اعداد وشمار
مادہ
مسجد کی صفائی اور زیبائش
درس کا خلاصہ
مسجد کی صفائی ستھرائی، اسے پاک صاف رکھنے اور اسے خوشبو دار رکھنے کا حکم تو موجود ہے لیکن اس کی تزیین وآرائش ، مسجد کو خوشنما اور خوبصورت بنانا اور اس میں نقش ونگار وغیرہ بنانا منع ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مسجد کی صفائی اور زیبائش
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا» ([1])
’’مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس گناہ کا کفارہ یہ ہے کہ اسے دفن کردیا جائے۔‘‘ یعنی وہ باقی نہ رہے۔
سیدنا انس بن مالک ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي، حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ» ([2])
’’میرے سامنے میری امت کے اجر پیش کیے گئے۔حتیٰ کہ اس تنکے کا اجر بھی پیش کیا گیا جسے کوئی آدمی مسجد سے نکالتا ہے۔‘‘
یعنی مسجد سے ایک تنکا بھی باہر نکال دینا باعثِ اجر ہے جس کا ثواب نبی کریمﷺ کا دکھایا گیا۔
یاد رہے کہ مسجد کی صفائی ستھرائی، اسے پاک صاف رکھنے اور اسے خوشبو دار رکھنے کا حکم تو موجود ہے لیکن اس کی تزیین وآرائش ، مسجد کو خوشنما اور خوبصورت بنانا اور اس میں نقش ونگار وغیرہ بنانا منع ہے۔سادہ اور صاف مسجد مطلوبِ شریعت ہے۔ نقش ونگار، خوبصورتی اور آرائش وزیبائش مسجد میں نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے نمازی کی توجہ نماز سے ہٹ جاتی ہے اور وہ مسجد دیکھنے میں ہی مگن رہتا ہے۔
سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ» ([3])
’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ مسجدوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنا شروع نہ کردیں گے۔‘‘
یعنی ایک بندہ کہے گا کہ میں نے فلاں مسجد بنائی ہے، دیکھو کتنی عالیشان ہے! دوسرا آدمی اس سے بھی بڑھ کر عالیشان مسجد بنانے کی کوشش کرے گا۔ مسجدیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کیا جائے گا۔نبی کریمﷺ نے اسے علاماتِ قیامت قرار دیا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ» ([4])
’’مجھے مساجد کو خوشنما بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔‘‘
صاف ستھرا اور خوشبو دار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن خوشنما اور خوبصورت بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:
«لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى» ([5])
’’تم ضرور مساجد کو خوشنما بناؤ گے جیسا کہ یہود ونصاریٰ نے کیا۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عباس نے یہ پیش گوئی آپﷺ کی اس پیش گوئی کے پیش نظر کی تھی:
«لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» ([6])
’’تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر عمل پیرا ہونا شروع ہوجاؤ گے اور ان کے طور طریقوں کو اپناؤ گے۔‘‘
یعنی یہود ونصاریٰ کے طریقوں پر چلنے لگو گے۔اس لیے مساجد کو خوشنما اور خوبصورت بنانا دین میں پسندیدہ نہیں ہے، بلکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔
مسجد سادہ، صاف ستھری اور خوشبودار ہونی چاہیے۔ صفائی ستھرائی کا جس قدر بھی اہتمام ہوجائے، اتنا ہی تھوڑا ہے۔ لیکن تزئین وآرائش اور زیبائش نہیں ہونی چاہیے۔مساجد کو ماڈل نہیں بنانا کہ لوگ دور دور سے صرف مسجد دیکھنے کےلیے آئیں۔ مساجد اس لیے بنائیں تاکہ لوگ نماز پڑھنے کےلیے آئیں کہ اس مسجد میں بندہ آرام وسکون اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ نمازی بیچارہ مسجد کی آرائش وزیبائش میں ہی کھویا رہے۔
___________________________
([1]) البخاري (415)، ومسلم (552)
([2]) أبو داود (4619، والترمذي (2916)، وابن خزيمة (1297)
([3]) أبو داود (449)، والنسائي (2/ 32)، وابن ماجه (739)، وأحمد (3/ 134 و 145 و152 و230 و283)، وابن خزيمة (1323)
([4]) أبو داود (448)، وابن حبان (1615)
([5]) أبو داود (448)، وابن حبان (1615)
([6]) البخاري (7320)، ومسلم (2669)
-
الثلاثاء PM 09:25
2023-01-31 - 1275





