اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

تین وتر کیسے پڑھیں؟

سوال

تین رکعات نماز وتر پڑھنے کا طریقہ  کیا ہے؟ کیا دوسری رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا ہو گا؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

تین وتر اکٹھے بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ»

وتر ہر مسلمان پہ حق ہے۔ سو جو پانچ وتر پڑھنا چاہے تو وہ پڑھ لے، اور جو تین وتر پڑھنا چاہے تو وہ پڑھ لے، اور جو ایک وتر پڑھنا چاہے تو وہ بھی پڑھ لے۔

سنن أبي داود: 1422

رسول اللہ ﷺ بھی تین وتر پڑھا کرتے تھے:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: 190] فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سوئے، تو نبی مکرم ﷺ بیدار ہوئے آپ ﷺ نے مسواک فرمائی اور وضوء کیا اور آپ ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے  {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: 190] آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں حتى کہ سورۃ مکمل کی پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں ادا کیں ان میں قیام ، رکوع اور سجدہ لمبا  لمبا کیا۔ پھر سلام پھیرا  اور سو گئے حتى کہ خراٹے لینے لگے پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ اسی طرح کیا اور کل چھ رکعات پڑھیں ۔ ہر مرتبہ مسواک کرتے اور ضوء فرماتے تھے اور یہ آیات پڑھتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے تین وتر پڑھے۔

صحيح مسلم : 763

تین اور پانچ رکعت وتر پڑھیں تو تشہد صرف آخری رکعت میں ہی بیٹھا جائے گا۔ درمیان میں نہیں۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا».

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں سے پانچ وتر پڑھتے تھے اس دوران وہ کسی رکعت میں (تشہد)نہیں بیٹھتے تھے سوائے آخری رکعت کے۔

صحيح مسلم: 737 ، سنن أبي داود: 1338

اس روایت سے تین رکعت وتر میں تشہد نہ بیٹھنے پر استدلال بالاولویہ ہے ۔ کہ جب پانچ رکعت وتر میں درمیانی تشہد نہیں تو تین رکعت وتر میں بطریق اولى صرف ایک ہی تشہد ہوگا۔ یاد رہے کہ کچھ روایات میں اس بات کی صراحت بھی ہے کہ تین رکعت وتر میں صرف ایک ہی تشہد ہے لیکن انکی سندوں میں کچھ کلام ہے۔

 

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الاحد PM 03:59
    2022-01-23
  • 1082

تعلیقات

    = 7 + 8

    /500
    Powered by: GateGold