اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

اَذان کا طریقہ

درس کا خلاصہ

نبی کریمﷺ کا سکھایا ہوا طریقہ یہی ہے کہ اگر اذان دہری دی جائے تو اقامت بھی دہری کہی جائے اور اگر اذان اکہری دی جائے تو اقامت بھی اکہری کہی جائے۔



   تحميل mp3


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

اَذان کا طریقہ

سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ میں سو رہا تھا کہ میرے پاس ایک آدمی آیا۔ یعنی میں نے خواب میں ایک آدمی کو دیکھا۔ اس نے مجھے اذان پڑھ کر سنائی۔ جسے ہم اکہری اذان کہتے ہیں۔

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
 حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ  حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
 حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ  حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
 لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَر

 

 

اور اقامت کہی :

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
 

 

یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اس بات پر مشاورت ہورہی تھی کہ مسلمانوں کو نماز کےلیے کیسے اکٹھا کیا جائے۔مختلف آراء سامنے آرہی تھیں تو اس موقع پر عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ نے یہ خواب دیکھا۔ جب انہوں نے یہ خواب آپﷺ کے سامنے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا:

«إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ» ([1])

’’یہ حق کا خواب ہے۔‘‘ یعنی سچا خواب ہے۔پھر فرمایا کہ جو اذان تم نے سنی ہے، وہ بلال ﷜کو سکھاؤ کیونکہ ان کی آواز اونچی ہے، اس لیے وہ اذان دیں۔ اس لیے بلال﷜ نے اذان دی۔

آپﷺ نے بلال﷜ سے کہا کہ جب صبح کی اذان دیں تو «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ([2]) کہا کرو۔

سیدنا انس﷜ فرماتے ہیں: «مِنَ السَّنَةِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ([3])

’’یہ سنت ہے  کہ فجر کی اذان میں مؤذن جب ’’حی علی الفلاح‘‘ کہے تو اس کے بعد ’’الصلاۃ خیر من النوم‘‘ کہے۔‘‘

جب صحابہ کسی کام کے بارے میں کہیں کہ یہ سنت ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ نبی کریمﷺ کی سنت اور آپﷺ کا طریقہ ہے۔ آج کل کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ فجر کی اذان میں ’’الصلاۃ خیر من النوم‘‘ کا اضافہ سیدنا عمر﷜ نے کیا ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ رسول اللہﷺ نے جو اذان سکھائی ہے، اس میں یہ فرمایا ہے کہ فجر کی اذان میں ’’الصلاۃ خیر من النوم‘‘ کہا جائے۔

رسول اللہﷺ نے بلال﷜ کو مدینہ میں مؤذن مقرر کیا تھا۔ سیدنا انس﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے بلال﷜ حکم دیا تھا:

«أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ» ([4])

’’کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہیں۔‘‘جیسے عام طور پر ہمارے ہاں اذان ہوتی ہے۔

مکہ میں آپﷺ نے ابو محذورہ﷜ کو مؤذن مقرر کیا تھا۔ ابن خزیمہ اور ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ آپﷺ کو ان کی آواز پسند آئی تھی، اس لیے آپﷺ نے خود انہیں اذان سکھائی۔ ([5])

سیدنا ابو محذورہ ﷜ بیان کرتے ہیں:

«أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَّمَهُ الْآذَانَ, فَذَكَرَ فِيهِ التَّرْجِيعَ» ([6])

نبی کریم ﷺ نے خود انہیں اذان سکھائی۔ پھر ابو محذورہ﷜ نے ترجیع کا ذکر کیا۔ ترجیع کا مطلب یہ ہے کہ دو مرتبہ  «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، پھر دو مرتبہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہہ کر دوبارہ دو مرتبہ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور دو مرتبہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہہ کر اذان مکمل کرنا۔ پہلی مرتبہ میں شہادتین کو آہستہ آواز میں کہا جائے گا اور دوسری مرتبہ میں بلند آواز سے کہا جائے گا۔

ابو جُحَیفہ ﷜ بیان کرتے ہیں:

«رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَأَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ» ([7])

