اعداد وشمار
مادہ
تحیۃ المسجد
درس کا خلاصہ
مسجد کے آداب کا حصہ ہے کہ مسجد میں آنے والاجب مسجد میں آئے، کسی بھی کام سے ،اگر اس نے بیٹھنا ہے تو کوئی نہ کوئی نماز ضرور ادا کرے
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
تحیۃ المسجد
سیدنا ابو قتادہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ» ([1])
’’جب بھی تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے وہ نہ بیٹھے ۔‘‘
اسے تحیۃ المسجد کہا جاتاہے۔یہ مسجد کے آداب کا حصہ ہے کہ مسجد میں آنے والاجب مسجد میں آئے، کسی بھی کام سے ،اگر اس نے بیٹھنا ہے تو کوئی نہ کوئی نماز ضرور ادا کرے، سنتیں یا فرض اگر ادا کرنےکا وقت نہیں ہے تو دو رکعت نوافل ہی ادا کرلے۔ اگر اس نے سنتیں ادا کرنی ہیں تو وہ ادا کرے۔ مقصودیہ ہے کہ بیٹھنے سے پہلے کوئی نہ کوئی نماز ضرور ادا کرے ۔ مثلاً ایک آدمی فجر کی نماز کے لیے وضو کرکے مسجد میں آتاہے ۔ آ کر فجر کی دو سنت ادا کرتاہے یا مسجد میں آتاہے اور جماعت کھڑی ہوتی ہےاور وہ جماعت کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اب اس نے جو فجرکی سنتیں پڑھیں، یا آتے ہی جماعت کے ساتھ مل گیااور فجر کے فرائض ادا کرلیے،یہی اس کے لیے تحیۃ المسجد بھی ہے ۔ تحیۃ المسجد الگ سےکوئی خاص نماز نہیں ہے بلکہ اس میں مطلوب و مقصود یہ ہے کہ جب بھی بندہ مسجد میں آئے تو بیٹھنے سے پہلے کوئی نہ کوئی نماز ضرور پڑھ لے۔ یہ مسجد کاادب ہے اورنبی کریم ﷺ کا حکم ہے اور جس کام کا حکم نبی کریم ﷺ دے دیں، وہ فرض ہوجاتا ہے ۔
__________________
([1]) البخاري (11639)، ومسلم (714)
-
الاربعاء AM 10:40
2023-02-01 - 994





