اعداد وشمار
مادہ
مقبوضہ جگہ پہ مسجد بنانا
سوال
کسی کی زمین پر قبضہ کرکے مسجد بنانے کا کیا حکم ہے ؟ اور کیا ایسی مسجد میں نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟ ہمارے علاقہ میں کچھ لوگوں نے ایک آدمی کی زمین پر قبضہ کرکے مسجد بنا ڈالی ہے ۔ اور جہاں مسجد بنائی گئی ہے وہاں بنانے والوں کی تعداد بھی دو چار افراد پر مشتمل ہے ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
کسی کی زمین پر قبضہ کرنا بہت بڑا جرم ہے ، یہ کبیرہ گناہ کے زمرہ میں آتا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
جس نے ایک بالشت زمین پر بھی ناجائز قبضہ کیا ، قیامت کے دن اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
صحیح البخاری : 3198
نیز فرمایا:
مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
جس نے ناحق کسی زمین پر قبضہ کیا ، قیامت کے دن جب وہ اللہ سے ملے گا تو اللہ اس پر غضباناک ہونگے ۔
صحیح مسلم : 139
لہذا کسی بھی مقصد کے زمین پر قبضہ کرنا نا جائز ہے ۔ اور پھر اللہ کا گھر مسجد تعمیر کرنے کے لیے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے زمین خریدنے کا اسوہ اپنی امت کو دیا ہے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفَهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ قَالَ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ قَالَ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً
جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کےبالائی طرف بنون عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام فرمایا۔وہاں 14 دن تک ٹھہرے ، پھر بنونجار کی طرف پیغام بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے ۔ اور میری آنکھوں کے سامنے اب بھی وہی منظر ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے اور بنو نجار ان کے ارد گرد تھے، حتى کہ وہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ۔اس وقت جہاں بھی نماز کا وقت ہوتا نماز ادا کر لیتے تھے حتى کہ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز اداکرلیتے تھے ۔ پھر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنی نجار کو پیغام بھیجا کہ یہ باغ ہمیں بیچ دو ۔ تو وہ عرض کرنے لگے کہ ہم اسکی قیمت صرف اللہ سے ہی لیں گے ۔ تو اس باغ میں موجود مشرکین کی قبروں کو اکھاڑ دیا گیا اور ناہموار جگہ کو برابر کیا گیا اور کھجوروں کے درختوں کو کاٹ دیا گیا ۔ اور انہوں نے کھجوروں کے درختوں مسجد کے قبلہ کی جانب رکھ دیا اور دونوں اطرف میں پتھر رکھ دیے.....۔
صحیح البخاری : 3932
یعنی نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے بنو نجار سے باغ خریدنے کی بات کی اور انہیں قیمت کی پیش کش کی ، یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے وہ باغ مسجد کے لیے اللہ کی خاطر وقف کر دیا ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد بنانے کے لیے بھی جگہ خریدی جائے اور اگر کوئی مسلمان اپنی رضا اور خوشی سے مسجد کے لیے جگہ وقف کر دے تو اسکی مرضی ہے ۔ لیکن کسی کی جگہ پر قبضہ کرکے مسجد بنانے کی شریعت اجازت نہیں دیتی !
اور جب کبھی کسی مقبوضہ جگہ پر مسجد تعمیر ہو جائے اور مسجد کی تعمیر کا مقصد صرف صاحب زمین کو ضرر پہنچانا ہو تو ایسی جگہ پر بنائی گئی مسجد میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے ۔ اللہ تعالى کا فرمان ذی شان ہے :
وَالَّذِينَ اتَّخَذُواْ مَسْجِداً ضِرَاراً وَكُفْراً وَتَفْرِيقاً بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ
اور جنہوں نے ضرر پہنچانے کے لیے اور کفر کی خاطر اور مؤمنوں میں پھوٹ پیدا کرنے کے لیے مسجد بنائی ...
[التوبة : 107]
مزید فرمایا:
لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَداً لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ
آپ اس میں ہرگز کھڑے نہ ہوں ، البتہ وہ مسجد جسکی پہلے دن سے ہی بنیاد تقوى پر ہے وہ زیادہ حق رکھتی ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں....
[التوبة : 108]
ان آیات بینات سے واضح ہوتا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد تقوى پر ہو ، اللہ سے ڈر کر بنائی جائے اس میں نماز ادا کی جائے گی اور جسکی بنیاد تقوى پر نہ ہو ، بلکہ قبضہ گیری اور لڑائی فساد بپا کرنے پر ہو وہاں نماز پڑھنا منع ہے !
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 06:49
2022-01-23 - 2063





