اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

خوشبو دار مسجد

درس کا خلاصہ

رسول اللہﷺ نے گھروں میں مساجد بنانے اور انہیں صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنے کا حکم دیا



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

خوشبو دار مسجد

 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ بیان کرتی ہیں:

«أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ، وَأَنْ تُنَظَّفَ، وَتُطَيَّبَ»  ([1])

’’رسول اللہﷺ نے گھروں میں مساجد بنانے اور انہیں صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنے کا حکم دیا۔‘‘

گھروں میں مساجد بنانے کے حکم کی وضاحت کرتے ہوئے  امام سفیان بن عیینہ ﷫ فرماتے ہیں: «في القبائل» یعنی جہاں مسلمانوں کے چند گھر آباد ہیں یا کوئی قبیلہ موجود ہے، وہاں مسجد بنائی جائے۔

اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کےلیے کوئی جگہ مخصوص کی جائے جہاں خواتین نماز پڑھیں اور مرد حضرات بھی نوافل وہاں ادا کرسکیں۔ پھر اس جگہ کو صاف ستھرا اور خوشبودار رکھا جائے ۔

دونوں معانی درست ہیں۔

مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں کسی قسم کی بُو اور گند نہیں ہونا چاہیے۔ صفائی ستھرائی کا مکمل طور پر اہتمام ہونا چاہیے۔ اور یہ فریضہ ہر ہر آدمی کےلیے ہے۔ اس لیے جو مسلمان بھی نماز پڑھنے کےلیے مسجد میں آتا ہے، اس پر لازم ہے کہ اگر مسجد میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو گندگی یا بو کا باعث بن رہی ہے یا بن سکتی ہے تو اسے باہر نکال دے۔ سردیوں کے موسم میں جب جرابیں پہن کر بوٹ پہنے جاتے ہیں تو بسا اوقات پسینہ آنے کی وجہ سے جرابیں بدبودار ہوجاتی ہیں۔ ایسی جرابیں لے کر مسجد میں نہیں آنا چاہیے۔ کیونکہ مساجد کو صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔آپ خوشبو استعمال کرکے مسجد میں آئیں گے تو مسجد معطر ہوگی، جبکہ بدبودار لباس پہن کر آئیں گے تو مسجد میں بدبو پھیل جائے گی۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ» ([2])

’’جو بندہ کچا لہسن، کچا پیاز یا کچی مولی وغیرہ کھائے ، وہ ہماری مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے کیونکہ اللہ کے فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے اولادِ آدم تکلیف محسوس کرتی ہے۔‘‘

اس لیے ممکنہ حد تک مساجد کو بدبودار چیزوں سے بچایا جائے اور خوشبودار رکھا جائے۔

_______________________

([1])           أحمد (6/ 279)، وأبو داود (455)، والترمذي (594)

([2])           مسلم (564)

 

  • الثلاثاء PM 09:18
    2023-01-31
  • 1048

تعلیقات

    = 8 + 6

    /500
    Powered by: GateGold