تلاش کریں

البحث

میلنگ لسٹ

بريديك

موجودہ زائرین

وزٹر نمبر : 22178
موجود زائرین : 6

اعداد وشمار

12
قرآن
9
تعارف
13
کتب
255
فتاوى
10
مقالات
35
خطابات

مادہ

نماز کے ممنوعہ اوقات

درس کا خلاصہ

وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نماز کےلیے ممنوعہ اوقات

 

سیدنا عبد اللہ بن عمر﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ» ([1])

’’فجر کے بعد دو رکعتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں۔‘‘

مصنف عبد الرزاق میں یہ الفاظ ہیں: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ» ([2])

’’فجر کے طلوع ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں۔‘‘

یعنی فرضوں کے علاوہ۔ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب فجر کی اذان ہوجائے تو  فجر کی فرض نماز ہے اور اس کے علاوہ فجر کی دو سنتیں ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں۔

سیدنا ابو سعید خدری ﷜ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ العَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ» ([3])

’’فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں، حتیٰ کہ سورج طلوع ہوجائے۔اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں، حتیٰ کہ سورج غائب ہوجائے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ فجر سے لے کر سورج طلوع ہونے تک کوئی نفلی نماز نہیں۔اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں کا مطلب یہ ہے کہ جب سورج زرد ہوجائے، عصر کا مختار وقت ختم ہوجائے ، اس کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نفلی نماز نہیں ۔فرض کسی کے رہتے ہوں تو وہ پڑھ سکتا ہے۔

سیدنا عقبہ بن عامر﷜ فرماتے ہیں : « ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ»

’’تین اوقات کے بارے میں نبی کریمﷺ ہمیں منع کرتے تھے کہ ان اوقات میں ہم نماز پڑھیں یا اپنے مُردوں کو دفن کریں۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت سے لے کر جب تک سورج بلند نہ ہوجائے۔ اسی طرح جب سورج بالکل سر پر آجاتا ہے ، حتیٰ کہ وہ زائل ہوجائے۔ اور جب سورج غروب ہونے کےلیے جھک جائے، حتیٰ کہ غروب ہوجائے۔‘‘

سورج مکمل طلوع ہونے کے بعد بلند ہونے میں تقریباً بارہ منٹ لگاتا ہے۔ اور سورج مکمل طلوع ہونے میں تقریباً اڑھائی منٹ لگاتا ہے۔ یعنی نماز کے اوقات والے کیلنڈر میں طلوع ِ آفتاب کا جو وقت لکھا ہوتا ہے، اس میں تقریباً پندرہ منٹ کا اضافہ کرلیں۔ اس وقت میں نہ نماز پڑھنا درست ہے اور نہ ہی مُردوں کو دفنانا جائز ہے۔ سورج سر پر آنے کے بعد تقریباً دو منٹ اور پینتیس سیکنڈ میں اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی تقریباً اڑھائی منٹ۔ تو یہ بالکل تھوڑا سا وقت ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ فجر کی اذان سے لے کر سورج طلوع ہونے تک فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی بھی نفلی نماز جائز نہیں ہے۔ اس دوران اگر کوئی مسجد میں آئے تو تحیۃ المسجد پڑھے گا کیونکہ تحیۃ المسجد فرض ہے۔ پھر سورج طلوع ہونے سے لے کر اس کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہونے تک یعنی تقریباً پندرہ منٹ تک کوئی نفلی نماز بھی نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی مُردوں کو دفنایا جائے گا۔ پھر سورج جب سر پر آجائے تو جب تک زائل نہ ہو، اس وقت میں بھی نفلی نماز پڑھنا اور مُردوں کو دفنانا منع ہے۔ پھر عصر کے بعد جب سورج زرد ہوجائے اور ایسا غروبِ آفتاب سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے، تو سورج کے زرد ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک کوئی نفلی نماز نہیں پڑھنی۔ کسی کے فرض رہ جائیں تو وہ قضاء دے سکتا ہے۔ پھر جب سورج غروب ہونے لگے تو اس وقت سے لے کر اس کے مکمل طور پر غائب ہوجانے تک نماز کے ساتھ ساتھ مُردوں کو دفنانا بھی منع ہوجاتا ہے۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا اور مُردوں کو دفن کرنا منع ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کرنے کےلیے گیا ہے یا ویسے ہی مکہ میں موجود ہے اور وہ مسجدِ حرام میں پہنچ جاتا ہے تو کعبہ والی مسجد یعنی مسجدِ حرام میں ان اوقات میں بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ جن اوقات میں باقی جگہوں پر نماز پڑھنا منع ہے، مسجدِ حرام میں ان اوقات میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ جبیر بن مطعم﷜ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا البَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ» ([4])

’’اے بنی عبد مناف! کوئی بھی شخص بیت اللہ کا کسی بھی وقت طواف کرے دن ہو یا رات اور یہاں کسی وقت بھی وہ نماز پڑھے ، دن کی کسی گھڑی میں یا رات کی کسی گھڑی میں ، اسے منع نہ کرو۔‘‘

اس حدیث میں بنو عبد مناف کو اس لیے خطاب کیا گیا ہے کہ کعبہ کی نگہبانی اس وقت ان کے ذمہ تھی۔ معلوم ہوا کہ مسجدِ حرام میں بیت اللہ کا طواف ممنوعہ اوقات میں بھی کیا جاسکتا ہے اور نماز بھی ان ممنوعہ اوقات میں پڑھی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو استثناء بخشا ہے۔

______________________

([1])           أبو داود (1278)، والترمذي (419)

([2])           مصنف عبد الرزاق (4760)

([3])           البخاري (586)، ومسلم (827)

([4])           أبو داود (1894)، والترمذي (868)

  • الاربعاء PM 08:50
    2022-04-20
  • 254

تعلیقات

    = 1 + 3

    /500
    Powered by: GateGold