اعداد وشمار
مادہ
وقت عصر
درس کا خلاصہ
نماز عصر کے وقت کی تفصیلی وضاحت
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
وقتِ عصر
صحیح مسلم میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ» ([1])
ظہر کا وقت تب شروع ہوتا ہے جب سورج ڈھلے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آدمی کا سایہ ایک مثل نہ ہوجائے۔ جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوجائے تو اس وقت عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ ‘‘
یعنی ظہر کا وقت عصر کا وقت شروع ہونے تک رہتا ہے اور عصر کا وقت تب شروع ہوتا ہے جب ظہر کا وقت ختم ہوتا ہے۔
صحیح مسلم میں ہی سیدنا بریدہ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: «وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ» ([2])
’’عصر کا وقت اتنی دیر تک رہتا ہے جب تک سورج سفید اور صاف ہو۔ ‘‘
ابو موسیٰ کی روایت کے الفاظ ہیں: «وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ» ([3])
’’سورج بلند ہو۔‘‘
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا ابو برزہ اسلمی سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ عصر کی نماز پڑھتے : « ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى المَدِينَةِ، وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ» ([4])
’’پھر مسجدِ نبوی میں آپﷺ کی اقتداء میں نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد ہم میں سے کوئی آدمی مدینہ کے دور والے حصہ میں موجود اپنے گھر میں پہنچ جاتا اور سورج اس وقت تک بالکل صحیح سلامت زندہ ہوتا، چمکتا ہوتا۔‘‘
یعنی سورج کی چمک دمک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تھی۔ یہ عصر کے وقت کا آغاز ہے کہ سورج کا سایہ آدمی کے قد کے برابر ہوجائے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ العَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ العَصْرَ» ([5])
’’جس نے صبح کی ایک رکعت بھی پالی سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے تو اس نے فجر کی نماز وقت میں ادا کی ہے۔اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے عصر کی ایک رکعت بھی پڑھ لی تو گویا اس نے عصر کی نماز وقت میں ادا کرلی۔‘‘
یعنی عصر کا آخری وقت سورج کا غروب ہونا ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد عصر قضاء ہوجائے گی۔ جیسے سورج طلوع ہونے کے بعد فجر قضاء ہوجاتی ہے۔ یہ سب سے آخری وقت ہے۔ جبکہ عصر کا افضل اور مختار وقت تب تک رہتا ہے : «مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ» ([6])
’’جب تک سورج زرد نہ ہو۔‘‘
جب سورج زرد ہوجائے اور غروب ہونے کےلیے جھک جائے تو اس وقت عصر کا بہتر، افضل اور مختار وقت ختم ہوجاتا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم سیدنا ابو سعید خدری سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لاَ صَلاَةَ بَعْدَ العَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ» ([7])
’’جب تک سورج غروب نہ ہوجائے، عصر کے بعد کوئی نماز نہیں۔ ‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد بندہ اور کوئی نماز ادا نہیں کرسکتا۔بلکہ عصر کی بعد نماز کے بعد نوافل کی ادائیگی منع ہے۔ لیکن اس حدیث کی وضاحت سنن ابی داؤد کی ایک روایت کرتی ہے ، اس روایت کے مطابق آپﷺ نے فرمایا: «لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ» ([8])
’’تم عصر کے بعد نماز نہ پڑھو، الا یہ کہ سورج بلند ہو۔ ‘‘
یعنی جب تک سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتا رہے اور اس میں زردی اور پیلاہٹ پیدا نہ ہو اور دھوپ ٹھنڈی نہ ہو، اس وقت تک آپ عصر کے بعد نوافل ادا کرسکتے ہیں۔ عام طور پر یہی مشہور ہے کہ عصر کی نماز پڑھنے کے بعد کوئی نوافل بھی نہیں پڑھے جاسکتے۔ لیکن نبی کریمﷺ کے فرمان میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ جب تک سورج بلند ہے، اس وقت تک نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ جب سورج بلند نہیں رہےگا اور غروب ہونے کےلیے جھک جائے گا، وہ اپنی آب وتاب کھو بیٹھے گا اور اس کی چمک دمک کم ہوجائے گی ، زرد اور پیلا ہوجائے گا تو اس وقت نفل نماز ادا کرنا ممنوع ہوجائے گا۔ اس سے پہلے پہلے نفل نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ کتبِ احادیث میں روایت موجود ہے کہ نبی کریمﷺ کا معمول تھا کہ آپﷺ عصر کے بعد دو رکعتیں گھر میں پڑھا کرتے تھے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ عصر کے بعد جب بھی میرے گھر میں تشریف لاتے تو دو رکعتیں ضرور ادا فرماتے۔([9])
اس لیے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا سنت سے ثابت ہے ۔عصر کے بعد اس وقت تک نفل نماز پڑھنا منع نہیں ہے جب تک سورج زرد نہ ہو۔ جب سورج زرد ہوجائے، پھر نفل نماز پڑھنا منع ہے۔ البتہ اگر کسی کی فرض نماز رہ جائے تو وہ سورج کے غروب ہونے سے پہلے اسے ادا کرسکتا ہے، حتیٰ کہ اگر سورج کے غروب ہونے سے پہلے ایک رکعت بھی ادا کر لے گا تو اس کی نماز ادا ہوجائے گی۔
____________________
([4]) البخاري (547)، ومسلم (647)
([5]) البخاري (579)، ومسلم (608)
([7]) البخاري (586)، ومسلم (827)
([8]) أحمد (1076)، أبو داود (1274)
([9]) البخاري (591)، ومسلم (835)
-
الجمعة AM 02:38
2022-04-22 - 1749





