اعداد وشمار
مادہ
ساری زمین ہی مسجد ہے
درس کا خلاصہ
قبرستان اور حمام میں نماز ادا کرنا منع ہے۔ اس کے علاوہ باقی ساری زمین مسجد ہے جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ البتہ کچھ موانع کی وجہ سے بعض دیگر جگہوں پر بھی نماز پڑھنا منع ہوجاتا ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
ساری زمین ہی مسجد ہے
سیدنا ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ» ([1])
’’زمین ساری کی ساری مسجد ہے سوائے مقبرہ اور حمام کے۔‘‘
قبرستان اور حمام میں نماز ادا کرنا منع ہے۔ اس کے علاوہ باقی ساری زمین مسجد ہے جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ البتہ کچھ موانع کی وجہ سے بعض دیگر جگہوں پر بھی نماز پڑھنا منع ہوجاتا ہے۔ مثلاً: اگر کوئی جگہ گندی ہو تو وہاں نماز پڑھنا بھی منع ہوگا۔ چاہے وہ گندگی پھینکنے کی جگہ ہے یا کوئی اور گندی جگہ۔اسی طرح اگر کسی جگہ پر نماز کی ادائیگی میں نمازی کو جان وغیرہ کا خطرہ ہو، جیسا کہ نبی کریمﷺ سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو۔ پھر اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے منع فرما دیا اور کہا:
«فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ» ([2])
’’اونٹ شیطانوں میں سے ہیں۔ ‘‘
یعنی ان میں سے کچھ اونٹ شیطان قسم کے ہوتے ہیں۔ اگر وہ بندے کو ویسے ہی دبوچ لیں تو مار دیں۔ یعنی جہاں پر نمازی کو ضرر اور نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یا جگہ پاک صاف نہیں ہے، وہاں نماز ادا نہیں کی جاسکتی۔ ان کے علاوہ مقبرہ یعنی قبرستان، جہاں قبریں ہوں، وہاں نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ باقی ساری روئے ارض اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مسجد بنائی ہے۔ سابقہ امتوں کےلیے یہ حکم تھا کہ وہ عبادت کےلیے مخصوص جگہ پر جائیں اور وہاں عبادت کریں۔ اس کے علاوہ وہ کہیں عبادت نہیں کرسکتے تھے۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: .... وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا, فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ» ([3])
’’مجھے پانچ ایسی خوبیاں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ میرے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ساری کی ساری زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنایا ہے۔ لہٰذا جہاں پر بھی نماز کا وقت ہوجائے، وہیں پر نماز ادا کرلو۔ ‘‘
اگر پانی نہیں ہے تو زمین ہی تمہیں پاک کرنے کی چیز ہے۔ یعنی پانی نہیں ہے تو صعید طیب یعنی پاکیزہ مٹی کے ساتھ تیمم کرلو اور نماز ادا کرو۔ یہ اس امت کے خصائص میں سے ایک خاصہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا:
﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً﴾
’’اپنے گھروں کو قبلہ رُخ بناؤ۔‘‘
[یونس: 87]
کیونکہ فرعون کے ڈرتے ہوئے چند لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ اس لیے فرعونی ان کو تنگ کرتے تھے۔ عبادت کرنے نہیں دیتے تھے۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ اپنے سارے گھروں کو قبلہ رُخ بناؤ تاکہ کسی بھی گھر میں تم عبادت کرنا چاہو تو کر سکو۔جس گھر کو تم عبادت کےلیے مختص کرنا چاہو، کرلو۔ یہ انہیں رُخصت اور سہولت دی گئی تھی۔ اس اعتبار سے اگر دیکھیں اور میسر ہو تو اپنے گھروں کو قبلہ رُخ بنایا جائے تاکہ گھروں میں نماز ادا کرنے میں آسانی ہو اور قبلہ کی سمت معلوم کرنے میں زیادہ پریشانی نہ ہو۔ کیونکہ جب گھر قبلہ رُخ بنا ہوگا تو اس میں آسانی سے نماز ادا کرلی جائے گی۔ وگرنہ مصلیٰ کو تھوڑا سا اِدھر یا تھوڑا اُدھر گھمانے میں ہی وقت گزر جاتا ہے۔
بہرحال زمین ساری کی ساری مسجد ہے اور کہیں پر بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«أَفْضَلُ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ» ([4])
’’مسلمان آدمی کی افضل ترین نماز اس کے گھر میں ہے، سوائے فرض نماز کے۔‘‘
فرض نماز کےلیے اسے مسجد میں آنا پڑے گا۔ باقی نوافل وہ گھر میں ادا کرے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ لیکن اگر بندہ مسجد سے دور ہے تو وہ کہیں بھی نماز ادا کرسکتا ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:
«يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ، يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ» ([5])
تمہارے رب اس آدمی پر تعجب کرتے ہیں، مسکراتے ہیں جو پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چرانے گیا ہے، اکیلا ہے، اس کے آس پاس اور کوئی بھی نہیں۔ وہ اکیلا ہی اذان واقامت کہہ کر جماعت کرواتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس آدمی پر تعجب کرتے ہیں۔
جہاں پر بھی چلے جائیں، زمین ساری کی ساری مسجد ہے۔ اگر مساجد موجود ہیں اور آپ مساجد والے علاقہ میں ہیں تو پھر فرض نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں ہی جائیں۔ نفل کہیں پر بھی ادا کرسکتے ہیں۔ اور اگر کسی ایسی جگہ ہیں جہاں مسجد کی سہولت میسر نہیں ہے تو فرض نماز بھی آپ کسی بھی جگہ پر ادا کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ سفر میں عام طور پر اس طرح کے معاملات پیش آجاتے ہیں۔ اب تو ویسے لوگوں نے اس بات کا اہتمام کیا ہوتا ہے کہ فلنگ سٹیشنز پر نماز اور طہارت کا بندوبست ہوتا ہے۔ اس سے کافی آسانی ہوگئی ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کسی ایسے علاقہ میں چلے جائیں جہاں اس طرح کا بندوبست نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ جہاں نماز کا وقت ہوگیا، نماز کو لیٹ نہیں کرنا۔ وقت پر نماز ادا کریں۔
_________________________________
([3]) البخاري (335)، ومسلم (521)
([4]) البخاري (731)، ومسلم (781)
-
الثلاثاء PM 02:11
2023-01-31 - 1039





