اعداد وشمار

0
سافٹ ویر
14
اسباق
47
قرآن
15
تعارف
14
کتب
283
فتاوى
58
مقالات
188
خطبات

مادہ

فجر کی سنتیں

درس کا خلاصہ

فجر کی سنتیں دنیا وما فیہا سے بہتر ہیں اس لیے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں چھوڑیں



  آڈیو فائل ڈاؤنلوڈ کریں


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!

فجر کی سنتیں

محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ

فرض نماز اور اس سے پہلے اور بعد میں پڑھی جانے والی سنتیں یا نوافل کل ملا کر  اڑتالیس رکعتیں   بنتی ہیں۔ فجر کی چاررکعتیں: دو سنت ، دو فرض۔ ظہر کی بارہ رکعتیں: چار فرض، چار فرائض  سے پہلے اور چار بعد میں سنتیں۔ عصر کی دس  رکعتیں: چار فرض، چار فرائض سے پہلے اور دو فرائض کے بعدسنتیں۔ مغرب  کی  سات رکعتیں: تین فرض، دو فرائض سے  پہلے اور دو فرائض کے بعد  سنتیں۔ عشاء کی پندرہ  رکعتیں: چار فرض، دو رکعتیں فرائض سے پہلے، چار رکعتیں فرائض کے بعد پھر تین وتر اور وتروں کے بعد دو نوافل۔ یہ تمام ملاکر کل اڑتالیس رکعتیں  بنتی ہیں ۔ ان  میں سے   عشاء سے پہلے  والی دو رکعتوں اورعصر کے بعد والی دو رکعتوں کے سوا  باقی تمام رکعتوں کی  فضیلت  اور اہمیت  احادیث میں بیان ہوئی ہے۔

اب ان کو تھوڑا سا  تفصیل کے ساتھ سمجھ لیں۔

 فجر کی سنتوں  کے  بارے میں ام المومنین سیدہ عائشہ  صدیقہ﷞ فرماتی ہیں:

«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ» ([1])

’’رسول اللہ ﷺ  فجر کی دو رکعتوں کی جتنی پابندی کرتے تھے، نوافل میں سے اور کسی نفل کی   اتنی زیادہ  پابندی  نہیں کرتے تھے ۔‘‘

رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» ([2])

’’فجر کی سنتیں دنیا اور ما فیہا سے بہتر  ہیں۔‘‘ 

نبی ﷺ  ان سنتوں کی اس قدر پابندی کیا کرتے تھے   کہ ایک بار آپﷺ سفر  میں تھے۔  پڑاؤ  کیا اور سوئے رہ گئے۔ اٹھ کر پہلے فجر کی سنتیں ادا کیں، اس کے بعد باجماعت نماز فجر ادا کی۔([3])

فجر کی سنتیں نبی ﷺ  زیادہ  لمبی نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ ([4])

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ﷞ فرماتی ہیں:

"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ بِأُمِّ الكِتَابِ؟" ([5])

’’ نبی ﷺ فجر کی دو سنتیں  ہلکی پڑھتے، حتیٰ کہ میں کہتی: (قیام اتنا مختصر کیا ہے) کیا آپ ﷺ نے سورہ فاتحہ بھی پڑھی ہے  ؟‘‘

یعنی انتہائی اختصار کرتے ۔سیدنا ابو ہریرہ ﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ فجر کی دو سنتوں میں ‹قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ›اور ‹قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ› پڑھتے تھے ۔ ([6])

اس  سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ  فجر کی دو سنتوں میں فاتحہ بھی پڑھتے اور فاتحہ کے بعد قراءت بھی کرتے تھے، لیکن نسبتاً رفتار ذرا تیز کرتے جس کی وجہ سے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞کو یہ شک ہوتا کہ آپﷺ نے زیادہ  ہی مختصر کردی  ہے ۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ﷞ ہی خود بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ فجر کی دو سنتوں میں سے پہلی رکعت میں یہ آیت پڑھتے تھے: ‹قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا› [البقرۃ: 136] اور دوسری رکعت میں ‹آمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ› [آل عمران: 52] ([7])

یعنی نبی ﷺ  ایک ایک، دو دو آیتیں پڑھ کر رکوع کرلیاکرتے  تھے۔ قراءت میں تخفیف کرتے تھے، لیکن ان رکعتوں کو چھوڑتے نہیں تھے۔

____________________________

([1])           مسلم (724)

([2])           مسلم (725)

([3])           مسلم (681)

([4])           البخاري (1170)

([5])           البخاري (1171)

([6])           مسلم (726)

([7])           مسلم (727)

  • الاربعاء AM 11:31
    2023-02-01
  • 873

تعلیقات

    = 4 + 7

    /500
    Powered by: GateGold