اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

نوافل كی اہمیت

درس کا خلاصہ

نفلوں کے ذریعے فرضوں میں رہ جانی والی کمی پوری کی جائے گی۔ لہذا نوافل بھی فرائض کی طرح اہمیت رکھتے ہیں۔



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

نوافل كی اہمیت

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی﷜ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے کہا:

«سَلْ» فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ» قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ» ([1])

’’مانگ کیا مانگنا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی: اے  اللہ کے رسول! میں جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں ۔نبی ﷺ  نے پوچھا: ’’کیااس کے علاوہ کچھ اور بھی مانگنا ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری اور خواہش بھی یہی ہے ۔

رسول اللہ ﷺ چاہتے تو ان کے لیے دعا فرما دیتے اور ہر نبی مستجاب الدعوات ہوتا ہے، لیکن آپ ﷺ نے اس کےلیے دعا نہیں کی، بلکہ وہ طریقہ بتا دیا جو قیامت تک آنے والے اہل ایمان کےلیے کارگر ہے کہ اگر وہ چاہتے  ہیں کہ ان کو نبیﷺ کا ساتھ نصیب ہو تو وہ یہ کا م کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر زیادہ سے زیادہ سجدے کرکے میری مدد کر۔‘‘

زیادہ سے زیادہ سجدے سے مراد ہے نوافل زیادہ سے زیادہ پڑھ ۔

سیدنا ابو ہریرہ﷜کہتے ہیں کہ نبی  کریم ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ»، قَالَ: " يَقُولُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَزَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَاكُمْ." ([2])

’’قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نماز کا سوال کیاجائے گا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ارشاد فرمائے گا، حالانکہ وہ زیادہ بہتر جانتا ہے،  و ہ فرشتوں سے کہے گا: ’’میرے بندے کی نماز پوری ہے یا اس میں کوئی کمی ہے؟ اگر تو پور  ی ہے تو اس کے لیے پوری پوری لکھ دی جائے گی اور کوئی کمی کوتاہی ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو کہ میرے بندے کےکوئی نوافل ہیں؟ اگر بندے نے کوئی نفلی نمازیں بھی پڑھی ہوں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ’’میرے بندے کےفرائض میں جو  کمی ہے، وہ نوافل میں سے پوری کردو۔ پھر باقی اعمال بھی اسی طریقے سے لیے جائیں گے ۔‘‘

لہٰذا جو بندہ صرف فرائض پر اکتفا کرتا ہے اور سنتیں یا نوافل ادا نہیں کرتا، اگر اس کے فرائض میں کمی رہ گئی تو وہ قیامت کے دن اپنے فرائض میں رہ جانے  والی کمی کہاں سے پوری کرے گا؟اس اعتبار سے نوافل کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔علاوہ ازیں پہلے اور  بعد والی سنتیں فرائض کی حفاظت کا بھی باعث ہیں، کیونکہ جو کوشش کرکے فرض نماز سے پہلے سنتوں کا اہتمام کرتا ہے، اگر کبھی کسی وجہ سے لیٹ بھی ہو گیا تو نماز باجماعت تکبیر اولیٰ سے ادا کر لےگا ۔ اور جس کا ٹارگٹ  ہی یہ ہو کہ عین جماعت کے وقت پہنچنا ہے ، وہ کبھی تکبیر اولیٰ سے یا کبھی رکعت سے بھی رہ سکتا ہے۔اس اعتبار سے نوافل یا سنتیں فرائض کی حفاظت کا سبب بھی ہیں اور ساتھ ساتھ بہت بڑے اجر و ثواب کا باعث بھی ہیں ۔

__________________________

([1])           مسلم (489)

([2])           أبو داود (864)

 

  • الاربعاء AM 10:53
    2023-02-01
  • 674

تعلیقات

    = 4 + 6

    /500
    Powered by: GateGold