اعداد وشمار
مادہ
وقت فجر
درس کا خلاصہ
فجر کی نماز کے وقت کی تفصیلی وضاحت
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
وقتِ فجر
نمازِ فجر كے وقت كے حوالہ سے سیدنا عبد اللہ بن عباس کی روایت صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجْرٌ تَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ - أَيْ: صَلَاةُ الصُّبْحِ - وَيَحِلَّ فِيهِ الطَّعَامُ» ([1])
’’فجریں دو ہیں۔ ایک وہ فجر جس میں کھانا پینا (روزہ دار کےلیے) حرام ہوتا ہے اور نماز پڑھنا حلال ہوتا ہے۔ دوسری فجر وہ ہے جس میں صبح کی نماز یعنی فجر کی نماز پڑھنا حرام اور ناجائز ہے اور اس میں کھانا پینا حلال ہوتا ہے۔‘‘
مستدرک حاکم میں یہ روایت مزید تفصیل کے ساتھ ہے۔ اس میں کھانے کے حرام کرنے والی فجر کے بارے میں ہے: «يَذْهَبُ مُسْتَطِيلًا فِي الْأُفُقِ»
’’وہ اُفق میں لمبائی کے رُخ پھیلتی ہے۔‘‘شمالاً جنوباً یعنی مشرقی افق میں۔
اور جس فجر میں نماز ِ فجر پڑھنا حرام ہوتا ہے، اس کے بارے میں فرمایا: «يَكُونُ كَذَنَبِ السَّرْحَانِ» ([2])
’’جس طرح بھیڑیے کی دُم ہوتی ہے، اس طرح افق میں عین درمیان سے وہ اوپر کی جانب کو نکلتی ہے۔ ‘‘
یعنی فجر کی سفیدی جس کو سپیدۂ سحر یا فجر یا پوہ پھوٹنا کہتے ہیں، یہ دو طریقوں سے نمودار ہوتی ہے۔ جب پہلی دفعہ نمودار ہوتی ہے تو بالکل افق کے درمیان سے تھوڑی سی اوپر کو نکلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ روشنی شمالاً جنوباً افق میں پھیل جاتی ہے۔ جس وقت بالکل اوپر کو جانے والی سفیدی نمودار ہوتی ہے، اس وقت فجر کی نماز کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ کھانے پینے یعنی سحری کرنے کا وقت ہے۔ جب وہ روشنی افق میں شمالاً جنوباً لمبائی کے رُخ پھیل جائے تو اس وقت سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ روزہ دار کےلیے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے اور اس میں فجر کی نماز پڑھنا جائز ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فجر کا وقت تب شروع ہوتا ہے جب افق میں شمالاً جنوباً سفیدی پھیل جائے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی کریمﷺ کے بارے میں منقول ہے: «كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ» ([3])
’’آپﷺ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ ‘‘
یعنی ابھی تاریکی ہی ہوتی تھی کہ آپﷺ نماز پڑھ لیتے تھے۔ فجر کے طلوع ہونے کے بعد جلد ہی فجر کی نماز پڑھ لیتے تھے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں ہے: «فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا» ([4])
’’جونہی فجر طلوع ہوئی۔ یعنی پوہ پھوٹی، اس کے بعد جلد ہی آپﷺ نے فجر کی جماعت کروائی۔ لوگ اندھیرے کی وجہ سے ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔ ‘‘
یعنی فجر کے طلوع ہوتے ہی جلد ہی جماعت کھڑی ہوگئی۔ اس وقت اچھا خاصا اندھیرا ہوتا ہے۔ صرف افق پر سفیدی نظر آتی ہے۔ اس لیے تاریکی اور اندھیرے کی وجہ سے نمازی ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔
رافع بن خَدِیج کی روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ» ([5])
’’صبح کی نماز جلدی جلدی پڑھو کیونکہ یہ تمہارے اجروں کو بڑھا دینے والی ہے۔‘‘
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں وضاحت ہے: «وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى المِائَةِ» ([6])
جب نماز کا آغاز کرتے تو اس وقت نمازی ایک دوسرے کو پہچانتے نہیں تھے۔ اتنا اندھیرا ہوتا تھا۔ لیکن ’’جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو سلام پھیرنے کے بعد آدمی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے کو پہچان لیتا تھا۔‘‘ یعنی کسی قدر روشنی ہوچکی ہوتی تھی۔ ’’نبی کریمﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔‘‘ یعنی کم از کم ساٹھ آیات اور زیادہ سے زیادہ سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔ کبھی کبھار سو سے زیادہ پڑھ لیتے اور کبھی ساٹھ سے کم بھی پڑھ لیتے۔ عام طور پر آپﷺ کی روٹین ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کی تھی۔ اتنی تلاوت اور لمبی نماز کے بعد جب آپﷺ فارغ ہوتے تو نمازی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی کو پہچان لیتا تھا۔ دور والے کو پھر بھی نہیں۔
