اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

اذان کا حکم اور وقت

درس کا خلاصہ

کسی بھی علاقہ میں نماز باجماعت کے قیام کےلیے اذان ضروری ہے۔ اذان دی جائے تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو۔ پھر اس کے بعد جماعت کروائی جائے۔



   تحميل mp3


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

اذان کا حکم اور وقت

سیدنا مالک بن حویرث ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ» ([1])

’’جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے۔‘‘

اس حدیث میں آپﷺ نے اذان دینے کا حکم دیا ہے اور آپﷺ کا حکم فرضیت اور وجوب کےلیے ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی علاقہ میں نماز باجماعت کے قیام کےلیے اذان ضروری ہے۔ اذان دی جائے تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو۔ پھر اس کے بعد جماعت کروائی جائے۔

عثمان بن ابی العاص ﷜ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا:

             «يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي. قَالَ: «أَنْتَ إِمَامُهُمْ, وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ, وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا» ([2])

یا رسول اللہ! مجھے میری قوم کا امام بنا دیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا: تو ان کا امام ہے۔ تمہاری قوم کے جو کمزور ترین لوگ ہیں، ان کی پیروی کرنا۔اذان دینے کےلیے ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘

 یعنی فرض نماز اتنی لمبی نہ کروانا کہ مریضوں اور کمزوروں کےلیے تمہارے پیچھےنماز پڑھنا دشوار ہوجائے۔ نہ ہی اتنی مختصر پڑھانا کہ ان کےلیے تمہاری پیروی کرنا مشکل ہوجائے۔ دونوں صورتوں میں کمزوروں کےلیے مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ صحت مند آدمی تو جلدی سے سجدہ کرلیتا ہے، جلدی سے کھڑا ہوجاتا ہے، جبکہ بیمار آدمی ڈرتا ڈرتا جھکتا ہے اور آہستہ آہستہ سہارا لے کر اٹھتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ امام سجدہ مکمل کرکے کھڑا ہوجائے اور ضعیف مقتدی ابھی سجدہ میں جانے کی تیاری کررہا ہو۔ اس لیے دونوں اعتبار سے کمزوروں کا خیال رکھنا۔  دوسری بات جو اس حدیث میں فرمائی گئی ہے وہ عثمان بن ابی العاص ﷜ کے حالات کے مطابق ہے کہ ایسا مؤذن نہ مقرر کرنا جسے تنخواہ دینی پڑے تاکہ لوگوں پر بوجھ نہ پڑے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ﷠ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

  «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ, فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» ([3])

’’بلال﷜ رات کو اذان دیتے ہیں، ان کی اذان سن کر تم نے سحری سے رکنا نہیں ہے۔ کھاؤ پیو حتیٰ کہ ابن ام مکتوم ﷜اذان دیں۔ ‘‘

معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ نے اپنے پاس مدینہ میں اذان دینے کےلیے دو صحابہ کرام کو مقرر فرمایا تھا۔ ایک بلال﷜ تھے اور دوسرے عبد اللہ بن ام مکتوم﷜ تھے۔ بلال﷜ فجر کی اذان سے چند منٹ پہلے سحری کی اذان دیتے تھے جبکہ عبد اللہ بن ام مکتوم﷜ فجر طلوع ہونے کے بعد فجر کی اذان دیتے تھے۔ عبد اللہ بن ام مکتو م﷜ نابینا صحابی تھے۔ جب انہیں کوئی بتاتا کہ صبح ہوگئی ہے تو یہ اٹھ کر اذان دیتے تھے۔

اگر کوئی مؤذن وقت سے پہلے اذان دے دے تو اس پر لازم ہے کہ پھر اعلان کرے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے اور یہ اذان وقت سے پہلے ہوئی ہے۔ تاکہ لوگ اس کی اذان سن کر وقت سے پہلے ہی  نماز ادا نہ کرلیں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر﷜ بیان کرتے ہیں:

«إِنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ, فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَرْجِعَ, فَيُنَادِيَ: «أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ» ([4])

’’ایک مرتبہ بلال﷜ نے فجر سے پہلے ہی فجر کی اذان دے دی تو آپﷺ نے انہیں حکم دیا کہ واپس جائیں اور اعلان کریں کہ بندہ سویا ہوا تھا۔‘‘

یعنی بندہ نیند میں تھا۔ سویا سویا اٹھا  تو اس نے سمجھا کہ اذان کا وقت ہوگیا ہے تو اس نے اذان دے دی۔ اس وقت انہوں نے اُفق کو دیکھ کر اندازہ لگانا ہوتا تھا کہ وقت ہوگیا ہے یا نہیں۔ آج کل  جو سوئیوں والی گھڑیاں ہیں، ان سے بھی بعض اوقات اشتباہ ہوجاتا ہے۔ بندہ گھنٹوں والی سوئی کو دیکھے بغیر منٹوں والی سوئی دیکھ کر سمجھتا ہے کہ ٹائم ہوگیا ہے۔ ایسا اشتباہ آج بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے بندہ سے اگر غلطی ہوجائے اور وہ وقت سے پہلے اذان دے دے تو اسے چاہیے کہ اعلان کردے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ اور پھر جب وقت ہوجائے تو دوبارہ اذان دے۔

