اعداد وشمار
مادہ
قبروں کو مسجد بنانا
درس کا خلاصہ
قبرستان میں نماز پڑھنا یا مسجد میں قبر بنانا منع ہے۔
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
قبروں کو مسجد بنانا
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
«قَاتَلَ اللَّهُ اليَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» ([1])
’’اللہ یہودیوں کو ہلاک کرے۔ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا تھا۔‘‘
ایک روایت کےالفاظ ہیں:
«لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» ([2])
’’اللہ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے۔انہوں نےاپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا ۔‘‘
سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہود ونصاریٰ پر لعنت کی کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا اور فرمایا:
«أُولَئِكَ قَوْمٌ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ العَبْدُ الصَّالِحُ، أَوِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ»([3])
’’ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتاتو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے۔ اور اس میں ان کے مجسمے بنا لیتے۔یہ مخلوق میں سے سب سے بد ترین لوگ ہیں۔‘‘
یعنی وہ لوگ جو نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں اورقبرستان کو مسجد کا درجہ دے دیتے ہیں ۔
ایک روایت کے الفاظ ہیں:
«أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ» ([4])
’’تم سے پہلے لوگوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنالیا تھا ۔‘‘
ان روایا ت سے ایک تو یہ معلوم ہوتا ہے اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا حرام ہے۔یہ اگر سجدہ عبادت ہو تو شرک ہے اور اگر تعظیمی سجدہ ہوتو شرک نہیں، لیکن ہماری شریعت میں حرام ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس عمل پر لعنت فرمائی ۔
یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ کار تھا کہ وہ نیک لوگوں کی قبروں پر مزار بناتے اور جاکر سجدہ ریز ہوتے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے ہلاکت کی بد دعا کی ہے اور ان پر لعنت فرمائی، جس سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ کام شریعت اسلامیہ میں نہایت ناپسندیدہ ہے۔ کسی بھی نیک آدمی کی قبر پر مزار بنا لینا اور اس کے اردگرد باڑ بنالینا،یہ سب کچھ منع ہے ۔نبیﷺ نے ان کاموں سے منع کیا ہے ۔
اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ جہاں قبر ہو وہاں نماز پڑھنا یا سجدہ کرنا بھی شریعت اسلامیہ نے منع کیاہے ۔جہاں قبریں ہوں، وہاں سجدے والی نماز ادا کرنا منع ہے۔ نماز جنازہ ہوسکتاہے، لیکن کوئی فرض اور نفل نماز پڑھنا منع ہے اور جہاں قبر موجود ہو، وہاں پر مسجد بنا لینایا مسجد کے اندر قبر بنا لینا، یہ سارے کا م ان احادیث کی روشنی میں حرام ، ناجائزاور منع ہیں ۔
_________________________________
([1]) البخاري (437)، ومسلم (530)
-
الثلاثاء PM 10:09
2023-01-31 - 928





