اعداد وشمار
مادہ
نماز کی تکبیرات واذکار و قراءت کے متعلق مقلدین کے اعتراضات
سوال
مقلدین احناف کی طرف سے یہ چند سوالات بڑے شد ومد سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ براہ مہربانی ان کا تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں
1- امام نماز میں تکبیر اونچی آواز سے کیوں کہتا ہے اور مقتدی آہستہ کیوں کہتے ہیں؟
2- وہابی امام اونچی آواز سے آمین کیوں کہتا ہے؟
3- امام کے اونچی آواز سے سلام پھیرنے اور مقتدیوں کے دل میں سلام کہنے کی کیا دلیل ہے؟
4- امام فجر کی نماز میں اونچی آواز سے کیوں قراءت کرتا ہے اور مقتدی اونچی کیوں نہیں پڑھتے؟
5- مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے اونچی قراءت کرنے کی کیا دلیل ہے؟
6- ظہر اور عصر کی نماز میں امام اور مقتدی سبھی سراً کیوں پڑھتے ہیں؟
7- امام اور مقتدی سبھی تشہد اور اسکی دعائیں اونچی آواز سے کیوں نہیں پڑھتے؟
8- امام اور مقتدی رکوع کی دعائیں آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟
9- امام اور مقتدی دونوں ہی سجدے کی دعائیں اونچی آواز سے کیوں نہیں پڑھتے
10- امام اونچی آوز سے سمع اللہ کہتا ہے، اسکی کیا دلیل ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
اللہ تعالى کا فرمان ہے :
واذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ
(الأعراف :205)
اور ڈرتے ہوئے ، اپنے دل میں ، تضرع کے ساتھ ، اونچی آواز نکالے بغیر صبح وشام اپنے رب کا ذکر کر، اور غافلوں میں سے نہ ہو جا ۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالى نے ذکر کا اصول بتایا ہے کہ اللہ کا ذکر دل میں ، اونچی آواز نکال بغیر کیا جائے ۔ لہذا تمام تر اذکار دل میں ہی کیے جائیں اور اونچی آواز نکالے بغیر کیے جائیں ، ہاں جو اذکار جن مواقع پر بآواز بلند کرنا ثابت ہیں وہ ان موقعوں پر اونچی آواز سے کیے جائیں گے ۔ کیونکہ وہ شرعی دلیل کے ذریعہ اس قاعدہ کلیہ سے مستثنى ہو گئے ہیں ۔
اسی طرح دعاء کے بارہ میں بھی اللہ سبحانہ وتعالى نے قانون مقرر فرمایا ہے :
ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اپنے رب سے تضرع کے ساتھ چپکے چپکے دعاء مانگو ، یقینا وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
[الأعراف : 55]
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالى نے دعاء مانگنے کا اصول ذکر فرمایا ہے کہ دعاء خفیۃ کی جائے یعنی چپکے چپکے ۔ سو کوئی بھی دعاء ہو اسی اصول کے تحت کی جائے گی ۔ ہاں جن ادعیہ کا بآواز بلند کرنا ثابت ہے وہ اس عمومی قاعدہ سے مستثنى ہونگی ۔
اور تکبیر ، یعنی اللہ اکبر، تعوذ یعنی اعوذ باللہ ، تحمید یعنی ربنا لک الحمد ، ثناء ، رکوع وسجود کی تسبیحات اور سلام بھی اللہ کا ذکر ہی ہیں ۔ ان پر بھی یہی قانون لاگو ہوگا کہ انہیں بھی دل میں ہی ، اونچی آواز نکالے بغیر کیا جائے ، امام کا بآواز بلند تکبیرات انتقال ، سمع اللہ لمن حمدہ ، اور سلام کہنا شرعی دلیل سے ثابت ہے لہذا وہ اس اصول سے مستثنى ہیں ۔
انکے استثناء کی دلیل اقتداء والی روایت ہے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسو ل اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا
یقینا امام صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ اسکی اقتداء کی جائے، تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ اٹھے تو تم اٹھو اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم (تسمیع کے بعد) ربنا لک الحمد کہو اور جب سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔
صحیح البخاری: 733
اور ظاہر کے کہ امام کی تکبیر و تسمیع مقتدی کو تبھی معلوم ہوگی جب امام بآواز بلند کہے گا، امام کی تکبیر وتسمیع سننے کے بعد ہی مقتدی اسکی اقتداء میں تکبیر وتسمیع کہہ سکیں گے۔
اسی طرح سلام کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ
رسول اللہ صلى ا للہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی (واپس گھر جانے کے لیے) اٹھ کھڑی ہوتیں، اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم اٹھنے سے کچھ دیر پہلے ٹھہرے (یعنی اسی حالت میں بیٹھے) رہتے۔(تاکہ عورتیں مردوں کے اٹھنے سے قبل مسجد سے نکل جائیں)
صحیح البخاری: 837