’’میں نے بلال﷜ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا۔ آپ کی دو انگلیاں آپ کے کانوں میں تھیں اور آپ اپنے چہرے کو کبھی ادھر گھماتے تھے اور کبھی اُدھر گھماتے تھے۔‘‘

بلال﷜ اذان دیتے ہوئے انگلیاں کانوں کے اندر ڈالتے تھے جبکہ آج کل بہت سے مؤذن صرف کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ جبکہ سنت یہ ہے کہ شہادت والی انگلیاں کانوں کے اندر ہوں۔ چہرے کو دائیں بائیں گھمانے کے حوالہ سے ابو داؤد میں وضاحت ہے:

«فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَمْ يَسْتَدِرْ» ([8])

’’جب حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح پر پہنچتے تو اپنی گردن کو دائیں اور بائیں گھماتے تھے، پورا جسم نہیں گھماتے تھے۔ ‘‘

ہمارے  ہاں اذان دینے والے یہ غلطی بھی کرتے ہیں کہ حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے اپنا پورا جسم دائیں اور بائیں موڑ دیتے ہیں۔

یہ اذان دینے کا طریقہ ہے جو رسول اللہﷺ نے بلال ﷜ اور ابو محذورہ﷜ کو سکھایا۔ آپﷺ نے بلال﷜ کو اکہری اذان اور اکہری اقامت سکھائی۔ یعنی اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ سوائے قد قامت الصلاۃ کے، کہ یہ دو مرتبہ ہیں۔ ([9])

ابو محذورہ﷜ کو رسول اللہﷺ نے ترجیع والی اذان سکھائی۔ یعنی شہادتین کے کلمات دو دو مرتبہ کہہ کر پھر اونچی آواز سے یہی کلمات دہرانے ہیں۔ آپﷺ نے انہیں اقامت دہری سکھائی یعنی جس طرح عام طور پر اذان دی جاتی ہے۔ ([10])

ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اذان تو بلال﷜ والی دیتے ہیں یعنی اکہری ، لیکن اقامت ابو محذورہ﷜ والی کہتے ہیں یعنی دہری۔اگر تو یہیں تک بات ہو تو قابلِ برداشت ہے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ وہ لوگ بلال﷜ والی اقامت کو نہیں مانتے اور سیدنا ابو محذورہ﷜ والی اذان کو نہیں مانتے۔ یعنی ایک حدیث سے ثابت ہونے والی اذان کو مانتے ہیں، اقامت کو نہیں مانتے اور دوسری حدیث سے ثابت ہونے والی اقامت کو مانتے ہیں، اذان کو نہیں مانتے۔

ع            جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے

نبی کریمﷺ کا سکھایا ہوا طریقہ یہی ہے کہ اگر اذان دہری دی جائے تو اقامت بھی دہری کہی جائے اور اگر اذان اکہری دی جائے تو اقامت بھی اکہری کہی جائے۔

 

 

_________________________________

([1])           سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب کیف الأذان، رقم الحدیث: 499۔ سنن الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء في بدء الأذان، رقم الحدیث: 189۔ صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب ذکر الدلیل علی أن من کان أرفع صوتا وأجھر کان أحق بالأذان، رقم الحدیث: 363

([2])           مسند أحمد، مسند المدنیین، حدیث عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ، رقم الحدیث: 16477

([3])           صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب التثویب في أذان الصبح، رقم الحدیث: 386

([4])           صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب بدء الأذان، رقم الحدیث: 603۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب الأمر بشفع الأذان وإیتار الإقامۃ، رقم الحدیث: 378

([5])           سنن النسائي، کتاب الأذان، باب بدء الأذان، رقم الحدیث: 633

([6])           صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الأذان، رقم الحدیث: 379

([7])           سنن الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء في إدخال الإصبع في الأذن عند الأذان، رقم الحدیث: 197

([8])           سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب في المؤذن یستدیر في أذانہ، رقم الحدیث: 520

([9])           صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب الأذان مثنی مثنی، رقم الحدیث: 605

([10])          سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب کیف الأذان، رقم الحدیث: 501

 
 

  • الثلاثاء AM 09:52
    2023-01-31
  • 1277

تعلیقات

    = 2 + 4

    /500
    Powered by: GateGold