادا کی جاتی ہے اور رات کے آخری پہر کی نیند کو ترک کرنا عربی زبان میں ہجود کہلاتا ہے۔ لہذا اسے تہجد کی نماز کہا جاتا ہے۔
- چونکہ یہ نماز، عشاء سے فجر تک ، رات کے کسی بھی حصہ ادا کی جاسکتی ہے ۔ اس لیے اسے قیام اللیل کہا جاتا ہے۔
- رمضان المبارک میں اسکا اہتمام وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو شاید سارا سال نہیں کرتے ، رمضان کی راتوں میں اہتمام کے ساتھ قیام کرنے کی نسبت سے اسے قیام رمضان کانام دیا جاتا ہے۔
- یہ نماز لمبے قیام پر مشتمل ہوتی ہے۔ جسکی وجہ سے کچھ لوگ کبھی دائیں پاؤں پہ وزن ڈالتے ہیں اور کبھی بائیں پاؤں ۔ یعنی ایک ایک کرکے پاؤں کو باری باری قیام کے دوران راحت پہنچاتے ہیں ۔ اس وجہ سے اس نماز کو نماز تراویح کہتے ہیں۔
- اسے نماز تراویح کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر دو رکعتوں کے بعد کچھ وقفہ کرکے پھر اگلی دو رکعات کا آغاز کیا جاتا ہے۔ راحت وسکون اور ذکر ودعاء کے لیے ہر دو رکعات کے درمیانی وقفہ کی وجہ سے بھی اسے نماز تراویح کا نام دیا گیا ہے۔
- چونکہ رات کی اس نماز کی رکعات طاق ہوتی ہیں اس لیے اسے نماز وتر کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ سارا سال قیام اللیل فرماتےتھے۔ اس نماز کو قیام اللیل اور تہجد کا نام اللہ تعالى نے دیا ہے۔
قیام اللیل کا معنى ہے رات کا قیام، رات کے وقت قیام کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالى نے ارشاد فرمایا:
يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ * قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا * أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا *
اے کمبل اوڑھنے والے!۔ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات قیام کیا کر۔ آدھا حصہ یا اس سے کچھ کم۔ یا اس سے زائد، اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔
سورۃ المزمل:1-4
اور تہجد کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالى نے ارشاد فرمایا:
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ
اور رات کے وقت اس (قرآن ) کے ساتھ تہجد ادا کر، یہ تیرے لیے نفل ہے۔
سورۃ الإسراء:79
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالى کی بتائی ہوئی اس نفل نماز کا اتنا اہتمام کیا کہ اسے کبھی نہیں چھوڑا۔ حتى کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
«كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ، أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً»
جب آپ ﷺ کی رات کی نماز کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے رہ جاتی تو آپ ﷺ دن کے وقت (اسکی قضاء دینے کے لیے) بارہ رکعتیں پڑھتے۔
صحیح مسلم:746
لہذا اس نماز کو بدعت کہنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
رہی ان اسلاف کی بات جو اسے غلطی سے بدعت کہتے رہے کہ انکا کیا حکم ہے ؟ تو ان سب کے بارہ میں اس سوال کا ہماری طرف سے ایک ہی جواب ہے۔ وہ جواب جو موسى علیہ السلام نے فرعون کو اس وقت دیا تھا جب فرعون نے اسلاف کے بارہ میں حکم موسى علیہ السلام سے دریافت کیا تھا۔
فرعون نے پوچھا :
فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَى
پہلے زمانے (والوں) کا پھر کیا بنے گا؟
تو موسى علیہ السلام نے اسکے جواب میں فرمایا:
عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى
انکا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ تو بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
سورۃ طہ: 51-52
سو ہم بھی آپکے سوال " اگر نہیں تو نواب صدیق حسن کے بارے میں کیا فتویٰ ہے ؟؟؟" کے جواب میں یہی کہتے ہیں
عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى
انکا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ تو بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ موسی علیہ السلام کا فرعون کو یہ جواب درست تھا تو پھر اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہماری طرف سے وہی جواب آپکو درست تسلیم کرنا ہوگا۔ اور گر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ موسى علیہ السلام کا وہ جواب درست نہیں تھا تو پھر آپکو اپنے ایمان کی فکر کرنا ہوگی !