اگر کبھی ایسا ہوجائے کہ مؤذن لیٹ ہوجائے یا سویا رہ جائے اور اذان کا وقت گزر جائے تو پھر بغیر اذان کے نماز نہیں پڑھیں گے، بلکہ جب یاد آئے گا یا آنکھ کھلے گی، اذان دی جائے گی۔ نبی کریمﷺ ایک مرتبہ سفر میں تھے۔ رات کے آخری پہر میں جب تھکاوٹ زیادہ ہوگئی تو آپﷺ بھی اور سارا  قافلہ بھی سوگیا۔ بلال﷜ کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ آپ نے پہرہ دینا ہے اور جب فجر کا وقت ہوجائے تو سب کو جگانا ہے۔ یہ پہلے تو جاگتے رہے لیکن جب فجر کا وقت قریب ہوا تو اپنے اونٹ کے ساتھ ٹیک لگائی  اور افق کی طرف منہ کرکے بیٹھ گئے۔ چونکہ یہ بھی قافلے کے ساتھ تھکے ہوئے تھے، اس لیے ٹیک لگتے ہی انہیں بھی نیند آگئی۔ حتیٰ کہ سورج نکل آیا اور سارے سوئے ہوئے تھے۔سورج کی تپش کی وجہ سے آپﷺ کی آنکھ کھلی۔ آپﷺ نے دیگر لوگوں کو بھی جگایا اور پھر اس جگہ سے کوچ کرکے تھوڑا سا آگے جاکر پڑاؤ ڈالا۔ وہاں آپﷺ نے بلال﷜ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی ۔ لوگوں نے وضوء کرکے فجر کی سنتیں ادا کیں اور اس کے بعد آپﷺ نے نماز پڑھائی۔ «كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ» ([5])

’’جیسے ہر روز کرتے تھے، ویسے ہی کیا۔‘‘

یہ نہیں کہ اب تاخیر ہوگئی ہے، اس لیے کام آدھا چھوڑ دو۔ پورا کام جیسے روٹین کے ساتھ کرتے تھے، ویسے کیا۔ بس لیٹ ہوئے ہیں۔ کوئی حرج نہیں۔

اگر دو نمازیں جمع کرنا ہوں تو ان کےلیے ایک ہی اذان کافی ہے۔ الگ الگ اذان کی ضرورت نہیں۔ جابر بن عبد اللہ﷜ بیان کرتے ہیں:

«أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ, بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ» ([6])

’’نبی کریمﷺ حج کے دنوں میں مزدلفہ آئے تو وہاں آپﷺ نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھائیں۔‘‘

آج بھی یہی طریقہ جاری ہے۔ حاجی جب حج کرنے کےلیے جاتے ہیں اور وہ ظہر، عصر اور  مغرب، عشاء جمع کرتے ہیں تو ایک اذان دیتے ہیں اور اقامت الگ الگ کہتے ہیں۔

عیدین کی نمازوں کےلیے نہ اذان ہے، نہ اقامت۔ جابر بن سمرہ﷜ فرماتے ہیں:

«صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - الْعِيدَيْنِ, غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ, بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ» ([7])

’’میں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ کئی مرتبہ عیدین کی نماز پڑھی، بغیر اذان اور اقامت کے۔‘‘

لہٰذا عیدین کی نمازوں کےلیے نہ اذان ہے اور نہ ہی اقامت ہے۔ دو نمازیں جمع کرنا ہوں تو ایک اذان کافی ہے جبکہ اقامت دونوں کےلیے الگ الگ کہی جائے گی۔

______________________

([1])           صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب من قال: لیؤذن فی السفر مؤذن واحد، رقم الحدیث: 628۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب من أحق بالإمامۃ، رقم الحدیث: 674

([2])           سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب أخذ الأجر علی الأذان، رقم الحدیث: 531۔ سنن الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء في کراھیۃ أن یأخذ المؤذن علی الأذان أجرا، رقم الحدیث: 209

([3])           صحیح البخاري: 617۔ صحیح مسلم: 1092 واللفظ للبخاري۔

([4])           سنن أبي داود: 532

([5])           صحیح مسلم: 681

([6])           صحیح مسلم: 1218

([7])           صحیح مسلم: 887

 

  • الثلاثاء AM 10:01
    2023-01-31
  • 964

تعلیقات

    = 5 + 6

    /500
    Powered by: GateGold