اعداد وشمار
مادہ
نماز میں سینے پہ ہاتھ باندھنے کی دلیل؟
سوال
نماز میں سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی دلیل کیا ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
طاوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ»
رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنا دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے اور انہیں اپنے سینہ پہ باندھتے۔
سنن أبی داود: 759
یہ سند مرسل ہے، مگر شواہد کی بناء پر صحیح ہے۔
اور احناف کے ہاں تو مرسل بھی قابل حجت ہے ، کیونکہ انکے امام کے نزدیک مرسل روایت موصول روایت سے زیادہ قوی ہوتی ہے!
قبیصہ بن ہلب اپنے والد ہلب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا :
رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، وَرَأَيْتُهُ، قَالَ، يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ
میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ دائیں اور بائیں (دونوں ) جانب (نماز کے بعد) پھرتے تھے اور میں نے آپ ﷺ کو دیکھ کہ آپ ﷺ اس (ہاتھوں) کو اپنے سینہ پہ رکھتے تھے۔
مسند احمد:21967
اسکی سند حسن ہے، قبیصہ بن ہلب کو عجلی اور ابن حبان نے ثقہ کہا ہے۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاثنين AM 12:10
2022-01-24 - 1190