اور ویسے بھی اللہ سبحانہ وتعالى نے گزرے ہوئے لوگوں کے بارہ میں فرمایا ہے :
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ لوگ گزر چکے، جو انہوں نے کمایا وہ انکے لیے ہے، اور جو تم نے کمایا وہ تمہارے لیے ہے، اور تم انکے اعمال کے بارہ میں نہیں پوچھے جاؤگے۔
سورۃ البقرۃ: 134
لہذا فوت شدگان کو مسائل میں گھسیٹنا یہ مسلمانوں کا کام نہیں ہے ۔ ہاں فرعون کو جب دلیل نہیں ملی اور بات نہیں بن سکی ، وہ لاجواب ہوا تو اس نے فوت شدگان کو درمیان میں گھسیٹا، کہ شاید اس طرح موسى علیہ السلام پھنس جائیں گے۔ سو آپ اپنے اس قسم کے سوالات پہ نظر ثانی فرمائیں! ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی انہیں "فرعونی سوالات" کا نام دے دے اور پھر آپکو پشیمانی ہو۔
سوال نمبر 2 ، کیا واقعی تراویح سنت نہیں ،بدعت حسنہ ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو مولوی عبد القادر حصاروی کے بارے میں کتابچہ کب شائع ہوگا ؟؟؟
نماز تراویح سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔ بدعت نہیں ! نہ حسنہ اور نہ سیئہ۔
رسول اللہ ﷺ نے سارا سال اسکا اہتمام فرمایا ہے۔ کبھی اکیلے پڑھتے اور کبھی ساتھ کوئی اور پڑھنے والا شامل ہو جاتا تو باجماعت ادا کرتے۔ رمضان المبارک میں آپ ﷺ نے اسکی جماعت کا خصوصی اہتمام فرمایا ۔ لیکن صرف اس خدشہ سے "جماعت" ترک کر دی کہ کہیں فرض نہ ہو جائے۔
رمضان کے علاوہ با جماعت نماز تراویح و تہجد کے بارہ میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ - أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ - ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ "
میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری تو رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد گھر تشریف لائے اور چار رکعتیں ادا کیں پھر سو گئے۔پھر آپ ﷺ نے قیام شروع کیا تو میں بھی آپ ﷺ کے بائیں جانب آکر کھڑا ہوگیا۔ آپ ﷺ نے مجھے اپنے دائیں جانب کیا اور پانچ رکعتیں ادا کیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے ، حتى کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹے سنے۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے نکل گئے۔
صحیح البخاری:697
رمضان المبارک میں با جماعت نماز تہجد یا نماز تراویح کے بارہ میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، وَأَوْتَرَ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ بِنَا، فَأَقَمْنَا فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ فَتُصَلِّيَ بِنَا، قَالَ: «إِنِّي كَرِهْتُ - أَوْ خَشِيتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ»
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رمضان المبارک میں آٹھ رکعت (نماز تراویح) اور وتر پڑھائے ، تو جب اگلی رات آئے ہم مسجد میں جمع ہوئے ، اور ہمیں امید تھی کہ آپ ﷺ نکلیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے ، ہم صبح تک وہیں رہے ۔ تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ ﷺ کے نکلنے کی امید رکھتے تھے کہ آپ ﷺ ہمیں نماز پڑھائیں گے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ناپسند کیا یا میں ڈر گیا کہ کہیں تم پر وتر فرض نہ ہو جائے ۔
(صحیح ابن حبان : 2415)
اسی طرح جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے وہ فرماتے ہیں :
جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟» قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ رمضان کی گزشتہ رات مجھ سے کچھ ہوا ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے اُبَی وہ کیا ہوا؟ کہنے لگے میرے گھر میں کچھ عورتیں تھیں انہوں نے کہا کہ ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی تو ہم تیری اقتداء میں نماز پڑھنا چاہتی ہیں ، کہتے ہیں کہ میں نے انہیں آٹھ رکعتیں پڑھائیں اورپھر ایک وتر پڑھائے ۔ (عبد اللہ بن جابر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس پر کچھ بھی نہیں کہا اور یہ آپ ﷺ کی رضامندی ظاہر کرنے کی طرح ہی ہوگیا ۔
(صحيح ابن حبان : 2549)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے خود بھی رمضان المبارک میں آٹھ تراویح اور وتر پڑھائے اور آپ ﷺ کے بعض صحابہ نے بھی آپ ﷺ کے دور مسعود میں آٹھ رکعت اور وتر باجماعت پڑھائے ، اور یہ بات آپ ﷺ کے علم میں بھی لائی گئی اور آپ ﷺ نے اس پر خاموشی اختیار کی ۔ یعنی آپﷺ کی فعلی اور تقریری حدیث سے رمضان المبارک میں آٹھ رکعت تراویح اور تین وتر باجماعت پڑھنا پڑھانا ثابت ہے ۔
اسی طرح سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں گیارہ رکعت تراویح کا اہتمام فرمایا :
عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ وَقَدْ كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ
سیدنا سائب بن یزید الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اُبَیّ بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت (آٹھ تراویح اور تین وتر) پڑھائیں ۔ (سائب رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ قاری مِئِین (وہ سورتیں جنکی آیات سو سے زائد ہیں ) پڑھتے تھے حتى کہ ہم لمبا قیام ہونے کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لیا کرتے اور ہم فجر کے قریب ( نماز سے واپس ) لوٹتے ۔
(موطا مالك : 253)
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے قبل لوگ باجماعت نماز تراویح ادا نہیں کرتے تھے ۔ تو انکا یہ خیال خام ہے ۔ کیونکہ اس سے قبل جیسا کہ سابقہ سطور میں ذکر کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے خود بھی کچھ دن نماز تراویح باجماعت پڑھائی ہے اور فرض ہونے کے خدشہ سے ترک کر دی ، اور آپ ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی باجماعت نماز تراویح پڑھی ۔ اور باجماعت نماز تراویح کا یہ سلسلہ آپ ﷺ کے دور مسعود سے آج تک مسلسل چلا آرہا ہے ۔ ہو ا صرف یہ کہ لوگ ایک ہی مسجد میں مختلف گروہوں کی صورت نماز پڑھتے تھے ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد کے تمام لوگوں کو ایک امام کے پیچھے جمع فرما دیا :
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنْ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ
عبد الرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی رات مسجد کی طرف گیا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروہوں میں تھے ، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا توکسی کی اقتداء میں ایک گروہ نماز کی ادائیگی کر رہا تھا ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ فرمایا میرا خیال ہے کہ اگر میں انہیں ایک ہی قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ پھر انہوں نے اس کام کا پختہ ارادہ بنا لیا اور انہیں اُبَیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں جمع کر دیا ۔ پھر میں انکے ساتھ ایک دوسری رات کو نکلا اور لوگ اپنے قاری کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ فرمایا یہ اچھی ایجاد ہے ، اور رات کے جس حصہ میں وہ سو جاتے ہیں وہ اس کی نسبت بہتر ہے جس میں وہ قیام کرتے ہیں ۔ وہ (بہتر حصہ سے ) رات کا آخری حصہ مراد لے رہے تھے ، جبکہ لوگ رات کے پہلے حصہ میں قیام کرتے تھے ۔
