اعداد وشمار
مادہ
نماز میں جائز کام
درس کا خلاصہ
نماز میں آنسو بہانا، سلام کا جواب دینا، بچے کو اٹھانا، موذی جاندار کو قتل کرنا وغیرہ جائز ہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
نماز میں جائز کام
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
عبد اللہ بن شِخِّیْر بیان کرتے ہیں:
«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي, وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ, مِنْ الْبُكَاءِ» ([1])
’’میں نے آپﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپﷺ کے سینے سے رونے کی اس طرح سے آواز آرہی تھی جیسے ہنڈیا کے ابلنے کی آواز آتی ہے۔‘‘
نماز میں کچھ کام جائز ہیں۔ ان میں سے ایک اللہ رب العالمین کی خشیت، اس کے خوف اور ڈر اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے رونا ہے۔ لیکن یہ صرف اس قدر ہونا چاہیےجس قدر ہنڈیا کے ابلنے کی آواز آتی ہے۔ کچھ لوگ نماز میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیتے ہیں۔ یہ غُلُوّ ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ﴾
’’حد سے تجاوز نہیں کرنا۔‘‘
[النساء: 171]
نبی کریمﷺ سے بڑھ کر اگر کوئی متقی بننے کی کوشش کرے گا تو وہ گمراہی کی طرف جائے گا۔ جس قدر نبی ﷺ کا تقویٰ تھا، وہ سب سے زیادہ ہے۔ آپﷺ نے خود فرمایا ہے:
«أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ» ([2])
’’میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں۔‘‘
تو رونا جائز ہے۔ اللہ کے ڈر، اس کی خشیت اور عذاب کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور رونا آجائے تو درست ہے۔ لیکن وہ اس حد تک ہونا چاہیے جس حد تک رسول اللہﷺ سے ثابت ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا:
«كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - يَرُدَّ عَلَيْهِمْ حِينَ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ, وَهُوَ يُصَلِّي? قَالَ: يَقُولُ هَكَذَا, وَبَسَطَ كَفَّهُ» ([3])
’’نبی کریمﷺ کو دورانِ نماز جب لوگ سلام کرتے تھے تو آپﷺ لوگوں کے سلام کا جواب کیسے دیتے تھے؟ تو بلال نے فرمایا: میں نے دیکھا تھا کہ آپﷺ اس طرح کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کو باندھ کر اسے پھیلا کر دکھایا۔‘‘
یعنی اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔تو رسول اللہﷺ کا طریقہ کار یہی تھا کہ جب آپﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی آپﷺ کو سلام کرتا تو آپﷺ اپنے دائیں ہاتھ کو، وہ جہاں بھی ہوتا، پھیلا دیتے۔ زبان سے نہیں، صرف ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔
سیدنا ابو قتادہ فرماتے ہیں:
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ, فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا, وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا» ([4])
’’رسول اللہﷺ امامہ بنت زینب کو اٹھا کر نماز پڑھا دیتے تھے۔ جب سجدہ کےلیے جھکتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے۔ جب اگلی رکعت کےلیے اٹھتے تو پھر اسے اٹھا کر کندھے پر بٹھا لیتے۔‘‘
حدیث میں مذکور امامہ آپﷺ کی بیٹی زینب کی بیٹی اور آپﷺ کی نواسی تھیں۔
معلوم ہوا کہ بچے کو اٹھا کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ بچے کو اٹھانے اور بٹھانے کےلیے نماز کے معمولات سے ہٹ کر کچھ حرکت کرنی پڑے گی۔ تو اتنی حرکت جائز اور درست ہے۔ اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔
