اعداد وشمار
مادہ
نماز میں گفتگو
درس کا خلاصہ
اگر کوئی نماز میں جان بوجھ کر بولے گا اور کلام کرے گا تو اس کی نماز خراب ہوجائے گی۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں گفتگو
شروع اسلام میں نماز کے دوران گفتگو اور بات چیت کرنا جائز تھا۔ بعد میں اس سے منع کردیا گیا۔ سیدنا زید بن ارقم بیان کرتے ہیں:
«إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ, حَتَّى نَزَلَتْ: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [الْبَقَرَة: 238] , فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ, وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ» ([1])
’’ہم نبی کریمﷺ کے زمانہ میں نماز کے دوران آپس میں بات چیت کرلیا کرتے تھے۔ جو ضرورت کی بات ہوتی، ہم میں سے ایک اپنے ساتھی سے وہ کرلیتا تھا۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: ’’اپنی نمازوں کی حفاظت کرو اور افضل نماز کی حفاظت کرو(یعنی نماز ِ عصر کی) اور اللہ کےلیے فرمانبردار بن کر کھڑے ہوجاؤ۔ ‘‘ تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور آپس میں کلام کرنے سے منع کردیا گیا۔‘‘
سیدنا معاویہ بن حَکَم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ, إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ, وَالتَّكْبِيرُ, وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» ([2])
’’یہ نماز ایسی عبادت ہے کہ اس میں لوگوں کی باہم گفتگو میں سے کچھ بھی جائز اور درست نہیں ہے۔ اس میں تو تسبیح، تکبیر اور قرآن مجید کی قراءت ہے۔‘‘
یعنی نماز مذکورہ کاموں کےلیے ہے، آپس میں گفتگو کےلیے نہیں۔ اگر امام دورانِ نماز بھول جائے تو اسے بتانے کےلیے بھی بول کر اور گفتگو کرکے نہیں کہا جائے گا، بلکہ شریعت نے اس کےلیے بھی اشارہ مقرر کیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ, وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ» زَادَ مُسْلِمٌ: «فِي الصَّلَاةِ» ([3])
امام کے بھولنے پر مَرد سبحان اللہ کہیں تاکہ امام کو پتہ چل جائے اور وہ خبردار ہوجائے کہ کچھ غلطی ہوئی ہے۔ بعض لوگ امام کے بھولنے پر اللہ اکبر کہنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن شریعت نے مردوں کےلیے سبحان اللہ کا لفظ مقرر کیا ہے۔ اگر امام کی اقتداء میں عورتیں ہیں ، جیسا کہ ابی بن کعب کے گھر میں ماہِ رمضان میں عورتیں جمع ہوئیں اور ان سے کہنے لگیں کہ ہم قرآن نہیں پڑھ سکتیں، لہٰذا ہمیں قرآن یاد نہیں ہے۔ اس لیے آپ ہماری امامت کروائیں۔ اس پر ابی بن کعب نے ان عورتوں کو جو ان کے گھر میں جمع تھیں، آٹھ رکعت تراویح اور وتر پڑھائے۔ صبح نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو کہنے لگے: رات ایک نیا کام ہوگیا ہے۔ آپﷺ نے پوچھا:
«وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟» ([4])
’’وہ کیا؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس طرح ہوا۔ تو نبی کریمﷺ نے اسے برقرار رکھا اور کچھ نہ کہا۔ معلوم ہوا کہ عورتوں کی امامت مَرد کروا سکتا ہے۔ تو اس حالت میں کہ جب مرد عورتوں کی امامت کروا رہا ہو اور دورانِ نماز کچھ بھول جائے، مثلاً کوئی رکعت یا درمیانہ تشہد وغیرہ، تو عورت تالی بجائے۔ اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں دوسر ے ہاتھ کی الٹی سائیڈ پر مارے۔ اسے تصفیق کہتے ہیں۔ اس طرح عورت جب تالی مارے گی تو امام کو معلوم ہوجائے گا کہ کچھ غلط ہوگیا ہے اور وہ اصلاح کرلے گا۔
عام طور پر نماز میں بھولنے کی بنیاد شک ہوتا ہے۔ اس لیے جونہی مقتدیوں کی طرف سے سبحان اللہ کی آواز آتی ہے یا اگر صرف عورتیں نماز پڑھ رہی ہیں ، مرد کوئی نہیں ہے تو جونہی عورتوں کی طرف سے تالی کی آواز آتی ہے تو اسے فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی غلطی ہورہی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نماز میں لوگوں کی باہم گفتگو منع ہے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ دورانِ نماز کسی آدمی کے منہ سے اچانک کوئی کلمہ ادا ہوجاتا ہے۔اگر ایسا غلطی سے ہوتو اس بارے میں نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
«إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ» ([5])
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کو غلطی اور بھول چوک معاف کردی ہے۔ ‘‘
البتہ اگر کوئی جان بوجھ کر بولے گا اور کلام کرے گا تو اس کی نماز خراب ہوجائے گی۔ اسی طرح نماز میں ہنسنا اور قہقہہ لگانا بھی کلام ہی کے حکم میں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص دورانِ نماز ہنستا اور قہقہہ لگائے گا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی، ٹوٹ جائے گی۔
_____________________________
([1]) البخاري (1200)، ومسلم (539)
([3]) البخاري (1203)، ومسلم (422)
-
الثلاثاء PM 02:25
2023-01-31 - 985





