اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

سنت مؤکدہ

درس کا خلاصہ

جن سنتوں کو مؤکدہ قرار دیا گیاہے،وہ کل بارہ سنتیں ہیں جو پانچوں نمازوں سے پہلے اور بعد میں پڑھے جانے والے نوافل ہیں۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

سنت مؤکدہ

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

نماز سے  پہلے اور بعد میں جو نوافل پڑھے جاتے ہیں، جنہیں سنتیں کہتے ہیں، ان کی اہل علم نے تقسیم کی ہوئی ہے۔ کچھ سنتوں کو سنت مؤکدہ کہتے  ہیں اور کچھ کو  غیر مؤکدہ کہتے ہیں ۔ مؤکدہ کا مطلب ہوتاہے: اس کی تاکید کی گئی ہے اور غیر مؤکدہ کا مطلب کہ اس کی تاکید نہیں کی گئی ۔ اصل میں غیر مؤکدہ کوئی لفظ نہیں ہے۔ اصل لفظ ہے مؤکدہ ، اور غیر مؤکدہ جو مؤکدہ کے علاوہ ہیں۔ اب جن سنتوں کو مؤکدہ قرار دیا گیاہے،وہ کل بارہ سنتیں ہیں جو پانچوں نمازوں سے پہلے اور بعد میں پڑھے جانے والے نوافل ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو باقی نوافل ہیں، ان میں سے کسی کی تاکید نہیں۔ اس کی مثال اس طرح سمجھ لیں کہ جیسے عشرہ مبشرہ  اصطلاح بہت مشہور ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس سے مراد وہ دس صحابہ ہیں جنہیں جنت کی بشارت دی گئی۔ اس کایہ مطلب نہیں کہ ان دس کے سوا کسی صحابی یا صحابیہ کو نبی ﷺ نے جنت کی بشارت دی ہی نہیں۔یہ مطلب نہیں ہے۔ اور  بھی کئی صحابہ کانام لے کر رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دی ہے، لیکن ان دس صحابہ کو عشرہ مبشرہ بالجنۃ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نےایک ہی موقع پر  ان دس کےدس افراد کا نام لے کر سب کو اکھٹے بشارت دی  ہے۔ اس لیے یہ ایک اصطلاح بن گئی۔ ان کو الگ الگ بھی نبی ﷺ  نے بشارت دی۔ ان کے علاوہ کئی ایک صحابیات ہیں اور بہت سے صحابہ کرا م ہیں جن کو نبی ﷺ نے مختلف اوقات میں جنت کی بشارت دی ۔

بالکل یہی معاملہ سنت مؤکدہ والا ہے۔ یہ اصطلاح ان سنتوں کے لیے ہےجن کی فضیلت آپ ﷺ نے اکھٹی ایک ہی دفعہ  بیان کردی۔ اس کا یہ معنیٰ ہرگزنہیں  کہ ان سنتوں کے علاوہ باقی مؤکدہ نہیں، یا ان کی تاکید، یا کوئی فضیلت نہیں ۔

سیدنا عبداللہ ابن عمر ﷜ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے دس رکعت  یاد کیں: دو رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد ، دو رکعتیں مغرب کے بعد ، دو رکعتیں عشاء کے بعد  اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔([1])

اس روایت میں دس رکعتوں کاذکرہے۔ آپ ﷺ ان کو باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے ۔

ام   المومنین ام حبیبہ﷞ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ صَلَّى اثْنَتَا عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ» ([2])

’’جو بندہ دن رات میں بارہ رکعتیں ادا کرے گا، فرض نماز کے علاوہ، اس کے لیے ان بارہ رکعتوں کے بدلے میں جنت میں ایک گھر بنے گا ۔‘‘

اس کی وضاحت ام حبیبہ﷞ہی کی روایت  سے ہوتی ہے، فرماتی ہیں: چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں ظہرکے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔([3])

ان بارہ رکعتوں کا آپ ﷺ نے اکٹھا ذکر کیا اور فرمایا: ’’جو بندہ ان پردوام کرے گا ، ہمیشگی اختیار کرے گا  تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا ۔‘‘

اب چونکہ ان بارہ رکعتوں کی فضیلت اکھٹے ذکر ہوئی تو اہل علم نے ان  کے لیے ایک اصطلاح قائم کردی کہ یہ  سنتیں مؤکدہ ہیں  ۔اور سنتیں نہ سہی، بندہ کم از کم یہ تو پڑھ لے۔ ان کی اہمیت  ہے کہ بندہ ان پر ہمیشگی کرے تو ان کےلیےجنت میں گھر بن جاتاہے۔

________________________________

([1])           البخاري (1180)، ومسلم (729)

([2])           مسلم (728)

([3])           الترمذي (415)

  • الاربعاء AM 10:46
    2023-02-01
  • 669

تعلیقات

    = 5 + 5

    /500
    Powered by: GateGold