(صحيح البخاري : 2010 )
مذکورہ بالا ادلہ کی روشنی میں یہ بات نہایت واضح ہے کہ نماز تراویح رسول اللہ ﷺ کی قولی ، فعلی، اور تقریری سنت سے ثابت ہے، اور اسکا اہتمام آپ ﷺ نے بھی فرمایا اور آپکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی، لہذا اسے بدعت قرار دینا قطعا درست نہیں۔ جولوگ اسے بدعت قرار دیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
رہا عبد القادر حصاروی صاحب کے بارہ میں آپکا سوال تو اسکا جوا ب گزشتہ سوال کے جواب میں ہو چکا ہے۔ وہاں ملاحظہ فرما لیں۔
سوال نمبر 3 ۔ کیا واقعی تراویح نفلی و اختیاری عبادت ہے ؟؟؟ جسے بلا عذر ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں ؟؟؟
جی بالکل! تراویح یا تہجد یا قیام اللیل ایک نفلی عبادت ہے جسکی ادائیگی پہ ثواب ہے ، البتہ اسکےعمدًا ترک کرنے پہ کوئی گناہ نہیں ہے۔
سوال نمبر 4 ۔ کیا واقعی سنت کے مطابق تہجد و تراویح ایک ہی نماز ہے ؟؟؟ اگر ایک ہی ہے تو نواب صدیق حسن خان نواب وحید الزمان اور مولانا امرتسری مولانا نزیر حسین دہلوی کے خلاف اشتہار کب شائع ہوگا ۔ جو دونوں کو الگ الگ قرار دیتے تھے ؟؟؟
پہلے سوال کے جواب میں واضح کیا جا چکا ہے کہ تہجد وتراویح ایک ہی نماز کے مختلف اعتبارات سے مختلف نام ہیں۔ رہی مذکورہ بزگوں کی بات تو انکے بارے میں پہلے سوال کے دوسرے جز کا جواب ملاحظہ فرما لیں۔ باقی رہی اشتہار بازی کی بات تو وہ ہمارا نہیں آپ کا شیوہ ہے، شوق سے اپنائیے۔
سوال نمبر 5 ۔ کیا واقعی قیام رمضان تراویح سے الگ کوئی نماز ہے ؟؟ اگر الگ نماز ہے تو اس رکعات کتنی ہیں ؟؟
قیام رمضان /قیام اللیل/ تراویح/ تہجدایک ہی نماز کے نام ہیں، تفصیل کے لیے پہلے سوال کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔
سوال نمبر 6 ۔ کیا واقعی نماز تراویح جماعت بغیر جائز نہیں ؟؟؟ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کا حکم کیا ہوگا ؟؟ تراویح ادا ہوگی یا نہیں ؟
تراویح یا تہجد با جماعت بھی ادا کی جاسکتی ہے اور بغیر جماعت بھی، دلیل کے لیے پہلے سوال کا جواب ملاحظہ کریں۔
سوال نمبر 7 ۔ کیا واقعی تہجد اور تراویح کی الگ الگ گیارہ رکعات ہیں ؟؟ اگر ہیں تو سنت کی روشنی میں ان کی ترتیب کیا ہوگی ؟؟
سوالات کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک ہی سوال مختلف الفاظ میں آپ نے لکھ دیا ہے۔ سو اسکا جواب پہلے ہی ہو چکا کہ تہجد وتراویح ایک ہی نماز ہے، لہذا اس کو الگ الگ قرار دینے کی بنیاد پہ کھڑے سوالات خود ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
سوال نمبر 8 ۔ نماز تراویح اول شب پڑھنی افضل ہے یا آخر شب ؟؟ سنت نبوی کی روشنی میں وضاحت فرمایئے ۔
تراویح رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے، اور عشاء کےبعد سے طلوع فجر تک کسی بھی حصے میں پڑھنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اکثر رات کے آخری پہر قیام فرماتے اور کبھی اول شب اور کبھی وسط لیل میں۔
عضیف بن الحارث کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:
أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟
آپ کا کیا خیال ہےرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم صلاۃ وتر اول شب ادا فرماتے تھے یا آخر شب؟
تو انہوں نے فرمایا:
رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ
کبھی اول شب صلاۃ وتر ادا فرماتے تو کبھی آخر شب
سنن ابی داود: 226
اسی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رات کے ہر پہر میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے نماز وتر ادا کی ہے۔