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا سلام اونچی آواز سے ہوتا تھا کیونکہ خواتین کی صفیں مردوں کی صفوں کے آخر سے شروع ہوتی تھیں اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سلام کے بعد کچھ دیر اسی حالت میں بیٹھ رہتے تھے ، لیکن خواتین کو آپ کے سلام پھیرنے کا فورا علم ہو جاتا تھا اور یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب سلام کی آواز ان تک پہنچے۔
اسی طرح رکوع وسجدہ کی دعائیں ، دورد ، درود کے بعد کی دعاء ، سبھی دعاء ہی ہیں اور انکے لیے قرآنی قاعدہ "خفیۃ" والا ہے ۔ لہذا یہ تمام تر دعائیں امام و مقتدی سبھی سرا پڑھیں گے ۔
اور آمین بھی دعاء کی قبولیت کی دعاء ہی ہے ۔ لیکن جہری نمازوں میں باجماعت نماز کے دوران جہری رکعات میں امام ومقتدی کا اونچی آواز سے آمین کہنا شرعی دلیل سے ثابت ہے ۔ لہذا وہ اس عمومی قاعدہ سے مستثنى ہے۔
اسکی دلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ، فَأَمِّنُوا
جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو۔
صحیح البخاری: 780
اور یہ واضح بات ہے کہ مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم تبھی ہوگا جب امام جہرا آمین کہے گا، تبھی وہ اسکی اقتداء میں آمین کہیں گے۔
اسی طرح نماز فجر اور مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعتوں میں امام کا جہرا قراءت کرنا بھی دلیل سے ثابت ہے، اور ظہر وعصر کی چاروں رکعات میں سرا قراءت کرنا بھی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فِي كُلِّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ
ہر نماز کی ہر رکعت میں ہی قرآن پڑھا جاتا ہے، تو جو ہمیں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سنایا ہم تمہیں سنا دیتے ہیں اور جو ہم سے مخفی رکھا ہم تم سے مخفی رکھتے ہیں۔
صحیح البخاری: 772
یعنی جن نمازوں میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے قراءت اونچی آواز سے کی ہم بھی اونچی آواز میں کرتے ہیں اور جن رکعتوں میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے سرًا قراءت کی وہاں ہم بھی اپنی آواز مخفی رکھتے ہیں۔
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كَأَنِّي أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِي الْكُنَّسِ
گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی آواز سن رہا ہوں (یعنی مجھے اچھی طرح یاد ہے) آپ صلى اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِي الْكُنَّسِ یعنی سورۃ التکویر کی تلاوت فرما رہے تھے۔
سنن أبی داود: 817
یہ حدیث فجر کی نماز میں بآواز بلند قراءت کرنے پہ دلالت کرتی ہے۔
ابو معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قُلْنَا لِخَبَّابٍ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: «بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ»
ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں بھی قراءت کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں!۔ ہم نے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوتا تھا؟ تو فرمایا: آپ کی داڑھی کی حرکت کی وجہ سے!
سنن أبی داود: 801
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ظہر وعصر میں جہرا قراءت نہیں کرتے تھے، بلکہ سرا کرتے تھے، وگرنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے کی حرکت سے قراءت کا اندازہ نہ لگانا پڑتا، بلکہ آواز سن کر ہی معلوم ہو جاتا کہ قراءت کی جا رہی ہے۔
سیدہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سورہ مرسلات کے بارے میں فرماتی ہیں:
لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے آخری مرتبہ یہ سورت سنی آپ صلى اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں یہ پڑھ رہے تھے۔
سنن أبی داود:810
یعنی مغرب کی قراءت جہرا تھی تبھی سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کو سنائی دی۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ: وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فِي العِشَاءِ، وَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ أَوْ قِرَاءَةً
میں نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ پڑھتے ہوئے سنا، اور میں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی اچھے آواز والے یا اچھی قراءت والے کو نہیں سنا۔
صحیح البخاری: 769
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاحد PM 11:48
2022-01-23 - 2148





