اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

میت اور اسکے بیٹے کی مشترکہ جائیداد کی تقسیم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کے ایک پلاٹ میرے والد نے دو لاکھ میں خریدا تھا اب اس کی قیمت جو ہے وہ 37 لاکھ روپے ہے اور میرے والدین فوت ہو چکے ہیں 6 بھائی اور دو بہنیں ہیں توکس طرح تقسیم کیا جائے گا اور جب والد نے دو لاکھ کا پلاٹ خریدا تھا تو اس میں ایک بھائی نے ایک لاکھ روپیہ دیا تھا تو اب اس بھائی کا حصہ زیادہ ہوگا یا برابر یہ بھی وضاحت فرما دیں۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

آپ کے والد نے جو پلاٹ دو لاکھ روپے میں خریدا تھا، اسکے نصف حصہ کا مالک آپ کا وہ بھائی ہے جس نے آدھی قیمت ادا کی تھی. لہذا 3700000 میں سے 1850000 تو اسکے ہیں۔

باقی 1850000 میت کے ورثاء میں تقسیم ہونگے. اس رقم کو 14 برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس میں سے ایک ایک حصہ یعنی 132142 بہنوں کو اور 264285 ہر بھائی کو ملیں گے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ

اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے کہ مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔

[سورة النساء 11]

هذا، والله تعالى أعلم، وعلمه أكمل وأتم، ورد العلم إليه أسلم، والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وبارك وسلم

  • الثلاثاء PM 01:46
    2022-01-18
  • 960

تعلیقات

    = 5 + 6

    /500
    Powered by: GateGold