صحیح البخاری: 996
سوال نمبر 9 ۔ تراویح گھر میں پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں ؟؟؟ اور جو گھر میں پڑھنے کو افضل قرار دیتے ہیں ، ان پر کیا فتوی ہوگا ؟؟؟
تراویح چونکہ نفلی نماز ہے اس لیے مسجدمیں پڑھنے کی نسبت گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً - قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ حَصِيرٍ - فِي رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا المَكْتُوبَةَ»
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں چٹائی کا ایک حجرہ (مسجد میں) بنایا اور اس میں کچھ راتیں نماز ادا کی تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شروع کر دی، جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو اسکا علم ہوا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے (یعنی نماز کو مؤخر کیا)پھر انکی طرف نکلے اور فرمایا میں نے تمہارا وہ عمل دیکھا ہے جو تم نے کیا، لہذا اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز ادا کرو، کیونکہ آدمی کی افضل نماز اسکے گھر میں ہوتی ہے، سوائے فرض نماز کے۔
صحیح البخاری: 731
اس حدیث میں ایک تو یہ واضح ہوا کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے قیام اللیل گھر میں کرنے کو افضل قرار دیا ۔ اور دوسرا یہ معلوم ہوا لوگوں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جو نماز ادا کی تھی وہ بھی درست تھی کیونکہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے انکے اس عمل کو باطل قرار نہیں دیا۔ اور تیسری یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جو تین دن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جماعت کروائی اس وقت آپ صلى اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں تھے کیونکہ آپ نے بوریے (چٹائی) کا حجرہ اپنے لیے بنا رکھا تھا۔
سوال نمبر 10 ۔ کیا واقعی تراویح کی رکعات متعین نہیں ؟؟ اگر متعین ہیں تو 9 - 11 - 13 - 20 - 40 تراویح پڑھنے کی اجازت دینے والوں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟ اگر رکعات متعین نہیں ہیں تو 8 اور 20 کا جھگڑا کرنے کے مقاصد کیا ہیں ؟؟؟
نماز تراویح یا قیام اللیل کی مسنون تعداد زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سےزیادہ نہیں کرتے تھے۔
صحیح البخاری: 1147
رہے وہ لوگ جو 20 یا 40 رکعات یا اس سے بھی زائد پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں تو وہ غیر مسنون عمل کی اجازت دینے والے ہیں۔
سوال نمبر 11 ۔۔ کیا واقعی تراویح کی 11 رکعات مسنون اور باقی بدعت ہیں ؟؟ اگر بدعت ہیں تو پڑھنے والوں کا کیا حکم ہے ؟؟ فتوی دینے سے قبل ان کی فہرست ضرور ملاحظہ فرمالیجئے ۔ اور اگر بدعت نہیں تو انہیں بدعت قرار دینے والوں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟؟
جی ہاں! تراویح کی زیادہ سے زیادہ 11 رکعت ہی مسنون ہیں ، اس سے زائد سنت سے ثابت نہیں۔ رہی پڑھنےوالوں پہ حکم کی بات تو یہ اچھی طرح سے سمجھ لیجئے کہ سب افراد پہ ایک ہی حکم نہیں لگتا،ہر ایک پہ اسکے حسب حال الگ الگ حکم لگتا ہے۔ البتہ مطلق طور پہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو بھی 11رکعت سے زائد تراویح پڑھتا ہے وہ سنت سے تجاوز کرنے والا ہے۔
سوال نمبر 12 ۔ کیا واقعی تراویح کی 11 مسنون اور باقی مستحسن ہیں ؟؟ اگر مستحسن ہیں تو پڑھنے والوں کے خلاف مناظرہ بازی اور اشتہار بازی کا سلسلہ کیوں ؟؟ کیا مستحسن عمل سے روکنا جائز ہے ؟؟
