اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نمازی کے سُترے کی حد

سوال

اگر نمازی نے اپنے آگے سُترہ نہیں رکھا تو دوسرا بندہ کتنی دوری سے گزر سکتا ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اگر نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو رسول اللہ ﷺ نے نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع فرمایا ہے اور اسکی کوئی مسافت متعین نہیں فرمائی۔ ابو جہیم عبداللہ بن حارث الأنصاری ﷜فر ماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَوْ يَعْلَمُ المَارُّ بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ».

اگر نمازی کے آگے سے گزرنے  والے کو علم ہو جائے کہ اس پر کتنا گنا ہ ہے تو اس کے لئے چالیس ( دن ،مہینے ،یا سال ) تک کھڑا ر ہنا گزرنے سے بہتر ہو گا۔

[صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب إثم المار بین یدي المصلي، (510)]

  دج بالا حدیث سے معلو م ہو تا ہے  کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی حالت میں نمازی اور سترہ کے درمیان سے یا اگر سترہ موجود نہ ہو تو نمازی کے آگے سے نہ گزرا جائے ۔

یا د رہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی یہ ممانعت مطلقاً ہے۔ گزرنے والا خواہ کئی میلوں کے فاصلے  سے  بھی گزرے، اسے اتنا  گناہ ہے جتنا کہ قریب سے گزرنے والے کے لئے ہے ۔ لیکن کچھ لوگ اس ممانعت کو ایک صف یا چند صفوں تک کے فاصلہ سے محدود کر دیتے ہیں جس پہ انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہذا جب کسی کو علم ہو کہ کوئی نماز پڑھ رہا ہے اور اسکے آگے سُترہ نہیں ہے، تو وہ اس نمازی اور قبلے کے درمیان سے نہ گزرے، خواہ  وہ کتنے ہی فاصلے پہ ہو۔

البتہ میں نے بعض لوگوں کو سنا کہ وہ حدیث میں موجود الفاظ " بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي" سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نمازی کا ہاتھ جہاں تک پہنچتا ہے وہاں تک گزرنا منع ہے۔ اس سے آگے سے گزرنا منع نہیں ہے۔ لیکن انکا یہ استدلال باطل ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں "بین یدیہ" کا معنى سامنے ہوتا ہے خواہ جتنا بھی دور کیوں نہ ہو۔ اسکی دلیل قرآن مجید کی یہ آیات ہیں :

لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ

اسکے لیے اسکے آگے اور اسکے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں , جو اللہ کے حکم سےاسکی حفاظت کرتے ہیں۔

سورۃ الرعد:11

وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ

اور جنوں میں سے کچھ اسکے سامنے اسکے رب کے حکم سے کام کرتے تھے۔

سورۃ سبأ: 12

لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ

باطل اس (قرآن) کے نہ تو آگے سے آ سکتا ہے اور نہ اسکے پیچھے سے , یہ نہایت حکمت والے بہت تعریف شدہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔

سورۃ فصلت: 42

ان اور ان جیسی دیگر آیات میں لفظ " بَيْنَ يَدَيِہ"  استعمال ہوا ہے جسکا معنى "ہاتھوں کے درمیان" نہیں بلکہ "سامنے"  کیا جاتا ہے اور یہی معنى عربی لغت کی رو سے درست ہے۔

لہذا حدیث میں مذکور الفاظ بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي کا بھی معنى "نمازی کے ہاتھوں کے درمیان" کی بجائے "نمازی کے سامنے" کرنا ہی صحیح ہوگا۔

اور کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ نمازی اور اسکے سترے کے درمیان سے گزرے اور سترے کی عدم موجود گی میں نمازی کے آگے سے گزرے ،خواہ فاصلہ جتنا بھی ہو۔

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الاثنين AM 12:19
    2022-01-24
  • 1377

تعلیقات

    = 9 + 5

    /500
    Powered by: GateGold