اعداد وشمار
مادہ
دو آدمیوں کی جماعت میں تیسرے کی شمولیت
سوال
جب جماعت کے لیے صرف دو آدمی ہوں تو وہ اکٹھے کھڑے ہوتے ہیں یعنی امام کے دائیں جانب مقتدی۔ اب تیسرا آدمی آئے تو اس بارہ میں نے سنا تھا کہ اس کو امام کو ہلکا سا دھکا دینا چاہیے تاکہ امام اگلی صف پر چلا جائے ۔ مگر آج میں نے مسجد میں دیکھا کہ دو آدمیوں کی جماعت ہو رہی تھی تو تیسرا آدمی آیا اور وہ مقتدی کو پچھلی صف پر لے آیا۔ اس بارے میں بتائیں کہ کیا طریقہ ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
جب امام کے ساتھ ایک مقتدی ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہوگا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ - أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ - ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ "
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات رہا، رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی اور تشریف لائے آپ ﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں پھر سو گئے۔ پھر اٹھے تو میں آیا اور آپکی بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی دائیں جانب کیا اور پانچ رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں ادا کیں پھر سو گئے حتى کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹے سنے، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے چلے گئے۔
صحیح البخاری:697
جب امام کے ساتھ دو مقتدی ہوں تو انکے کھڑے ہونے کی جگہ امام کے پیچھے ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «قُومُوا فَلَأُصَلِّيَ لَكُمْ»، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ «فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انکی دادی ملیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانا کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے خود تیار کیا تھا تو آپ ﷺ اس میں سے کچھ کھایا پھر فرمانے لگے: اٹھو میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو پرانی ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی میں نے اس پہ پانی چھڑکا ۔ رسول اللہ ﷺ اس پہ کھڑے ہوگئے اور میں نے اور ایک بچہ نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئی ۔ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ۔ پھر آپ ﷺ لوٹ گئے۔
سنن أبی داود: 612
جب دو شخص نماز ادا کررہے ہوں ایک امام اور ایک مقتدی اور تیسرا آدمی جماعت میں شامل ہو جائے تو صف بندی کی یہی صورت بنا ئی جائے گی کہ امام آگے ہو اور دونوں مقتدی اسکے پیچھے ہوں۔ اسکے لیے خواہ امام آگے بڑھ جائے ، خواہ مقتدی پیچھے آ جائے۔ دونوں میں سے جو طریقہ مناسب ہو اختیار کر لیا جائے۔ کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 04:06
2022-01-23 - 2403





