اعداد وشمار
مادہ
عورتوں کا طاق راتوں میں اکٹھا ہونا اور نماز تسبیح پڑھنا
سوال
کیا عورتیں طاق راتوں میں کسی جگہ اکٹھی ہو کر عبادت کر سکتی ہیں ؟ اور نماز تسبیح با جماعت ادا کر سکتی ہیں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
مردوں اور عورتوں کا طاق راتوں میں مسجد میں جمع ہونا اور قیام اللیل کرنا یا انفرادی طور پہ ذکر و دعاء کرنا بالکل جائز اور درست ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ایسا کرنا ثابت ہے۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ»، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ
ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان بھر روزہ رکھا, آپ ﷺ نے ہمیں مہینہ میں کسی رات بھی قیام نہ کروایا حتى کہ سات دن باقی رہ گئے تو ہمیں (23ویں رات) قیام کروایا حتى کہ رات کا تہائی حصہ گزر گیا۔ پھر جب اگلی رات آئی تو ہمیں قیام نہ کروایا , پھر جب پچیسویں رات تھی تو ہمیں قیام کروایا حتى کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کاش آپ ہمیں ساری رات ہی قیام کروا دیتے۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ آخر تک نماز پڑھتا ہے تو اسے رات بھر کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔ پھر جب اگلی رات آئی تو آپ ﷺ نے ہمیں قیام نہ کروایا , پھر جب ستائیسویں رات آئی تو آپ ﷺ نے اپنے اہل وعیال اور بیویوں اور لوگوں کو جمع کیا , اور ہمیں قیام کروایا حتى کہ ہم ڈرنے لگے کہیں ہم سے سحری نہ رہ جائے۔
سنن ابی داود: 1375
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ طاق راتوں میں قیام اللیل کرنے کے لیے مرد بھی اور خواتین بھی اہتمام کے ساتھ کسی جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح نماز تسبیح پڑھنا بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ آپ ﷺ نے اسکی ترغیب دلائی ہے۔ لیکن نماز تسبیح کی جماعت کروانا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ لہذا جو مرد وخواتین نماز تسبیح پڑھنا چاہیں وہ انفرادی طور پہ الگ الگ نماز تسبیح ادا کریں۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 06:11
2022-01-23 - 1113





