اعداد وشمار
مادہ
مسجد میں جائز کام
درس کا خلاصہ
مسجد میں قیدی باندھنا، مناسب اشعار پڑھنا، مریض یا خادم مسجد کو رہائش دینا، جنگی مشقیں کرنا وغیرہ جائز ودرست ہے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
مسجد میں جائز کام
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا ابو ہریرہکہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا وہ ایک آدمی کو پکڑ کر لے آئے۔ اس آدمی کو مسجد کےستو ن کے ساتھ باندھ دیا۔ یہ مساجد، جس وقت مسلمانوں کا عروج تھا، تو صرف نماز کےلیے ہی نہیں تھیں، بلکہ مسلمانوں کے بڑے اہم امور ان میں سر انجام دئیے جاتے تھے۔ ایک مشرک پکڑا گیا اور اس کو مسجد کے ستون کےساتھ باندھ دیاگیا۔ ([1])
چونکہ ہر وقت مسجد مسلمانوں سے آباد ہوتی تھی اور مسلمان وہاں موجود ہوتے تھے، اس لیے قیدی کے بھاگنے کا کوئی خدشہ اور ڈر نہیں تھا۔
سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر مسجد نبوی میں حسان ابن ثابت کے پاس سے گزرے تو حسان مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے ۔ سیدنا عمر نے ان کی طرف ذرا غصہ سے دیکھا تو حسان فرمانےلگے:
«قَدْ كُنْتُ أَنْشُدُ, وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ» ([2])
’’میں مسجد میں اس وقت بھی شعر پڑھا کرتاتھا جب تم سے زیادہ بہتر اس مسجد میں موجود تھا۔‘‘
یعنی نبیﷺ کی موجودگی میں بھی میں مسجد میں اشعار پڑھا کرتا تھا۔اس سے معلو م ہوتا ہے کہ ایسے اشعار جو پڑھنا جائز ہیں، وہ پڑ ھ لے، نہ کہ عشقیہ غزلیں اور اشعار پڑھنا شروع کردے۔ وہ مسجد میں بھی منع ہیں اور مسجد سے باہر بھی منع ہیں ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:
«أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ, فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ, لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ» ([3])
’’سعد خندق کے دن زخمی ہو گئے تو نبی کریم ﷺ نے اس کےلیے خیمہ مسجد میں ہی لگا دیا تاکہ وہ قریب ہی ہو اورمیں اس کی عیادت کرلیا کروں۔‘‘
جنگ کے زخمی کے لیے مسجد میں ہی خیمہ لگا لیا۔تاکہ اس کے لیے بھی مسجد میں رہتے ہوئے نماز پڑھنےکی آسانی ہو۔یعنی مسجد میں اگر بیماروں اور مریض لوگوں کے لیے بندوبست ہوجائے تو بھی شریعت میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں:
«رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي المَسْجِدِ»([4])
’’نبیﷺ مجھے پردہ کرتے تھے اور میں دیکھتی کہ مسجد میں حبشی کھیلا کرتے تھے۔‘‘
حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اس وقت کے جنگی کھیل یعنی چھوٹے نیزوں اوربرچھوں کے ساتھ نشانہ بازی مسجد کے اندر کی جاتی تھی ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہکہتی ہیں : ایک سیاہ فام لونڈی تھی۔ اس کا خیمہ مسجد میں تھا ۔ وہ میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ اپنے قصے کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ بڑی طویل حدیث ہے ۔ ([5])
بہرحال مساجد میں یہ کام سرانجام دینا کوئی منع نہیں ہے جو کام مسجد سے باہر جائز ہے، وہ مسجد کے اندر بھی جائز ہے۔ سوائےاس کام کے جس کے ناجائز ہونے کی کوئی دلیل موجود ہو۔ جس طرح تھوکنا باہر جائز ہےاور مسجد میں منع اور ناجائز ہے۔ ([6])اسی طرح پیشاب کرنا مسجد سے باہر جائز ہے، لیکن مسجد میں جو جگہ نماز پڑھنے کے لیے مختص کردی جائے، وہاں منع ہے۔([7])اس کے لیے شرعی دلائل موجود ہیں۔
_______________________
([1]) البخاري (4372)، ومسلم (1764)
([2]) البخاري (3212)، ومسلم (2485)
([3]) البخاري (463)، ومسلم (1769)
([6]) البخاري (415)، ومسلم (552)
([7]) البخاري (219)، ومسلم (284)
-
الثلاثاء PM 09:59
2023-01-31 - 1039





