اعداد وشمار
مادہ
نماز تراویح رات کے مختلف حصوں میں تقسیم کرکے پڑھنا
سوال
تراویح کی نماز عشاء کے بعد 4 اور رات کو 4 پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
ایسا کرنا بالکل درست ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ ایسا کرنے کی ترغیب دلاتے تھے اور یہ عمل رسول اللہ ﷺ سے بھی ثابت ہے۔
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ هَذَا السَّهَرَ جَهْدٌ وَثِقَلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ»
یقینا یہ شب بیداری بہت مشکل اور بوجھل کام ہے۔ لہذا جب تم میں سے کوئی (عشاء کے بعد) وتر پڑھے تو اسکے بعد دو رکعتیں ادا کر لے۔ تو اگر رات کو (اسکی آنکھ کھل گئی اور) اس نے قیام کر لیا (تو بہت خوب) وگرنہ یہ دو رکعتیں ہیں اسکے لیے (قیام اللیل سے) کافی ہو جائیں گی۔
سنن الدارمی: 1635
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ - أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ - ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ "
میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری تو رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد گھر تشریف لائے اور چار رکعتیں ادا کیں پھر سو گئے۔پھر آپ ﷺ نے قیام شروع کیا تو میں بھی آپ ﷺ کے بائیں جانب آکر کھڑا ہوگیا۔ آپ ﷺ نے مجھے اپنے دائیں جانب کیا اور پانچ رکعتیں ادا کیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر سو گئے , حتى کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹے سنے۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے نکل گئے۔
صحیح البخاری:697
اس حدیث میں واضح ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے رات کے اول حصہ میں چار رکعتیں ادا کیں اور پھر رات کےآخری حصہ میں وتر سمیت پانچ رکعات ادا فرمائیں۔
نماز تراویح یا قیام اللیل کو دو سے زائد رات کے مختلف حصوں میں ادا کرنا بھی درست ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: 190] فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا»
وہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سوئے تو نبی مکرم ﷺ بیدار ہوئے اور آپ ﷺ نے وضوء فرمایا اور آپ یہ آیات پڑھ رہے تھے {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: 190] آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں حتى کہ سورۃ (آل عمران) مکمل کی , پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں ادا کیں ان میں قیام اور رکوع اور سجدہ لمبا کیا۔ پھر فارغ ہوئے تو سو گئے حتى کہ خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ ﷺ تین مرتبہ ایسا ہی کیا اور چھ رکعتیں ادا کیں ۔ ہر مرتبہ مسواک فرماتے اور وضوء کرتے اور یہ آیات تلاوت فرماتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے تین وتر ادا کیے۔ اسکے بعد مؤذن نے اذان دی تو آپ ﷺ نماز کے لیے نکل گئے اور یہ دعاء پڑھ رہے تھے «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا»
صحیح مسلم: 763
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 10:21
2022-01-23 - 1047





