اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نماز کے لیے قبلہ رُو ہونا

درس کا خلاصہ

نماز کےلیے قبلہ رُو ہونا یعنی قبلہ کی طرف اپنا چہرہ کرنا ضروری ہے۔ چہرہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف منہ ادھر ہو اور باقی دھڑ کہیں اور جارہا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بندہ حتیٰ المقدور اپنے اعضاء کو قبلہ کی جانب رکھے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نماز کے لیے قبلہ رُو ہونا

 

ابتداء میں نبی کریمﷺ جس کام کے متعلق وحی نازل نہ ہوتی، اس میں اہل کتاب کی پیروی کرتے تھے۔ ([1])اسی وجہ سے ابتداء میں نبی معظم ﷺ نے بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کرنا شروع کردی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا:

﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ 

’’اپنے چہرے کو مسجدِ حرام کی طرف موڑ لیں۔‘‘

[البقرة: 144]

اہلِ ایمان  کو بھی کہا ہے:

﴿فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾

’’اپنے چہرے اس کی طرف کرلو۔‘‘

[البقرة: 144]

اس کے بعد سے لے کر مسلمانوں کا قبلہ خانۂ کعبہ مقرر کردیا گیا۔ اس لیے اب نمازی کےلیے ضروری ہے کہ اس کے چہرے اور ہر ممکن طور پر جسم کا رُخ  کعبہ کی طرف ہو۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

«مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ المُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ» ([2])

’’جس نے ہماری نماز جیسی نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف رُخ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو یہ ایسا مسلمان ہے کہ اس کےلیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ ‘‘

نماز کےلیے قبلہ رُو ہونا یعنی قبلہ کی طرف اپنا چہرہ کرنا ضروری ہے۔ چہرہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف منہ ادھر ہو اور باقی دھڑ کہیں اور جارہا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بندہ حتیٰ المقدور اپنے اعضاء کو قبلہ کی جانب رکھے۔ جیسے جیسے قبلے سے دور ہوتے جائیں تو اس کی صحیح سمت کا تعین قدرے مشکل ہوتا جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ مدینہ میں تھے اور مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ مکہ میں تھا۔ ہر آدمی کےلیے قبلہ کی صحیح سمت تلاش کرنا دشوار ہوتا ہے۔ مساجد کے اندر تو بڑی باریک بینی کے ساتھ یہ اہتمام کرلیا جاتا ہے کہ رُخ قبلہ کی جانب ہوجائے۔ لیکن مسجد کے علاوہ جیسے عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنا پڑتی ہے اور مرد حضرات نوافل وغیرہ گھر میں پڑھتے ہیں تو عین قبلہ رُو ہونا خاصا مشکل ہوجاتا ہے۔ آج کل اگرچہ قبلہ نما ایپس موبائلز کے اندر موجود ہیں  اور وہ بالکل درست سمت بتا دیتے ہیں، لیکن بہرحال دینِ اسلام نے اس مسئلہ میں کچھ رُخصت رکھی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ» ([3])

’’مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔‘‘

ان کا قبلہ شمال کی طرف تھا جبکہ ہمارا قبلہ مغرب کی جانب ہے۔ اسی لیے مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ قرار دیا گیا۔ یعنی تمہارا رُخ مشرق اور مغرب کی طرف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے درمیان درمیان رہے تو یہ قبلہ رُخ ہی ہے۔ ہمارے لیے یہ حکم ہوگا کہ شمال اور جنوب کے درمیان قبلہ ہے۔ بندہ اتنا ٹیڑھا نہ ہو کہ شمال مغرب یا جنوب مغرب کی طرف نہ ہوجائے۔ تھوڑے بہت فرق  کی گنجائش ہے۔ شریعت نے اس حوالہ سے وسعت رکھی ہے۔ شریعت اور اصول اور قاعدہ یہ ہے:

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ 

’’اللہ کسی کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔‘‘

[البقرة: 286]

ہر کسی کو پہلی کوشش تو یہی کرنی چاہیے کہ وہ عین قبلہ کی جانب سیدھا ہوجائے۔ اس کےلیے قبلہ نما سافٹ ویئرز سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اگر معلوم نہ ہوسکے یا سافٹ ویئر غلطی کر جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ کیونکہ بندہ اپنی کوشش کرچکا ہے۔

نبی کریمﷺ سفر کے دوران نفل نماز سواری پر بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔  سیدنا عامر بن ربیعہ﷜ فرماتے ہیں:

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ» ([4])

’’میں نے نبی کریمﷺ کو اونٹنی پر نماز پڑھتے دیکھا ، جس جانب بھی اس کا رُخ آجاتا، آپﷺ نماز پڑھتے رہتے۔‘‘

صحیح بخاری میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:

«يُومِئُ بِرَأْسِهِ, وَلَمْ يَكُنْ يَصْنَعُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ» ([5])

’’اونٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھتے تو سر کے ساتھ اشارہ کرتے۔ فرض نماز میں ایسا نہیں کرتے تھے۔‘‘

فرض نماز ادا کرنے کےلیے سواری سے نیچے اتر آتے تھے۔ نوافل سواری پر ادا کرلیتے تھے۔ ابو داؤد میں سیدنا انس﷜ سے ایک روایت منقول ہے جس میں اس بات کی مزید وضاحت فرماتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

«كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةِ, فَكَبَّرَ, ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَجْهُ رِكَابِهِ» ([6])

’’جب آپﷺ سفر پر ہوتے اور نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی اونٹنی کا رُخ قبلے کی جانب کرکے تکبیر ِ تحریمہ کہتے اور نماز شروع کرلیتے۔ اس کے بعد سواری کا رُخ جس جانب بھی ہوجاتا، آپﷺ نماز پڑھتے رہتے۔‘‘

یعنی آپﷺ نماز کی ابتداء میں تو قبلہ رُخ ہونے کا اہتمام کرتے تھے، اس کے بعد سواری کا رُخ جس جانب بھی ہوجاتا، آپﷺ اس کی پروا نہ کرتے تھے۔ سفر میں نفل پڑھنے کےلیے شریعت کی طرف سے یہ سہولت دی گئی ہے۔ مثلاً آپ گاڑی میں سوار کہیں جارہے ہیں اور نوافل پڑھنا چاہتے ہیں تو سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اشارے سے نوافل پڑھ سکتے ہیں جیسے نبی کریمﷺ سر کے اشارے سے نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔ چونکہ رکوع اور سجدہ نہیں ہوسکتا، اس لیے اشارے سے نماز پڑھ لیں۔ بس اور گاڑی کا رُخ جس جانب بھی ہوتا ہے، ہوجائے۔ کوئی حرج نہیں۔ یعنی سفر کی حالت میں مسافر پر قبلہ کا اہتمام کرنے کی شریعت نے زیادہ پابندی نہیں لگائی۔ البتہ فرض نماز کےلیے سختی ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ بھی فرض نماز کی ادائیگی کے لیے سواری سے اتر کر نیچے ادا کرتے تھے۔

_______________________________

([1])           البخاري (3558)، مسلم (2336)

([2])           البخاري (391)

([3])           الترمذي (344)

([4])           البخاري (1093)، ومسلم (701)

([5])           البخاري (1097)

([6])           أبو داود (1225)

 

  • الثلاثاء PM 02:04
    2023-01-31
  • 1027

تعلیقات

    = 4 + 4

    /500
    Powered by: GateGold