مسنون 11 رکعت ہیں، اور اسے زائد مستحسن نہیں بلکہ غیر مسنون ہیں۔
سوال نمبر 13 ۔ کیا واقعی 20 رکعات سنت خلفاء راشدین نہیں ؟؟؟ اگر نہیں تو امام حرم شیخ ابن باز پر کیوں فتویٰ جاری نہیں ہوتا جو 20 رکعات کو سنت خلفاء راشدین قرار دیتے ہیں ؟؟
واقعی 20 رکعت سنت خلفاء راشدین نہیں! کیونکہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے 11رکعات کا حکم دیا تھا اور اتنی ہی رکعتیں پڑھائی جاتی رہیں جیسا کہ سوال نمبر 2 کے جواب میں گزر چکا ہے۔
رہی ابن باز کی بات ،تو اسکے لیے پہلے سوال کےجواب کا دوسرا جز ایک بار پھر پڑھ لیں۔
سوال نمبر 14 ۔ کیا واقعی غیر مقلدین کی مساجد میں احناف کو اپنی 20 رکعات تراویح اپنے امام کی اقتدا میں پوری کرنے سے روکنا گناہ ہے ؟؟ اگر نہیں تو سردار اہلحدیث مولانا ثناء اللہ امرتسری کے بارے میں کیا رائے ہے ؟؟
20رکعت تراویح جہاں بھی ہو، اسےاحسن انداز میں روکنا کوئی گناہ نہیں ہے۔
سوال نمبر 15 ۔ کیا واقعی غیر مقلدین کو اہل سنت کی مساجد میں سنی امام کے پیچھے 20 رکعات پوری کرنا ضروری ہیں ؟؟ اگر نہیں تو امام خانہ کعبہ پر کب فتویٰ جاری ہوگا جو اسے سنت قرار دیتے ہیں ؟؟
قطعا ضروری نہیں!
امام کعبہ کا اسے مسنون قرار دینا محتاج دلیل ہے۔
سوال نمبر 16 ۔ کیا آپ ﷺ نے پورا رمضان تراویح پڑھی ہے ؟؟؟
اس کا جواب پہلے ہو چکا کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم صرف رمضان نہیں بلکہ سارا سال یہ نماز ادا فرماتے تھے۔
سوال نمبر 17 ۔ کیا آپ ﷺ نے ہمیشہ باجماعت تراویح پڑھائی ہے ؟؟؟
یہ بھی واضح کیا جاچکا کہ کبھی آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے جماعت کروائی اور کبھی اکیلے پڑھی، دونوں عمل مسنون ہیں۔
سوال نمبر 18 ۔ کیا آپ ﷺ نے پورا رمضان مسجد میں تراویح پڑھائی ہے ؟؟
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے پورا رمضان مسجد میں تراویح نہیں پڑھائی، البتہ چند دن پڑھائی ہے جو اسکے جواز کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ جیساکہ عمرہ بھی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سال کے ہر مہینے ہر دن میں نہیں کیا لیکن اسکا جواز برقرار رکھا۔ اسی طرح دیگر عبادات ہیں کہ ان کا جواز ثابت ہو جانا ہی کافی ہوتا ہے۔
سوال نمبر 19 ۔ کیا آپ ﷺ نے تراویح میں پورا قرآن ختم کیا یا حکم دیا ؟؟؟
جب آخری آیت نازل ہوئی اسکے بعد رمضان کا مہینا آنے سے قبل ہی آپ صلى اللہ علیہ وسلم داغ مفارقت دے گئے تھے، لہذا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا پورا قرآن تراویح میں پڑھنے کا سوال ہی عبث ہے!
ہاں یہ ضرور ہے کہ پورا قرآن پڑھنا قرآن مجید کی آیت فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ جسے مکمل قرآن کی تلاوت میسر ہو وہ مکمل کر سکتا ہے۔
سوال نمبر 20 ۔ کیا آپ ﷺ نے باجماعت تراویح کا حکم دیا ہے ؟؟
کیا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا عمل اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا باجماعت تراوایح پہ رضامندی ظاہر کرنا جواز کے لیے کافی نہیں؟
سوال نمبر 21 ۔ کیا آپ ﷺ نے دو دو رکعت تراویح کا حکم دیا ہے ؟؟
کیا آپ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے عمل کو حجت نہیں مانتے، اگر مانتے ہیں تو حکم کا مطالبہ چہ معنى دارد۔ کیونکہ یہ معلوم ہے کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم دودو رکعت کرکے بھی قیام اللیل فرماتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری (183) میں ہے۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 02:28
2022-01-23 - 1776





