اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

وقت عشاء

درس کا خلاصہ

عشاء کی نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

وقتِ عشاء

 

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص﷜ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے نمازوں کے اوقات بیان کیے تو فرمایا: «وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ» ([1])

’’نمازِ عشاء کا وقت جو مغرب کے وقت کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے، وہ آدھی رات تک رہتا ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ نمازِ عشاء کا وقت آدھی رات تک ہوتا ہے، اس کے بعد نمازِ عشاء کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ عام طور پر ہمارے ہاں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عشاء کا وقت فجر کی اذان ہونے تک ہے۔ لیکن یہ خیال مبنی بر حقیقت نہیں ہے۔ اسی طرح نماز کے ڈیجیٹل  ٹائم ٹیبل میں بھی یہ بہت بڑی غلطی ہے  کہ عشاء کے انتہائے وقت میں فجر کی اذان کا وقت لکھا ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق عشاء کا وقت درمیانی نصف رات تک رہتا ہے۔ یعنی آدھی رات ہوجانے پر عشاء کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔  یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ آدھی رات کبھی بھی بارہ بجے نہیں ہوتی۔ ہمیشہ بارہ بجے سے پہلے پہلے آدھی رات ہوچکی ہوتی ہے۔ یہ بھی غلط العوام ہے کہ بارہ بجے کو آدھی رات سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت گیارہ بج کر چالیس منٹ سے لے کر گیارہ بج کر پچاس منٹ کے درمیان درمیان آدھی رات ہوجاتی ہے۔ لہٰذا آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھی جائے گی تو ادا شمار ہوگی اور اگر اس کے بعد پڑھی جائے گی تو قضاء سمجھی جائے گی۔ جیسے طلوعِ آفتاب کے بعد فجر کی نماز پڑھیں تو نماز ادا ہوجائے گی، لیکن قضاء شمار ہوگی۔

عشاء کے علاوہ باقی نمازوں کے متعلق رسول اللہﷺ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ اول وقت میں ادا فرماتے تھے۔ اور اول وقت میں نماز کی ادائیگی کو افضل الاعمال قرار دیتے تھے۔ جیسا کہ حدیث پیچھے گزر چکی ہے۔ لیکن عشاء کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ بیان کرتی ہیں: «أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي» ([2])

ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا۔ (تقریباً ایک تہائی رات تک آپﷺ نے عشاء کو مؤخر کیا) اور حتیٰ کہ اہلِ مسجد سو گئے۔ پھر آپﷺ نکلے اور نماز پڑھائی اور فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھوں تو اس کا اصل وقت یہی ہے۔

یعنی رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے کے بعد اگر عشاء کی نماز ادا کی جائے تو یہ اس کا صحیح اور افضل وقت ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ﷜ کی روایت کے مطابق آپﷺ کا عام طور پر یہ معمول تھا: «وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ، كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ» ([3])

’’کبھی جلدی پڑھ لیتے تھے اور کبھی دیر سے پڑھتے تھے۔ ‘‘ یہ جلدی اور دیر کیسے ہوتی تھی؟ فرمایا:  جب آپﷺ دیکھتے کہ لوگ نمازِ عشاء ادا کرنے کےلیے اکٹھے ہوگئے ہیں تو جلدی جماعت کروا دیتے۔ اور جب لوگوں کو دیکھتے کہ لیٹ ہیں تو ان کے انتظار میں نماز کو لیٹ کردیتے۔ ‘‘

یعنی آپﷺ مزید انتظار فرماتے تھے تاکہ سارے نمازی پہنچ جائیں۔ تو عمومی طور پر آپﷺ کا یہی طریقہ کار تھا نمازِ عشاء کی ادائیگی کےلیے۔ کبھی کبھار آپﷺ ایک تہائی رات تک نماز کو مؤخر کرتے تھے۔یعنی پہلا تہائی حصہ گزرنے پر نمازِ عشاء ادا فرماتے۔ اور یہی افضل ترین وقت ہے نمازِ عشاء کی ادائیگی کےلیے۔

_________________________

([1])           مسلم (612)

([2])           مسلم (638)

([3])           مسلم (646)

  • الجمعة AM 02:46
    2022-04-22
  • 4352

تعلیقات

    = 6 + 3

    /500
    Powered by: GateGold