اعداد وشمار
مادہ
جوتوں میں نماز
درس کا خلاصہ
اگر جوتا پاک صاف ہے تو اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ نماز جنازہ بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اگر کہیں باہر ہیں جہاں مسجد میسر نہیں تو فرض نماز بھی جوتے سمیت پڑھی جاسکتی ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
جوتوں میں نماز
سیدنا ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ, فَلْيَنْظُرْ, فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ أَذًى أَوْ قَذَرًا فَلْيَمْسَحْهُ, وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا» ([1])
’’جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتوں کو دیکھے۔ اگر جوتوں میں کوئی گندگی یا کوئی تکلیف دہ چیز ہے تو اس جوتے کو زمین کے ساتھ رگڑ لے اور ان جوتوں میں نماز پڑھے۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ» ([2])
’’جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے موزوں کے ساتھ کسی گندگی کو روندتا ہے ، یعنی اس کے اوپر سے گزرتا ہے تو اس کے بعد جو پاکیزہ مٹی آتی ہے، وہ اسے پاک کردیتی ہے۔‘‘
اگر گندگی لگ جائے، ساتھ جڑ جائے تو اسے رگڑ کر صاف کردے۔ اور اگر گندگی کے اوپر سے گزرے ہیں، گندگی ساتھ چپکی نہیں ہے یا چپکی تھی لیکن چلتے چلتے وہ اتر گئی تو جوتا یا موزہ پاک ہوجائے گا۔
نبی کریمﷺ اور اس کے بعد کے ادوار تک مساجد میں جوتوں سمیت نماز پڑھی جاتی تھی۔ کیونکہ مسجدیں کچی ہوتی تھیں۔ وہ کارپٹ اور قالین کا دور نہیں تھا۔ آج بھی اس مسئلہ کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب جنازہ گاہ میں جنازہ پڑھنے کےلیے جایا جاتا ہے۔ اکثر وبیشتر جنازہ گاہ ایسی ہوتی ہے کہ کچی جگہ ہوتی ہے۔ صفائی ستھرائی کا کوئی خاص اہتمام اور انتظام نہیں ہوتا۔ وہاں بندہ اگر جوتا اتار کر جنازے میں شریک ہونا چاہے ، تو فرش اس کےلیے تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے اگر جوتا پاک صاف ہے تو اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ نماز جنازہ بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اگر کہیں باہر ہیں جہاں مسجد میسر نہیں تو فرض نماز بھی جوتے سمیت پڑھی جاسکتی ہے۔ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام اسی طرح پڑھتے رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی جوتا پہن کر ادھر مساجد میں آکر پریکٹس کرنا شروع کردے۔ شریعت نے اس کام سے روکا اور منع کیا ہے۔ کیونکہ جوتے کے ساتھ اور کچھ بھی نہ آئے تو کم از کم مٹی اور ریت وغیرہ تو مسجد میں آجاتی ہے۔ جبکہ شریعت میں مسجد کی صفائی ستھرائی کا حکم دیا گیا ہے۔ ([3])جہاں پہلے سے ہی یہ چیز موجود ہے اور ختم نہیں کیا جاسکتا، یعنی مسجد کچی ہے تو وہاں جوتا پہن کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریمﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی:
«إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي، وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ» ([4])
میں ایسی عورت ہوں کہ اپنا جسم لپیٹنے اور مسجد جانے کےلیے بڑی چادر یا عبایا لیتی ہوں۔ میرے کپڑے کا دامن پیچھے زمین پر گھسٹتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ زمین ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کہیں پر گندگی ہے اور کوئی جگہ صاف ستھری ہے ۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’جو اس کے بعد والی پاکیزہ مٹی ہے، وہ اسے پاک کرنے والی ہے۔‘‘
یعنی اس چادر کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے کہ نماز پڑھنے کےلیے مسجد میں آئے تو پہلے اس چادر کو دھوئے۔ مٹی پاک کرنے والی ہے۔ یہ جوتے ، موزے، جراب اور کپڑے کو پاک کردے گی۔ اسے دھونے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر گندگی لگی ہوئی نظر آرہی ہو تو پھر اسے رگڑ کر صاف کرلیں یا دھو کر صاف کرلیں، اس میں اختیار ہے۔
_________________________________
([1]) أبو داود (650) وصحَّحه ابن خزيمة (786)
([2]) أبو داود (386)، وصحَّحه ابن حبان (1404)
([3]) أحمد (6/ 279)، وأبو داود (455)، والترمذي (594)
-
الثلاثاء PM 02:19
2023-01-31 - 983





