اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

اذان اور اقامت کے مسائل

درس کا خلاصہ

اذان کا جواب دینے کا طریقہ، اور اقامت کہنے کا حق دار کون ہے؟



   تحميل mp3


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

اذان اور اقامت کے مسائل

سیدنا ابو سعید خدری﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ» ([1])

’’جب تم اذان سنو تو جیسے جیسے مؤذن کہتا ہے، ویسے ویسے کہو۔‘‘

صحیح مسلم میں سیدنا عمر بن خطاب﷜ سے اس کی وضاحت میں منقول ہے کہ جب مؤذن «الله أکبر، الله أکبر» کہے تو تم میں سے ایک بھی «الله أکبر، الله أکبر» کہے۔جب وہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے تو سننے والا بھی «أشهد أن لا إله إلا الله» کہے۔ جب وہ «أشهد أن محمدا رسول الله» کہے تو سننے والا بھی  یہی کہے۔ پھر جب مؤذن «حي علی الصلاة» کہے  تو سننے والا اس کے جواب میں یہی کلمات نہیں دہرائے گا بلکہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا۔جب مؤذن «حي علی الفلاح» کہے تو  بھی  «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے۔ پھر مؤذن «الله أکبر، الله أکبر» کہے تو سننے والا بھی یہی کہے اور آخر میں جب «لا إله إلا الله» کہے تو سننے والا دل سے یہی کلمات دہرائے  تو جنت میں داخل ہوجائے گا۔ ([2])

معلوم ہوا کہ مکمل اذان کا جواب ویسے نہیں دینا ، بلکہ ’’حی علی الصلاۃ‘‘ اور ’’حی علی الفلاح‘‘ کے جواب میں ’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ کہنا ہے۔ اور جو بندہ مکمل اذان کا جواب دیتا ہے، اس کےلیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

سیدنا جابر بن عبد اللہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ, وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ, آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ, وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ, حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ([3])

’’جس نے اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ, وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ, آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ, وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ» ’’اے اللہ! اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجہ میں قائم ہونے والی نماز کے رب! تو محمدﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطاء فرما۔ اور انہیں وہ مقامِ محمود دے جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔ ‘‘ تو اس کےلیے روزِ قیامت میری شفاعت حلال ہوجائے گی۔‘‘

ایک روایت میں ہے:

«إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ» ([4])

’’جس طرح مؤذن کہتا ہے، ویسے کہو اور اس کے بعد  مجھ پر درود بھیجو۔‘‘

تمام روایات کا ماحصل یہ ہے کہ مؤذن کی اذان سن کر جیسے جیسے وہ کہتا جارہا ہے، ویسے ویسے کہتے جائیں ۔ ’’حی علی الصلاۃ‘‘ اور ’’حی علی الفلاح‘‘ کے جواب میں ’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ کہیں۔ پھر نبی کریمﷺ پر درود بھیجیں اور مذکورہ بالا دعاء پڑھیں۔ فائدہ یہ ہوگا کہ جواب دینے اور دعاء پڑھنے  والے کےلیے جنت واجب ہوجائے گی اور رسول اللہﷺ کی شفاعت حلال ہوجائے گی۔

اذان اور اقامت کے درمیانی وقت کے بارے میں سیدنا انس بن مالک﷜ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ» ([5])

’’اذان اور اقامت کے درمیان دعاء رد نہیں ہوتی۔‘‘

معلوم ہوا کہ اذان سے لے کر اقامت کے درمیان تک جو دعاء بھی کی جائے، وہ مقبول ہوتی ہے۔ اسے ضرور قبول کیا جاتا ہے۔

اقامت کے حوالہ سے یہ سوال عام طور پر پوچھا جاتا ہے کہ اقامت کون کہے؟ اس حوالہ سے تین طرح کی روایات ہیں۔ ایک روایت میں یہ  ہے کہ ایک صحابی نے اذان دی تو دوسرے صحابی نے کہا کہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اذان دوں۔ آپﷺ نے فرمایا:

«فَأَقِمْ أَنْتَ» ([6])

’’تم  اقامت کہہ لو۔‘‘

یہ روایت ضعیف ہے۔

دوسری روایت میں ہے:

«مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ» ([7])

’’جو اذان دیتا ہے، وہی اقامت کہے۔‘‘

یہ روایت بھی ضعیف ہے۔

تیسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:

«الْمُؤَذِّنُ أَمْلَكُ بِالْأَذَانِ, وَالْإِمَامُ أَمْلَكُ بِالْإِقَامَةِ» ([8])

’’مؤذن اذان کا زیادہ حق رکھتا ہے اور امام اقامت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘

یعنی جسے امام کہے، وہی اقامت کہے۔ لیکن یہ روایت بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔

حاصل بحث یہ ہے کہ اس حوالہ سے کوئی روایت بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ یہ بات صحیح سند سے ثابت ہے کہ زمانہ نبوی میں بلال﷜ مؤذن مقرر تھے اور وہی اقامت کہا کرتے تھے۔ ([9]) تو رسول اللہﷺ کی تقریری حدیث سے یہی ثابت  ہے کہ جس مؤذن کی اذان دینے کی ذمہ داری ہے، وہی اقامت کہے۔ گویا اقامت کہنے کے مسئلے کا تعلق شرعی مسئلہ کی بجائے انتظامی معاملات سے ہے کیو نکہ مؤذن امام کے حال کو زیادہ بہتر جاننے والا ہوتا ہے کہ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب نے کب آنا ہے، لیٹ ہیں یا وقت پر آئیں گے۔ اسی طرح اگر مسجد میں کوئی مہمان عالم دین آجائیں اور انتظامیہ چاہے کہ وہ جماعت کروائیں  اور ساتھ درس بھی دے دیں ۔ اب جس کا جی چاہے، وہ اٹھ کر اقامت کہنا شروع کردے۔ اگر مسجد میں یہ ماحول ہوتو لوگ مؤذن کا انتظار کررہے ہوں گے اور یہ بندہ پہلے ہی اقامت کہہ دے گا۔ تو اصل میں اقامت کہنے کا مسئلہ انتظامی امور سے متعلق ہے۔ جو بندہ معاملات کو جانتا ہے یعنی مؤذن، جس کی ذمہ داری ہے، وہی اقامت کہے۔ نبی کریمﷺ کے تعامل سے اور رسول اللہﷺ کی موجودگی میں بلال﷜ کے عمل سے  یہی پتہ چلتا ہے کہ بہتر ہے مؤذن اقامت کہے۔ اگر مؤذن کسی اور کو اذان دینے کی اجازت دے دیتا ہے، تب بھی اقامت کہنے کا حق اسی مقرر کردہ مؤذن کو ہے کیونکہ وہ معاملات کو بہتر سمجھتا ہے۔

_________________________

([1])           صحیح البخاري: 611۔ صحیح مسلم: 383

([2])           صحیح مسلم: 385

([3])           البخاري (614)، وأبو داود (529)، والنسائي (2/ 26 - 27)، والترمذي (211)، وابن ماجه (722)

([4])           مسلم (384)

([5])           عمل اليوم والليلة للنسائي (67، 68، 69)، صحیح ابن خزيمة (425، 426، 427)، الترمذي (3594)

([6])           أبو داود (512)

([7])           الترمذي (199)

([8])           الکامل لابن عدي (4/ 1327)

([9])           البخاري (657)

 

  • الثلاثاء AM 10:11
    2023-01-31
  • 1023

تعلیقات

    = 3 + 4

    /500
    Powered by: GateGold