اعداد وشمار
مادہ
خطبہ کے دوران دعاء پہ ہاتھ اٹھا کر آمین کہنا
سوال
کیا جمعہ کے دن جب خطیب خطبہ کے بعد دعا کرے تو عوام ہاتھ اٹھا کے آمین کہ سکتے ہیں؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
اللہ سبحانہ وتعالى نے دعاء کے لیے یہ اصول مقرر فرمایا ہے:
ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اپنے رب کو تضرع کے ساتھ چُپکے چُپکے پکارو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
[الأعراف : 55]
"خفیۃ" یعنی چپکے سے دعاء مانگنے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو دعاء اونچی آواز سے مانگی جائے اور نہ ہی ہاتھ اٹھا کر!
یعنی بآواز بلند دعاء مانگنا یا ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا اس آیت کریمہ کی رو سے منع ہے!!!
البتہ کچھ مواقع ایسے ہیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے جہرا یعنی اونچی آوز سے یا ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگی ہے۔ تو وہ مواقع اس عمومی قاعدہ سے مستثنى ہیں۔ ان موقعوں پر ہاتھ اٹھا کر یا اونچی آواز سے دعاء کی جاسکتی ہے۔انکے علاوہ باقی مواقع پر یہ عمومی قاعدہ فٹ آئے گا، اور جہرا دعاء مانگنا یا ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا ناجائز ہوگا۔
خطبہ کے دوران بآوز بلند دعاء مانگنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، بلکہ یہ خطبہ کا حصہ ہے۔ البتہ اس دعاء پر جہرا آمین کہنا، یا ہاتھ اٹھا لینا یہ ثابت نہیں ہے۔ سو خطبہ کے دوران خطیب کا جہرا دعاء مانگنا تو درست ، لیکن اس دعاء کی قبولیت کی دعاء یعنی آمین کہنے کے لیے سامعین کا ہاتھ اٹھانا یا بآواز بلند آمین کہنا اللہ تعالى کے بیان کردہ اصول کی رو سے ناجائز ۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 04:03
2022-01-23 - 1297





