اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

سترے کی مقدار اور حکم

درس کا خلاصہ

کم از کم ڈیڑھ فٹ اونچی چیز نمازی کے آگے ہو تو وہ سترہ بنتی ہے۔ اور یہ مستحب ہے۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

سترے کی مقدار اور حکم

محمد رفیق طاہر  عفی عنہ

سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیاکہ نمازی اپنے آگے کتنی اونچی چیز رکھے تو وہ سترہ بنتی ہے؟ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ» ([1])

’’اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصہ جتنی اونچی چیز سترہ بنتی ہے۔‘‘

اونٹ کے کجاوے کا پچھلا حصہ ڈیڑھ فٹ اونچا ہوتا ہے۔ عطاء بن ابی رباح ﷫سے پوچھا گیا کہ «مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا:

«ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ» ([2])

’’ایک ذراع یا اس سے زائد۔‘‘

انگلی سے لے کر کہنی تک کے حصے کو ذراع کہتے ہیں۔ایک ذراع ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے۔ کم از کم ڈیڑھ فٹ اونچی چیز سامنے ہوتو وہ سترہ بنتی ہے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اونٹ پر کجاوہ یا پالان رکھنے کے بعد جتنی اونچی لکڑی باقی بچتی ہے، شاید وہ مؤخرۃ الرحل ہے۔ لیکن ایسی بات نہیں ، کیونکہ وہ تو صرف ایک ہاتھ یعنی ایک بالشت یا اس سے تھوڑی سی زائد ہوتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر﷜ کی روایت میں ہے کہ کجاوے کو اٹھا کر نیچے رکھواور پھر اس کی پچھلی طرف رُخ کرکے ، اس کو سترہ بنا کر نماز پڑھو۔ ([3])یعنی اونٹ کا کجاوہ نیچے رکھ کر پھر اس کی پیمائش کرنی ہے کہ کتنی اونچائی ہے۔ وہ تقریباً ڈیڑھ فٹ یا اس سے زائد ہوتی ہے۔ اس سے کم ہوتو سترہ نہیں بنتا۔

سیدنا سبرہ بن معبد جُہَنِی ﷜ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«لِيَسْتَتِرْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ» ([4])

’’تم میں سے ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز میں سترہ بنائے، اگرچہ تیر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

تیر بھی تقریباً ڈیڑھ فٹ یا بسا اوقات اس سے زیادہ لمبا ہوتا ہے جب اس کو کمان میں رکھ کر کھینچتے ہیں تو اس کی لمبائی تقریباً اتنی ہی ہوتی ہے۔ لیکن وہ باریک سا ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی باریک ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ باریک چیز بھی سترہ بن جاتی ہے جب اس کی اونچائی ڈیڑھ فٹ ہو۔

ایک روایت میں یہ آتا ہے کہ اگر کسی آدمی کو سترہ نہیں ملتا تو وہ اپنے سامنے لاٹھی گاڑ لے، یہ بھی دستیاب نہ ہوتو لائن ہی کھینچ لے۔ ([5]) لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ اس لیے کم از کم ڈیڑھ فٹ اونچی چیز نمازی کے سامنے ہوتو پھر اس کا سترہ بنتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس کا حکم دیا ہے۔ لیکن آپﷺ سے بغیر سترے کے نماز پڑھنا بھی ثابت ہے۔ آپﷺ نے ایک بار فضا میں نماز پڑھی «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ([6]) اور ایک روایت میں ہے: «لَيْسَ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ» ([7]) یعنی کسی بھی چیز کو سترہ بنائے بغیر آپﷺ نے نماز ادا کی۔

اگر آپﷺ کا یہ عمل نہ ہوتا تو سترہ رکھنے کا حکم وجوب کےلیے ہوتا۔ اور سترہ رکھنا فرض اور واجب ہوجاتا۔ لیکن چونکہ آپﷺ نے حکم دیا ہے اور خود بغیر سترہ کے پڑھ کر دکھائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سترہ رکھنا افضل، بہتر اور مستحب ہے۔ لیکن فرض نہیں۔

فرض نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ سترہ کی بالکل پروا نہ کرے۔ نمازی پر لازم ہے کہ وہ اپنے آگے کوئی نہ کوئی چیز بطور سترہ رکھے۔ سترہ کے بغیر نماز نہ پڑھے۔ لیکن اگر کبھی کوئی بغیر سترہ کے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجائے گی۔مستحب ہونے کا یہ مطلب ہے۔

