اعداد وشمار
مادہ
حرم مکی ومدنی میں نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکنا
سوال
شیخ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کے نمازی کے آگے سے گزر رہے ہوتے ہیں کوئی کسی کو روکتا نہیں کیا یہ ٹھیک ہے یا روکنا چاہیے؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
نمازی کے آگے سے گزرنے والا جس بھی مسجد میں ہو، اسے روکنا چاہیے۔
ابو جہیم عبداللہ بن حارث الأنصاری فر ماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَوْ يَعْلَمُ المَارُّ بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ».
اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو جائے کہ اس پر کتنا گنا ہ ہے تو اس کے لئے چالیس ( دن ،مہینے ،یا سال ) تک کھڑا ر ہنا گزرنے سے بہتر ہو گا۔
[صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب إثم المار بین یدي المصلي، (510)]
دج بالا حدیث سے معلو م ہو تا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی حالت میں نمازی اور سترہ کے درمیان سے یا اگر سترہ موجود نہ ہو تو نمازی کے آگے سے نہ گزرا جائے ۔
یا د رہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی یہ ممانعت مطلقاً ہے۔ گزرنے والا خواہ کئی میلوں کے فاصلے سے بھی گزرے، اسے اتنا گناہ ہے جتنا کہ قریب سے گزرنے والے کے لئے ہے ۔اس طرح امام اور مقتدیوں کے درمیا ن گزرنا بھی سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرنا ہی ہے۔ کیو نکہ امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے۔ لہٰذا اس سے بھی اجتناب کیا جائے ۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ؛ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ».
’’سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو۔ اگر وہ انکا ر کر دے تو اس سے لڑو کیونکہ اس کے ساتھ یقیناً شیطان ہے ۔‘‘
[صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن الصلاۃ إلی غیر سترۃ، (800)، صحیح مسلم (506)]
نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکنے کا یہ حکم نبی مکرم ﷺ نے اپنی مسجد یعنی مسجد نبوی کے نمازیوں کو ہی دیا تھا۔ کیونکہ اسکے اولین مخاطب وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد نبوی میں نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔ لہذا مسجد نبوی ہو یا مسجد حرام، یا کوئی اور مسجد ، نمازی کو سامنے سے گزرنے والے کو روکنا ہی چاہیے۔
هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم
-
الاثنين PM 11:55
2022-01-24 - 1459





