اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

دار الکفر میں قید شخص نماز قصر کرے یا مکمل ؟

سوال

ہندوستان کی جیلوں میں جو پاکستانی مجاہد قید ہیں چونکہ ان کو قید کیا گیا ہے اور ان کی رہائی کا بھی ان کو کوئی علم نہیں تو کیا وہ جب تک جیل میں ہیں قصر نماز ادا کر سکتے ہیں یا ان کے لیے پوری نماز پڑھنا ضروری ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

وہ مکمل نماز ادا کریں گے۔ کیونکہ نماز قصر کرنے کی رخصت میدان جنگ میں یا سفر کے دوران ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالى نے فرمایا  ہے :

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا

اور جب تم زمیں میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نمازوں کو قصر کرو ‘ اگر تمہیں ان لوگوں کی طرف سےجنہوں نے کفر کیا ہے  فتنہ کا خوف ہو ۔ یقینا کافر ہمیشہ سے ہی تمہارے واضح دشمن ہیں۔

( سورة النساء: 101)

اور نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے بلا تردد چار دن تک کسی جگہ ٹھہرنے کے باوجود قصرکرنا ثابت ہے۔ جیسا کہ حج کے موقع پر مکہ میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے چار دن تک  نمازیں قصر کیں۔ اور حالت تردد میں انیس دن تک قصر کرنا ثابت ہے جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا۔

اسکے علاوہ باقی تمام تر صورتوں میں نماز مکمل ہی ادا کرنا ہوگی کیونکہ اصل یہی ہے کہ نماز مکمل ادا کی جائے اور قصر کرنا رخصت ہے۔ اور رخصت جس قدر ثابت ہو، اتنی ہی اپنائی جاتی ہے اس میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الاثنين PM 11:57
    2022-01-24
  • 1186

تعلیقات

    = 8 + 3

    /500
    Powered by: GateGold