اعداد وشمار
مادہ
فجر کی سنتوں کی فضیلت
درس کا خلاصہ
سنن رواتب میں سب سے زیادہ فضیلت کی حامل یہ دو رکعتیں ہیں
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، أما بعد!
فجر کی سنتوں کی فضیلت
محمد رفیق طاہر عفا اللہ عنہ
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:
«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لاَ يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الغَدَاةِ»([1])
’’نبیﷺ ظہر سے پہلے والی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے والی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔‘‘
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ہی فرماتی ہیں:
«لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الفَجْرِ» ([2])
’’نبی ﷺ نفلی نماز میں سے کسی نماز کااتنا زیادہ اہتمام نہیں کرتے تھے جتنا زیادہ فجر کی دو سنتوں کا کیا کرتے تھے۔‘‘
فجر کی دو سنتیں اگرچہ نوافل میں سے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ ان کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ہی فرماتی ہیں:
«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ بِأُمِّ الكِتَابِ؟» ([3])
’’نبیﷺ فجر سے پہلے کی سنتیں بالکل ہلکی پھلکی پڑھا کرتے تھے حتیٰ کہ میں پوچھتی کہ کیا آپ ﷺ نے سورہ فاتحہ بھی پڑھی ہے؟‘‘
یعنی عام طور آپ ﷺ سورہ فاتحہ پڑھنے میں تھوڑا سا وقت لگاتے تھے اور فجر کی دو سنتوں میں نسبتاً کم وقت لگاتے تھے ۔
سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» ([4])
’’ فجر کی دو سنتیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں ۔‘‘
فجرکی دو رکعتیں ان رکعتوں میں شامل ہیں جن کے پڑھنے کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا ہے:
«مَنْ صَلَّى اثْنَتَا عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ» ([5])
’’جو دن رات (کی پانچوں نمازوں کےساتھ) بارہ رکعتیں ادا کرتا ہے اس کےلیے جنت میں گھر بنادیا جاتاہے۔‘‘
المختصر فجر کی دو رکعتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ نبیﷺ ان کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔
__________________________________
([1]) البخاري (1182)، ومسلم (730)
-
الاربعاء PM 12:11
2023-02-01 - 647





