اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نمازی کا لباس

درس کا خلاصہ

نمازی کا لباس ساتر ہونا چاہیے جو اس کے جسم کو اچھی طرح چھپا لے اور اس لباس سے اس کے جسم کے خد وخال نمایاں نہ ہوں۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نمازی کا لباس

سیدنا جابر بن عبد اللہ ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا:

«إِنْ كَانَ الثَّوْبُ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ» ولمسلم: «فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ - وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ» ([1])

’’اگر تمہارے پاس کپڑا کھلا ہے تو اسے اپنے جسم کے گرد لپیٹ لے۔‘‘ مسلم کے الفاظ ہیں: ’’اس کے کنارے مخالف سمت میں کرلے۔‘‘ یعنی کپڑے کو جسم پر لپیٹ کر اس کے دائیں کونے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کونے کو دائیں کندھے پر ڈال کر پیچھے سے گرہ باندھ لے۔ سارا جسم چھپ جائے گا، اس کے اندر آجائے گا۔ ’’اور اگر کپڑا تنگ ہے تو صرف ازار باندھ لے۔‘‘ نماز پڑھنے کےلیے۔

یہ تنگی کی حالت میں نمازی کا کپڑا اور لباس ہے کہ اگر اس کے پاس لمبی اور کشادہ چادر ہے تو اس کے ساتھ سارا جسم لپیٹا جائے گا۔ اگر چادر اتنی وسیع نہیں ہے تو ستر ڈھانپ لینا ہی نماز پڑھنے کےلیے کافی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ» ([2])

’’تم میں سے کوئی بندہ ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کچھ بھی نہ ہو۔‘‘

یعنی ایک کپڑا ہی ہو تو کندھے ننگے نہیں ہونے چاہییں۔ کندھے اور گردن کے درمیانی حصہ کو «عاتق» کہتے ہیں۔یہاں کچھ بھی نہ ہو تو اس حال میں بندہ نماز نہ پڑھے۔ یعنی اگر اس قدر کپڑا ہوتو یہاں پر کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔ وگرنہ دھوتی باندھ کر نماز پڑھ لے۔ یہ بھی کافی ہے۔ چاہے کندھا ننگا ہو۔ لیکن اگر کسی کے پاس قمیص ہو ، پھر بھی وہ کہے  کہ میں قمیص اور بنیان اتار کر صرف دھوتی میں نماز پڑھوں گا، تو یہ ناجائز ہوگا۔

ابو داؤد کی ایک روایت کے مطابق نبی کریمﷺ نے کچھ کاموں سے روکا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:

«أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ» ([3])

’’تم اس حال میں نماز پڑھو کہ شلوار پہنی ہو اور اس کے اوپر کوئی کپڑا نہ پہنا ہو۔‘‘

یعنی قمیص یا بڑی چادر وغیرہ۔ اگر کپڑا موجود ہے تو پھر اکیلی شلوار میں نماز پڑھنا منع ہے۔

اگر کپڑا موجود بھی ہو، اللہ تعالیٰ کا دیا  ہوا سارا کچھ ہو بھی، لیکن بندہ پھر بھی بنیانیں ہی پہنے ۔ نیچے سے شلوار یا ٹراؤزر  اور اوپر سے شارٹ شرٹ یعنی چھوٹی چھوٹی شرٹیں، تو نبی کریمﷺ نے اس طرح نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ بڑی چادر ہو، قمیص ہو یا بڑی شرٹ ہو  جیسے اگر کسی کو ٹراؤزر شرٹ پہننے کا شوق ہے تو پہنے  لیکن شرٹ گھٹنوں تک آجائے ۔ کھلی اور لمبی شرٹیں بھی مل جاتی ہیں۔ فلیکس ایبل بھی ۔ تاکہ بندہ جب رکوع اور سجدہ کےلیے جھکے تو اس کا ستر چھپا رہے۔ بہت سے لوگوں نے چھوٹی چھوٹی قمیصیں پہنی ہوتی ہیں تو جب وہ رکوع اور سجدہ کےلیے جھکتے ہیں تو ان کا ستر واضح ہوجاتا ہے۔ شریعت نے یہ اصول اور قانون مقرر کیا ہے کہ  ستر کو آپ نے اچھی طرح سے ڈھانپ کر رکھنا ہے۔ شلوار کا رسول اللہﷺ نے خصوصی طور پر اس لیے تذکرہ کیا ہے کیونکہ دھوتی وغیرہ باندھی ہوتو اس سے پھر بھی بچت رہتی ہے۔ لیکن شلوار کی شکل وصورت ایسی ہوتی ہے کہ  وہ ٹانگوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور ٹراؤز اور پینٹ تو شلوار سے بھی زیادہ تنگ ہوتی ہیں۔ مؤخر الذکر دونوں میں تو بندہ سیدھا بھی چل رہا ہو تو اس کا ستر پیچھے سے نمایاں ہورہا ہوتا ہے۔ تو یہ بےحیائی والی بات ہے۔ جسے آج کل معیوب ہی نہیں سمجھا جاتا۔ بہرحال نبی کریمﷺ نے اس کام سے منع کیا ہے۔ نمازی کا لباس ساتر ہونا چاہیے۔ اس کے جسم کو اچھی طرح سے ڈھانپنے والا ہو۔ ہاں اگر کوئی اتنا تنگدست، کنگال اور بےحال ہے کہ اس کے پاس پہننے کےلیے کپڑا نہیں ہے  تو پھر جو اس کو میسر آئے، اسی میں نماز پڑھے۔ لیکن اگر خوشحال ہے اور کپڑا موجود ہے اور خریدنے کی استطاعت  بھی ہے ۔ خریدتا بھی مہنگے کپڑے ہے لیکن ادھورے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے  اور نبی کریمﷺ کی مخالفت سے خوف کھانا چاہیے۔ جو لباس شریعت نے مقرر کیا ہے، اسے اختیار کریں اور اپنائیں۔ بالخصوص نماز کےلیے۔

بسا اوقات یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی نماز پینٹ شرٹ پہن کر نماز شروع کرتا ہے تو جب وہ رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے تو پیچھے سے اس کی شرٹ باہر نکل آتی ہے۔ اور سبھی جانتے ہیں کہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کا جسم ستر ہے اور اسے چھپانا ضروری ہے۔ لیکن اس طرح بندہ درمیان سے برہنہ اور ننگا ہوجاتا ہے۔ نمازی کا لباس ساتر ہونا چاہیے جو اس کے جسم کو اچھی طرح چھپا لے  اور اس لباس سے اس کے جسم کے خد وخال نمایاں نہ ہوں۔

______________________

([1])           البخاري (361)، ومسلم (3010)، واللفظ هنا للبخاري.

([2])           البخاري (359)، ومسلم (516)

([3])           أبو داود (636)

 

  • الثلاثاء AM 10:58
    2023-01-31
  • 970

تعلیقات

    = 1 + 6

    /500
    Powered by: GateGold