اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

فجر کی سنتوں کے مؤکدہ ہونے کی دلیل

سوال

شیخ میرا سوال یہ ہے کہ جب کسی کی بلا دلیل بات ماننا تقلید کہلاتا ہے تو فجر کی سنت مؤکدہ کی کیا دلیل ہے ؟ تفصیل سے جواب دیں ۔ شکریہ

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

 

فجر کی دوسنتیں بھی نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہیں اور انکا مؤکدہ ہونا بھی حدیث رسو ل صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ المُؤَذِّنُ بِالأُولَى مِنْ صَلاَةِ الفَجْرِ قَامَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الفَجْرِ، بَعْدَ أَنْ يَسْتَبِينَ الفَجْرُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ المُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ»

مؤذن جب فجر کی اذان دے کر فارغ ہوتا تو نماز فجر سے قبل اور طلوع فجر کے بعد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے ، پھر دائیں کروٹ لیٹ جاتے ، حتى کہ مؤذن اقامت کے لیے ان کے پاس آتا۔

صحیح البخاری: 626

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

«رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

فجر کی دو رکعتیں  دنیا وما فیہا سے بہتر ہیں ۔

صحیح مسلم : 725 ، جامع الترمذی : 1759

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

" مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ المَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ "

جس نے بھی دن اور رات میں بارہ رکعتیں ادا کیں اسکے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ چار رکعتیں ظہر سے پہلے ، دو رکعتیں ظہر کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور دو رکعتیں صبح کی نماز ، نماز فجر سے پہلے۔

جامع الترمذی : 415

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

 " رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً: رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ العَصْرِ "

دو رکعتیں ایسی ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم انہیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے ، نہ سراً ، اور نہ ہی علانیۃً : دو رکعتیں نماز صبح سے قبل اور دو رکعتیں نماز عصر کے بعد۔

صحیح البخاری: 592

یعنی فجر کی ان دور کعتوں کی بہت زیادہ فضیلت اور تاکید احادیث نبویہ میں بیان ہوئی ہے کہ یہ دو رکعتیں:

1۔ دنیا وما فیہا سے بہتر ہیں ۔

2۔ جنت میں گھر بننے کا سبب ہیں۔

3۔ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی نہیں چھوڑا

مؤکدہ کا معنى ہوتا ہے جس کی تاکید کی گئی ہو ، تو جب فجر کی ان دو  سنتوں کی اس قدر تاکید کی گئی ہے تو انہیں سنت مؤکدہ ہی کہا جائے گا۔

الغرض نہ تو فجر کی یہ دو سنتیں بلا دلیل ہیں ، نہ ہی نہیں سنت کہنا بلا دلیل ہے ، اور نہ ہی انہیں سنت مؤکدہ کہنا بلا دلیل ہے۔

 

 

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الاحد PM 06:18
    2022-01-23
  • 922

تعلیقات

    = 2 + 3

    /500
    Powered by: GateGold