اس حدیث سے بعض لوگ یوں استدلال کرتے ہیں کہ اگر بچی کو اٹھا کر نماز پڑھی جاسکتی ہے تو پھر رمضان میں تراویح سننے کےلیے قرآن پکڑ کر کھڑا ہوا جاسکتا ہے۔ حالانکہ ان دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نبی کریمﷺ امامہ کو اٹھا کر کندھے پر بٹھاتے اور ہاتھ باندھ لیتے۔ جبکہ قرآن ہاتھ میں پکڑنے والا پورے قیام میں ہاتھ نہیں باندھتا۔ نبی کریمﷺ نے نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ([5])اور قرآن اٹھانے والے نے ہاتھ نہیں رکھا۔ اس لیے یہ نبی کریمﷺ کی حکم عدولی ہے۔ البتہ اگر کسی ایسے طریقے سے مصحف کو پکڑ لے جیسا کہ چھوٹا جیبی مصحف ہوتا ہے یا جیسے آج کل موبائلز میں قرآن مجید ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی اس وقت جائز ہوگا جب بندہ خود قراءت کررہا ہو اور اسے بھولنے کا خدشہ ہو۔ پیچھے کوئی بتانے والا بھی نہ ہو تو اسے اجازت ہوگی کہ وہ بوقتِ ضرورت اسے دیکھ لے۔ لیکن ہاتھ اس کے بندھے ہوئے ہونے چاہییں۔ لیکن جو لوگ قرآن مجید اٹھا کر یا موبائل پکڑ کر کھڑے ہوتے ہیں، وہ پورے قیام میں ہاتھ نہیں باندھتے، یہ طریقہ بہرحال غلط ہے۔
سیدنا ابو ہریرہبیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
«اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةَ, وَالْعَقْرَبَ» ([6])
’’نماز کے دوران دو کالی چیزوں کو مارو۔ یعنی سانپ اور بچھو۔‘‘
اس وقت کچی مسجدیں تھیں، اس لیے یہ چیزیں آجاتی تھیں۔ آج کل شہروں میں یہ چیزیں تقریباً ناپید ہیں۔ بہرحال کبھی کبھار ضرورت پڑجاتی ہے اس مسئلہ کی۔ اگر کوئی موذی جانور ہو جس سے نمازی کو نقصان کا اندیشہ ہوتو نمازی نماز کے دوران ہی اسے مار سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان چیزوں کو مارنے کےلیے نمازی کو حرکت کرنی پڑے گی تو ایسی حرکت نماز میں جائز ہے۔ مثلاً نمازی کے سامنے سترہ ہے تو وہ سانپ یا بچھو کو مارنے کےلیے وہ سترہ اٹھائے گا تو یہ حرکت تو ہوگی لیکن نماز کےلیے نقصان دہ نہیں ہے۔ بالخصوص ایسی حرکت جس کا تعلق نماز کی اصلاح سے ہو۔ مثلاً نمازی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سانپ یا بچھو ہو تو جب تک نمازی اسے مارے گا نہیں تب تک نماز میں ڈرتا ہی رہے گا کہ کہیں یہ کچھ کر نہ جائے۔ میں سجدہ میں جاؤں اور یہ ڈنگ نہ مار دے۔ اسی طرح اگر کوئی بندہ نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کو بند کرنا یا سائلنٹ کرنا بھول جائے تو دورانِ نماز وہ موبائل کو نکال کر اس کی آواز بند کرسکتا ہے۔ سانپ اور بچھو سے نمازی کی جان کو خطرہ ہوتا ہے جبکہ موبائلز پر لگی ہوئی رنگ ٹونز ، بالخصوص میوزک والی، اس سے ایمان کو خطرہ ہوتا ہے۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
«لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ» ([7])
’’جس قافلے کے ساتھ گھنٹی یا کتا ہو، اس کے ساتھ رحمت کے فرشتے نہیں ہوتے۔‘‘
تو موبائل جب نمازی کی جیب میں بولے گا تو رحمت کے فرشتوں نے کہاں رہنا ہے! حالانکہ نماز رب کی رحمت کو پانے کےلیے پڑھ رہا ہے!
اول تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ٹون ایسی لگائی جائے جو میوزک سے پاک ہو۔ جیسے جانور کی آواز وغیرہ۔ اگر موبائل میں ایسی سہولت نہ ہو تو پھر کم از کم اسے وائبریشن پر لگا لیں۔ وائبریشن سے تو سوئے ہوئے بندے کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ فون آرہا ہے۔ اگر ٹون لگا نا ضروری ہے اور اس کے بغیر گزارا نہیں ہے تو نماز میں اسے بند رکھیں۔ اگر پہلے بند کرنا بھول جائیں تو دورانِ نماز آواز کو بند کردیں۔
________________________________
([1]) أبو داود (904)، والنسائي (3/ 13)، والترمذي في الشمائل (315)، وأحمد (4/ 25 و 26)، وصححه ابن خزيمة (665 و 753)
([3]) أبو داود (927)، والترمذي (368)
([4]) البخاري (516)، ومسلم (543)
([6]) أبو داود (921)، والنسائي (3/ 10)، والترمذي (390)، وابن ماجه (1245)، وصححه ابن حبان برقم (2352)
-
الثلاثاء PM 06:28
2023-01-31 - 976





