اعداد وشمار
مادہ
مسجد میں تجارت اور گمشدگی کا اعلان
درس کا خلاصہ
مسجد میں تجارت کرنا ، مسجد میں گمشدگی کا اعلان کرنا ، یہ دونوں کام منع ہیں ۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مسجد میں تجارت اور گمشدگی کا اعلان
سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ, فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا» ([1])
’’تم میں سے کوئی آدمی کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو اسے کہے: ’’اللہ تجھے تیری گمشدہ چیز واپس نہ دے۔‘‘ کیونکہ مسجدیں اس کا م کے لیے نہیں ہو تی۔‘‘
معلوم ہوا کہ گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرنا منع ہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ, أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ, فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ» ([2])
’’جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھو تو کہو: ’’اللہ تیری تجارت کو نفع والا نہ کرے ۔ ‘‘
مسجد میں خرید و فروخت ، اور اس کی باتیں قطعاً منع ہیں ۔ کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ مسجد میں موجود آدمی کو کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہےاور و ہ کسی سے منگوا لیتا ہے۔ اس کو خرید و فروخت نہیں کہتے۔مثلاً اعتکاف کے دنوں میں معتکف کو کسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور وہ مسجد میں اس کا ریٹ معلوم کرکے وہ چیز دکان سے منگوا لیتا ہے۔خرید و فروخت یہ ہوتی ہےکہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوکر چیز فروخت کرے جس طرح مارکیٹنگ میں یہ کام ہوتاہے۔ یہ منع ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:اس کو بددعا دو کہ اللہ تیری تجارت کو نفع والا نہ بنائے ۔ مسجد میں تجارت کرنا ، مسجد میں گمشدگی کا اعلان کرنا ، یہ دونوں کا م منع ہیں ۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ ضالہ کا اعلان کرنا منع ہے، اور ضالہ اسے کہتے ہیں جس میں عقل نہ ہو، جس طرح کوئی جانور یا کسی کی گھڑی ہے یا اس طرح کی کوئی چیز۔ تو ضالہ کا اعلان کرنا منع ہے۔ جبکہ عقل والے جس طرح کوئی انسان ہو، اس کی گمشدگی پر عربی میں کہا جاتا ہے: مفقود۔ اس اعتبار سے اگر بچے گم ہوجائیں تو ان کے لیے مسجد میں اعلان کروایا جاسکتا ہے۔ اس کی کسی حد تک گنجائش ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر ضالہ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔
_________________________
([2]) الترمذي (1321) والنسائي في «عمل اليوم والليلة» (176)
-
الثلاثاء PM 09:35
2023-01-31 - 998