سیدنا ابو ذر﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ - إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ - الْمَرْأَةُ, وَالْحِمَارُ, وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ ... » الْحَدِيثَ. وَفِيهِ: «الْكَلْبُ الْأَسْوَدِ شَيْطَانٌ» ([8])

 ’’مسلمان آدمی کی نماز کو جب اس کے سامنے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصہ جتنی اونچی چیز نہ ہوتو اس کی نماز کو کچھ چیزیں کاٹتی ہیں۔ عورت، گدھا اور کالا کتا۔کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ ‘‘

یہ چیزیں نمازی کے آگے سے گزر جائیں تو اس کی نماز کٹ جاتی ہے، ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے نمازی آدمی کو چاہیے کہ اپنے آگے سترہ رکھنے کا اہتمام کرے۔ دیوار یا  ستون کے قریب کھڑے ہوجائیں۔ ہمارے ہاں لوگ فرض ادا کرنے کے بعد سنتوں کی ادائیگی کےلیے پیچھے جاکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ آگے جگہ موجود ہوتی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ دیوار یا ستون کے قریب ہوکر نماز پڑھیں تاکہ گزرنے والوں کو تکلیف اور پریشانی نہ ہو۔

اگر کوئی نمازی بیٹھا ہوا ہو اور اس کے پیچھے کوئی نماز شروع کرلے تو اسے چاہیے کہ دو منٹ انتظار کرلے اور اس کے آگے سے اٹھ کر نہ جائے۔ اس کے آگے بیٹھا رہے کیونکہ وہ اس کا سترہ ہے۔ اگر زیادہ ہی کوئی ایمرجنسی ہو تو پھر اس کے آگے کوئی کرسی یا کوئی  اور چیز رکھ کر پھر اٹھے۔ سترہ اس کے آگے رکھ کر اٹھے۔

اگر کسی نمازی نے کسی کرسی اور کسی اور چیز کو سترہ بنایا ہوا ہے تو اسے ہٹانا درست نہیں۔ یعنی کوئی آدمی اٹھے اور اس کا سترہ پیچھے کردے۔

سترہ ضروری اور لازم ہے لیکن فرض کے معنیٰ میں نہیں۔ لیکن بہرحال اس کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلّم ہے۔ اگر سترہ نہیں ہوگا تو نمازی کے آگے سے گزرنے والا بھی گناہگار ہوگا اور نمازی کے اجر اور ثواب میں نقص اور کمی واقع ہوگی۔ دونوں کےلیے نقصان دہ ہے۔ گزرنے والے کےلیے بھی اور نمازی کےلیے۔ اس لیے نمازی کو سترہ رکھنا چاہیے۔

گزرنے والے کےلیے شریعت نے کوئی حد مقرر نہیں کی کہ ایک، دو یا دس صفوں کے آگے سے ہوکر گزر جائے۔ حدیث کے الفاظ ہیں:

«بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي» ([9])

’’نمازی کے سامنے سے۔‘‘

اب چاہے نمازی مسجد کی آخری صف میں کھڑا نماز پڑھ رہا ہے اور مسجد کی پہلی صف میں کوئی آدمی اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے ہی گزرتا ہے۔ جو ایک یا دو صف کے آگے سے گزرنے کے قائل ہیں، ان کے پاس کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے۔ شریعت نے بالکل واضح، دو ٹوک اور صاف ستھرے الفاظ استعمال کیے ہیں  کہ نمازی کے آگے سے نہیں گزرنا۔ نمازی کے آگے سے کوئی گزرے گا تو اس کی نماز قطع ہوجائے گی۔ نمازی کے آگے سے کوئی گزرے گا تو گزرنے والا گناہگار ہوگا۔ وہ جتنا بھی آگے چلا جائے، وہ نمازی کے آگے ہی ہوگا۔ اس لیے نمازی سترہ کا اہتمام کرے اور غیر نمازی جنہیں ادھر اُدھر آنے جانے کی حاجت ہو وہ بھی خیال رکھیں کہ نمازی کے آگے سے نہ گزریں۔

_______________________________

([1])           مسلم (500)

([2])           أبو داود (686)

([3])           مسلم ()

([4])           الحاكم (1/ 252)، واللفظ الذي ساقه الحافظ لابن أبي شيبة (1/ 278)

([5])           أحمد (2/ 249و 255و 266)، وابن ماجه (943)، وابن حبان (2361)

([6])           البخاري (861)

([7])           ابن خزیمۃ (838)

([8])           مسلم (510)

([9])           البخاري (510)، ومسلم (507)

 

  • الثلاثاء PM 09:03
    2023-01-31
  • 1720

تعلیقات

    = 8 + 8

    /500
    Powered by: GateGold