اعداد وشمار
مادہ
تشہد کے بعد رفع الیدین
سوال
کسی بھی تشہد سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا ہے یا دو رکعتوں سے اٹھتے وقت ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ:
"كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه ، وإذا ركع رفع يديه ، وإذا قال : سمع الله لمن حمده ، رفع يديه ، وإذا قام من الركعتين رفع يديه "
[صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين، حديث:739]
"جب نماز کا آغاز فرماتے تو تکبیر کہتے اور رفع الیدین فرماتے، اور جب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اُٹھاتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رفع الیدین کرتے، اور جب دو رکعتوں سے اُٹھتے تو پھر بھی رفع الیدین فرماتے۔"
اس حدیث میں رفع الیدین کا مقام " دور کعتوں سے اٹھنے" کو قرار دیا ہے گیا ہے ۔ رفع الیدین جو دورکعات کو مکمل کرکے تیسری رکعت کےلیے کھڑے ہو کر رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے ، لوگوں نے اس کو تشہد کے ساتھ جوڑ دیا ہے کہ جب بھی تشہد سے اُٹھتے ہیں تو اگلی رکعت کے لیے رفع الیدین کر لیتے ہیں جبکہ ایسا کرنا خلاف سنت ہے کیونکہ رسول اللہﷺ جب بھی دو رکعتوں سے اُٹھتے تو رفع الیدین فرماتے ، جیسا کہ آغاز میں ذکر کردہ حدیث کے الفاظ سے واضح ہے۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 06:41
2022-01-23 - 1384





