اعداد وشمار
مادہ
ننگے سر نماز
درس کا خلاصہ
نماز میں سرڈھانپنا عورتوں کےلیے فرض اور لازم ہے۔ مردوں کےلیے لازم اور ضروری نہیں ہے۔ لیکن نبی کریمﷺ کا طرز ِ عمل اور صحابہ کرام کا طریقہ کار یہی تھا کہ وہ سر کو ڈھانپ کر رکھتے تھے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
ننگے سر نماز
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ» ([1])
’’اللہ تعالیٰ بالغ لڑکی کی نماز کو بغیر دوپٹہ کے قبول نہیں فرماتا۔‘‘
یعنی لڑکی پر لازم ہے کہ جب وہ بالغ ہوجائے تو دوپٹہ لے کر نماز پڑھے۔ نماز میں سرڈھانپنا عورتوں کےلیے فرض اور لازم ہے۔ مردوں کےلیے لازم اور ضروری نہیں ہے۔ لیکن نبی کریمﷺ کا طرز ِ عمل اور صحابہ کرام کا طریقہ کار یہی تھا کہ وہ سر کو ڈھانپ کر رکھتے تھے۔ ننگے سر وہ کبھی بازاروں میں بھی نظر نہیں آتے تھے۔ ان کا سر ڈھکا ہوا ہوتا تھا۔ سر پر وہ کوئی نہ کوئی کپڑا لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ کو ننگے سر نماز پڑھ کر دکھانے کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے ننگے سر نماز پڑھی تو کسی نے پوچھا: آپ ننگے سر نماز پڑھ رہے ہیں؟ کہنے لگے: جی ہاں!
«إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ([2])
تاکہ تم جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے تو میں اسے بتاؤں کہ یہ طریقہ کار بھی نبی کریمﷺ سے ثابت ہے۔ ننگے سر بھی نماز ہوجاتی ہے۔ ہم نبی کریمﷺ کے دور میں تھے جب کپڑے کی قلت تھی تو ہم میں سے ہر آدمی کے پاس دو دو کپڑے نہیں ہوا کرتے تھے۔ ایک ہی کپڑا ہوا کرتا تھا۔
اگر یہاں سے یہ بات نکلتی ہے کہ ننگے سر نماز ہوجاتی ہے تو اس سے بڑھ کر یہ بات نکلتی ہے کہ انہیں ننگے سر نماز پڑھ کر دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس لیے کہ ننگے سر نماز پڑھنے والوں کا کوئی نام ونشان ہی نہیں تھا۔ سب لوگ سر ڈھانپ کر نماز پڑھتے تھے۔ تو اس لیے انہیں ضرورت پیش آئی کہ میں ننگے سر نماز پڑھ کر انہیں دکھاؤں تاکہ انہیں پتہ چل جائے کہ یہ طریقہ بھی ٹھیک ہے۔ اگر اس وقت کئی لوگ ننگے سر نماز پڑھتے تو انہیں یہ کام کرکے دکھانے کی ضرورت اور حاجت نہیں تھی۔ ان کا یہ عمل بتاتا ہے کہ اس دور میں ننگے سر نماز پڑھنے والا کوئی ملتا ہی نہیں تھا۔
اب ہماری مساجد میں ما شاء اللہ سارے ہی ننگے سر نماز پڑھتے ہیں۔ سب ہی یہ بتانے والے بن گئے ہیں کہ ننگے سر نماز ہوجاتی ہے۔ سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ آپﷺ کی عمومی سنت اور طریقہ کار سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا تھا۔ صرف نماز کی حد تک نہیں بلکہ نماز کے علاوہ بھی آپﷺ کا سر ڈھکا ہوا ہوتا تھا۔
لیکن کچھ لوگوں اتنی سختی کی اور سر ڈھانپنے کو نماز کے ایسا نتھی کردیا کہ یہ کہنا شروع کردیا: ننگے سر نماز ہوتی ہی نہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ ننگے سر نماز ہوجاتی ہے۔ لیکن ادب آداب کے خلاف ہے۔ مسلمان کے ادب اور نبی کریمﷺ کی دائمی سنت اور طریقہ کار کے مطابق نہیں ہے۔
سر ڈھانپنا لباس کا حصہ ہے، نماز کا حصہ نہیں ہے۔ لوگوں نے نماز کا حصہ بنا دیا ہے۔ نبی کریمﷺ انگوٹھی پہنتے تھے۔ جو نماز کے دوران بھی پہنی ہوتی تھی۔ اب اگر کوئی کہے کہ انگوٹھی پہنے بغیر نماز نہیں ہوتی تو اسے کیا کہا جاسکتا ہے؟ یہی کہ انگوٹھی کا تعلق لباس سے ہے، نماز سے نہیں۔ ایسے ہی مردوں کے سر کا ڈھکا ہوا ہونا لباس کا حصہ ہے، نماز کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن افضل اور بہتر طریقہ جسے نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام نے اپنائے رکھا اور صحابہ وتابعین کے دور میں جس کا رواج اور معمول تھا، وہ یہی تھا کہ وہ لوگ سر ڈھانپ کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ خیر القرون کا دور اور اسلاف کا زمانہ اسی طرح گزرا کہ مردوں کا سر ڈھکا ہوا ہوتا تھا۔ اس لیے اس چیز کا اہتمام کرنا چاہیے کہ بندے کا سر ڈھکا ہوا ہو، نماز میں بھی اور نماز کے علاوہ بھی۔ ٹوپی، پگڑی، رومال کوئی بھی چیز سر پر رکھی جاسکتی ہے۔ یہی ادب واحترام کا تقاضا ہے۔
_____________________
([1]) أبو داود (641)، والترمذي (377)، وابن ماجه (655)، وأحمد (6/ 150 و 218 و 259)، وابن خزيمة (775)
([2]) البخاري (352)، ومسلم (3008)
-
الثلاثاء AM 10:45
2023-01-31 - 1068