تو یہ نبی کریمﷺ کا طریقہ تھا کہ فجر کا وقت شروع ہوتے ہی جلد ہی فجر کی جماعت کروا لیا کرتے تھے ۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ افضل ترین اعمال کون سے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: «الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا» ([7])
’’افضل ترین اعمال میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ ہر نماز اول وقت میں پڑھے۔‘‘
یعنی نماز کا وقت شروع ہوتے ہی نماز ادا کرنا شروع کردے۔ یہ افضل ترین اعمال میں سے ہے۔ نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد اس کو لیٹ کرنا اور تاخیر سے پڑھنا درست نہیں۔
فجر کا وقت ختم ہونے کے بارے میں سیدنا ابو ہریرہ کی روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ» ([8])
’’جس نے صبح کی ایک رکعت بھی پالی سورج کے طلوع ہونے سے پہلے تو اس نے صبح کو پا لیا۔ ‘‘
یعنی سورج نکلنے سے پہلے پہلے بندہ فجر کی اگر ایک رکعت بھی پڑھ سکتا ہے تو وہ نماز شروع کردے۔ گویا اس نے فجر کی نماز بروقت پڑھی ہے۔ ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لے گا، دوسری رکعت سورج طلوع ہونے کے درمیان میں پڑھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ جب سورج طلوع ہونا شروع ہوجائے تو اس کے بعد نماز کا آغاز کرنا منع ہے۔ جب تک سورج تقریباً ایک نیزے جتنا اونچا نہیں ہوجاتا۔ یعنی تقریباً دو منٹ اور پینتیس سیکنڈ کا وقت لگتا ہے سورج کو طلوع ہوتے ہوتے۔ اس کے بعد بارہ منٹ لگتے ہیں سورج کو بلند ہوتے۔ یہ ملا کر تقریباً پندرہ منٹ بنتے ہیں۔ اس طرح طلوعِ آفتاب کے پندرہ منٹ بعد تک نماز پڑھنا منع ہے۔ اس کے بعد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی فجر کی نماز رہتی ہے اور سورج کے طلوع ہونے میں ابھی دو تین منٹ کا وقت ہے جس میں وہ ایک رکعت ادا کرسکتا ہے تو اسے چاہیے کہ نماز شروع کردے تاکہ اس کی فجر کی نماز قضاء نہ ہو۔ سورج نکلنے سے پہلے پہلے ادا کرلے گا تو وہ ادا مانی جائے گی۔
فجر کے طلوع ہونے کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک نفل پڑھنا منع ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ» ([9])
’’سورج کے بلند ہونے تک فجر کے بعدکوئی نماز نہیں ہے۔‘‘
عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ» ([10])
’’فجر کے طلوع ہونے (اور اس کی اذان ہونے) کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہے۔‘‘
جس کا وتر رہ جائے اور فجر طلوع ہونے سے پہلے اس کی آنکھ نہ کھلے تو وہ اپنے وتر کی قضائی دے سکتا ہے۔ اس کا مسئلہ الگ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نفلی نماز فجر کے طلوع ہونے کے بعد ادا نہیں کی جاسکتی۔ صرف فجر کی دو سنتیں ادا کریں اور اس کے بعد فجر کی نماز باجماعت ادا کریں۔ البتہ اگر کوئی شخص گھر میں فجر کی سنتیں ادا کرتا ہے اور باجماعت نماز کی ادائیگی کےلیے جب مسجد میں پہنچتا ہے تو ابھی جماعت کے کھڑا ہونے میں وقت ہوتو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں ادا کرے۔ یہ تحیۃ المسجد ہے جو فرض ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے مسجد میں آنے کے بعد دو رکعتیں ادا کیے بغیر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔([11]) اس لیے تحیۃ المسجد پڑھی جائے گی کیونکہ یہ فرض ہے۔ آپﷺ نے نفل سے منع کیا ہے۔
______________________
([1]) ابن خزیمۃ (356) ،والمستدرك للحاکم (687)
([3]) البخاري (560) ومسلم (646)
([5]) أبو داود (424)، الترمذي (154)، النسائي (548)، ابن ماجہ (672)
([6]) البخاري (547)، ومسلم (647)
([8]) البخاري (579)، ومسلم (608)
([9]) البخاري (586)، ومسلم (827)
([10]) أبو داود (1278)، الترمذي (419)
([11]) البخاري (1173)، ومسلم (714)
-
الاربعاء PM 09:40
2022-04-20 - 2040





