اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نماز نبی ﷺ کے طریقہ پر

درس کا خلاصہ

نماز کےلیے ضروری ہے کہ رسول اللہﷺ کے طریقہ کے مطابق ہو۔ اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنی من مرضی کا طریقہ اپنائے گا تو وہ نماز قائم کرنے والا شمار نہیں ہوگا۔



   تحميل mp3


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نماز نبی ﷺ کے طریقہ پر

 

                اللہ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾

’’نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔‘‘

[البقرة: 43]

اسلام اور ایمان کےلیے بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے فرمایا:

﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾

’’اگر یہ لوگ بھی توبہ کرلیں یعنی کفر وشرک سے باز آجائیں اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔‘‘

[التوبة: 11]

اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کو اخوتِ اسلام کےلیے معیار قرار دیا ہے۔اسی طرح نبی محترمﷺ نے فرمایا ہے:

«بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ» ([1])

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ توحید ورسالت کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔‘‘

وفدِ عبد القیس نبی کریمﷺ کے پاس آیا۔ جب واپس جانے لگا تو:

«أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ المَغْنَمِ الخُمُسَ»  

آپﷺ نے انہیں  اللہ وحدہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: ’’تمہیں معلوم ہے کہ اللہ وحدہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘‘ آپﷺ نے انہیں بتایا: ’’اللہ وحدہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ تم توحید ورسالت کی گواہی دو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور مال ِ غنیمت میں سے خُمُس ادا کرو۔‘‘

معلوم ہوا کہ ایمان واسلام کی اساس وبنیاد اور اسلامی برادری میں شامل ہونے کےلیے بنیادی چیزوں میں سے ایک چیز نماز قائم کرنا ہے۔ محض نماز کو فرض مان لینا نہیں۔ یہ نہیں کہا کہ نماز کو فرض مانو، بلکہ یہ کہا ہے کہ نماز قائم کرو۔

نماز قائم کرنے کےلیے ضروری ہے کہ چھ کام کیے جائیں۔ عربی زبان میں قائم کرنے کا مطلب ہے: کسی کام کو کما حقہٗ سر انجام دینا۔ نماز کے چھ حق ہیں:

  1. نماز پر دوام اور ہمیشگی کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ دل کیا تو پڑھ لی، نہ کیا تو نہ پڑھی۔
  2. نماز کے ارکان اطمینان، سکون اور تعدیل کے ساتھ ادا کیے جائیں۔ تیزی اور جلد بازی نہ ہو۔
  3. باجماعت نماز ادا کی جائے۔ فرمان الٰہی ہے: ﴿وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾ [البقرة: 43] ’’رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘
  4. صفوں کو برابر کیا جائے۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: «فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ» ([2]) ’’صفوں کو برابر کرنا نماز قائم کرنے کا حصہ ہے۔‘‘
  5. نماز بروقت ادا کی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾ [النساء: 103] ’’بلا شبہ نماز مؤمنوں پر مقررہ اوقات میں (ادا کرنا )فرض ہے۔‘‘
  6. نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق نماز ادا کرنا۔ فرمانِ مصطفیٰﷺ ہے: «وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ([3]) ’’نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتا ہوا دیکھا ہے۔‘‘

نماز کے قیام کےلیے ضروری ہے کہ رسول اللہﷺ کے طریقہ کے مطابق ہو۔ اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنی من مرضی کا طریقہ اپنائے گا تو وہ نماز قائم کرنے والا شمار نہیں ہوگا۔

نبی کریمﷺ کی نماز کا طریقہ کار جو عام حالات میں تھا، وہ درساً درساً آپ تک پہنچایا جاچکا ہے۔ اس لیے اب قارئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طریقہ کو سمجھ کر اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔

نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟ اس لیے کہ بندے کے مسلمان اور مؤمن ہونے کےلیے نماز ضروری ہے۔ آخرت کی کامیابی کےلیے بھی نماز ضروری ہے۔

بعض اوقات نمازی مکمل نماز ادا کرتا ہے لیکن اسے اس کی نماز کا صرف دسواں یا نواں یا آٹھواں یا ساتواں یا چھٹا یا پانچواں یا چوتھا یا تیسرا یا نصف حصہ ملتا ہے۔ جیسا کہ ابو داؤد کی ایک روایت میں موجود ہے۔ ([4])

اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ کی نماز میں توجہ نہیں ہوتی۔ نماز کا صحیح طریقہ معلوم تو ہوتا ہے، لیکن سستی کرتے ہوئے صحیح نماز ادا نہیں کرتے۔ مثلاً معلوم ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ضروری ہے، لیکن کچھ لوگ ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر دوسرے سے داڑھی کو سنوار رہے ہوتے ہیں یا سر پر خارش  کررہے ہوتے ہیں یا کپڑے سیٹ کررہے ہوتے ہیں۔ تو یہ لاپروائی ہے ، اس سے گریز کرنا چاہیے اور نبی کریمﷺ کے طریقہ کار کے مطابق نماز ادا کرنی چاہیے۔

 _____________________

 

([1])           البخاري (8)، ومسلم (16)

([2])           البخاري (723)، ومسلم (433)

([3])           البخاري (631)

([4])           أبو داود (796)

 

  • الثلاثاء AM 09:11
    2023-01-31
  • 1722

تعلیقات

    = 6 + 8

    /500
    Powered by: GateGold